بنگلہ دیش: ’شدت پسندوں کی خودکشی‘، آٹھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کارروائی کے بعد پولیس نے اس جگہ کو ایک ہولناک منظر سے تعبیر کیا

بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جن مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کا سکیورٹی فورسز نے محاصرہ کر رکھا تھا، انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں ایک بچے سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مشتبہ شدت پسند گذشتہ دو روز سے شمال مشرقی شہر سلہٹ کے مولوی بازار کی ایک عمارت میں مورچہ بند تھے۔

پولیس حکام نے مقامی اخبار کو بتایا کہ شدت پسند فرار ہونے میں جب ناکام ہوگئے تو انھوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ایک دستی بم سے دھماکہ کیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مقامی جہادی گروپ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

پولیس نے مقامی اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ کو بتایا ہے کہ بم کو ناکارہ بنانے والا دستہ گرینیڈز اور بموں کو، جو عمارت کے فرش پر بکھرے ہوئے پڑے تھے، ناکام بنانے کے بعد جب شدت پسندوں کے ٹھکانے میں داخل ہوا تو اسے وہاں لاشیں پڑی ہوئی ملیں۔

اخبار کے مطابق مذکورہ عمارت کے احاطے میں سکیورٹی فورسز کے داخل ہونے تک وہاں سے مستقل گولی باری اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آخر ایک بچہ اس تشدد کی زد میں کیسے آگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مشرقی شہر کوملا میں بھی ایک عمارت پر سکیورٹی فورسز کی نظریں لگي ہیں جس میں چھپے شدت پسندوں کو فوری طور باہر نکالنے کے لیے کسی بھی وقت کارروائی کا آغاز ہوسکتا ہے

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی علاقے میں ہی مشتبہ شدت پسندوں کے ایک اور ٹھکانے کا پتہ چلا ہے جس کا سکویرٹی فورسز نے بدھ کے روز سے ہی محاصرہ کر رکھا ہے۔

اس دوران مشرقی شہر کوملا میں بھی ایک عمارت پر سکیورٹی فورسز کی نظریں لگي ہیں جس میں چھپے شدت پسندوں کو فوری طور باہر نکالنے کے لیے کسی بھی وقت کارروائی کا آغاز ہوسکتا ہے۔

گذشتہ سنیچر کو سلہٹ میں ہی جب سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی تو ان کے دو بم حملوں میں دو پولیس اہلکار اور چار عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

بنگلہ دیش میں شدت پسندی میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بیشتر افراد کو یقین ہو چلا تھا کہ شاید گذشتہ برس ڈھاکہ کے کیفے کے محاصرے کے بعد سے سکیورٹی فورسز نے اسلامی شدت پسندی پر قابو پالیا ہے۔

دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی جانب سے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے تاہم بنگلہ دیشی پولیس اس سے اتفاق نہیں کرتی اور پولیس کا کہنا ہے کہ اصل میں ان کاررائیوں کے پیچھے کالعدم تنظیم جمعیت المجاہدینِ بنگلہ دیش کا ہاتھ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ان حالیہ خود کش دھماکوں کے پیچھے اسلامی شدت پسندوں کا ہی ہاتھ تھا، تو یہ بنگلہ دیش میں شدت پسندوں کے خلاف حکومتی کارراوئیوں کا ایک نیا مرحلہ ثابت ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں