انڈیا: مذبح خانوں پر پابندی سے کاروباری پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi prakash
Image caption سلیمہ کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو چند دنوں کے بعد کھانے کے لالے پڑ جائیں گے

انڈيا کی جن ریاستوں میں غیر قانونی مذبح خانوں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہاں زندگی کے مختلف شعبوں پر اس کے کئی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

سختگیر ہندو نظریات کی حامل جماعت بی جے پی نے ریاست یوپی اور جھارکھنڈ میں غیر قانونی مذبح خانوں کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس حکم کے بعد گوشت کی فراہمی مشکل ہوگئی ہے، جس کے سبب کئی افراد کو اپنے ہوٹل بند کرنے پڑ رہے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ برا اثر اس کاروبار سے وابستہ مزدوروں کی روزی روٹی پر پڑا ہے۔

جھارکھنڈ کے ریاستی دارالحکومت رانچی میں قریشی محلے کی سلیمہ خاتون کی چار بیٹیاں ہیں۔

ان کا بیٹا مذبح خانے میں کام کرتا تھا تو کچھ پیسوں کی کمائی ہو جاتی تھی۔ دال روٹی کا خرچ اسی سے چلتا رہا ہے لیکن اب یہ بند ہوگئے ہیں تو بیٹا بھی بے روزگار ہوگيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور بی جے پی کی حکومتوں کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی جاری ہے

سلیمہ کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو چند دنوں کے بعد کھانے کے لالے پڑ جائیں گے۔

سلیمہ خاتون نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا: 'کیا کر سکتے ہیں؟ غربت کی وجہ سے بچوں کو پڑھا لکھا نہیں سکے۔ کوئی کاروبار بھی نہیں ہے۔ کوئی اور کام آتا نہیں ہے۔ ہماری تو قسمت پر تالا لگ گیا ہے۔ اب کیا کریں؟ کیا کھائیں؟'

ان کی پڑوسی روميلا خاتون کے شوہر کا چند برس پہلے انتقال ہو گيا تھا۔ بیٹا مذبح خانے میں کام کرتا تھا جس سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم لوگ بھوک اور دکھ سے پریشان ہیں۔ گھر میں آٹا بچا تھا، تو آج کھانا بن گیا۔ کل کس طرح کھائیں گے، اس کا پتہ نہیں ہے۔'

گوشت کے تاجر تبریز قریشی نے بتایا کہ حکومت کے اس فرمان کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi Prakash
Image caption جھارکھنڈ میں بھی بیشتر مذبح خانے بند پڑے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ پورے جھارکھنڈ میں برسوں سے لائسنز کو رینیو نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت خود اس کو ٹالتی رہی ہے۔ ایسے میں رانچی کے تمام مذبح خانے غیر قانونی قرار پائے۔ پوری ریاست میں قانونی طور درست مذبح خانوں کی تعداد برائے نام ہوگی۔

تبریز قریشی نے بی بی سی سے کہا : 'حکومت کا یہ فیصلہ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ ہمیں اپنے لائسنز کی تجدید یا پھر نئی درخواست کے لیے كم سے کم دو ماہ کا وقت دینا چاہیے تھا تاکہ، ہمارا روزگار متاثر نہ ہوتا۔'

وہ کہتے ہیں: '72 گھنٹے کے اندر دکانوں کو بند کرنے کا حکم دینا مناسب نہیں ہے۔ ہمیں کچھ بھی سوچنے یا کرنے کے لیے حقیقی طور پر صرف 36 گھنٹے ہی مل پائے۔'

ادھر جھارکھنڈ کے داخلہ سکریٹری ایس کے جی رہاٹے نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ کہا کہ ان کے پاس اس کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ ریاست میں کتنے قانونی طور پر درست مذبح خانے ہیں۔

اس دوران حکومت نے اس سے متعلق مقامی اخبارات میں وزیر اعلی رگھوور داس کی تصویر کے ساتھ ایک اشتہارات شائع کروایا ہے۔

لیکن اس سے بھی یہ واضح نہیں ہوتا ہے کہ جھارکھنڈ میں کتنے مذبح خانے قانونی طور پر درست ہیں۔

اسی بارے میں