'لوگ ہمیں آدم خور سمجھتے ہیں'

Image caption چند روز قبل ایک مشتعل ہجوم نے افریقی طلبا کو بری طرح سے مارا پیٹا تھا

انڈیا کے دارالحکومت دلی سے متصل نوئیڈا کے علاقے میں افریقی نژاد طلبا پر ہونے والے حملوں سے سیاہ فام طلبا دہشت زدہ ہیں اور کچھ تو فوری طور پر اپنے ملک واپس جانے کو تیار ہیں۔

تین روز قبل ایک مشتعل ہجوم نے ان طلبا کو بری طرح سے مارا پیٹا تھا۔

اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے بہت سے مقامی لوگوں کے خلاف رپورٹ درج کی تھی اور اس معاملے میں پانچ افراد کو حراست میں بھی لیا گيا ہے۔

لیکن علاقے کے مختلف کالجوں میں پڑھنے والے افریقی طلبا کو اپنی حفاظت کی فکر ہے اور ان میں سے بیشتر گذشتہ تین دنوں سے اپنے گھروں یا ہاسٹلز سے باہر نکلنے میں ڈرتے ہیں۔

ریڈیوگرافی کی تعلیم حاصل کرنے والے والی طالبہ اسبیلا نے بی بی سی سے بات چيت میں بتایا کہ 'کچھ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ افریقی طالب علم آدم خور ہوتے ہیں اور ہمیں بھی اسی طرح شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔'

Image caption افریقی طلبا کو اپنی حفاظت کی فکر ہے اور ان میں سے بیشتر گذشتہ تین دنوں سے اپنے گھروں، ہاسٹلز یا کرائے مکانوں سے باہر نکلنے میں ڈرتے ہیں

الیکٹریکل انجینئرنگ پڑھنے والے نجیب کا کہنا تھا: 'بنگلور کے بعد اس طرح کے واقعات دوبارہ ہونے کے بعد سے بہت سے طلبا نے اپنی تعلیم درمیان میں ہی ترک کر کے گھر واپس جانے کا من بنا لیا ہے۔'

سیاہ فام طلبا کی عام شکایت یہ ہے کہ ان کے ساتھ نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہوتا ہے اور نفرت کی نگاہوں نے سے دیھکا جا تا ہے۔

نوئیڈا میں یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئي جب بارہویں کلاس کا ایک مقامی طالب علم لا پتہ ہوگيا تھا۔

شکایت کے بعد پولیس پڑوس میں رہنے والے بعض نائیجریائی طالب علموں کو پوچھ گچھ کے لیے لے گئی اور پھر لا پتہ ہونے والے طالب علم کی واپسی کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا۔

Image caption نائیجیریا کے طالب علم اس کی قانونی عمل کے تحت جانچ کی مانگ کر رہے ہیں اور تشدد کی مذمت کر رہے ہیں

لیکن چند گھنٹوں بعد ہی اس طالب علم کی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب سے مشتعل ہجوم نے افریقی طلب پر حملہ کیا اور انھیں بری طرح سے مارا پیٹا۔

نائیجیریا کے طالب علم اس کی قانونی عمل کے تحت جانچ کی مانگ کر رہے ہیں اور تشدد کی مذمت کر رہے ہیں۔

اسابیلا کا کہنا تھا: 'ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ یہ ہے کیونکہ ہم سیاہ فام ہیں۔ مہنگی سبزی خریدنے سے لے کر مہنگے کرائے کے کمرے لینے تک ہم بس اسی بات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔'

انڈيا میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب افریقی نژاد طلبا کے ساتھ مارپیٹ ہوئی ہو۔ اس سے قبل بھی متعدد بار ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ہر بار حکومت بس سخت کارروائی کی بات کر تی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں