انڈیا: ’ماہواری کی جانچ کے لیے 70 طالبات کو بے لباس کیا گیا‘

طالبات تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں جس کے مطابق اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے ایک سکول میں 70 طالبات کو مبینہ طور پر کپڑے اتار کر ان کی ماہواری کی جانچ کی گئی۔

واقعہ کھتولی علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں واقع سکول میں پیش آیا۔

واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد ضلعے کے بنیادی تعلیم افسر کو انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ ضلعی مجسٹریٹ دنیش کمار سنگھ نے رپورٹ کے بعد وارڈن سریكھا تومر کو برخاست کر دیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ تفتیشی کے مطابق ہاسٹل کی طالبات کی جانب سے عائد الزامات کی تصدیق ہوئی۔ تاہم سریكھا تومر نے الزام عائد کیا کہ سکول کی ہی کچھ استاتذہ کی سازش کی وجہ سے انھیں پھنسایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کو بتایا گیا کہ 29 مارچ کو کستوربا گاندھی رہائشی سکول میں صفائی کے حوالے سے ہاسٹل کی وارڈن کی قیادت میں طالبات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

واقعہ کی معلومات طالبات نے ہی اپنے اہل خانہ کو دی۔ اس کے بعد بہت سے والدین سکول پہنچ گئے اور سکول انتظامیہ سے اس کی شکایت کی. بتایا گیا ہے کہ قریب 70 طالبات کی جانچ ایک ساتھ کی گئی۔

پہلے تو سریکھا تومر نےاخباری نمائندوں کو بتایا کہ غسل خانے کے دروازہ پر خون پائے جانے کے بعد وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ کسی بچی کو حیض تو نہیں ہوئے۔

’مجھے لگا کے 10 سال کی عمر کی بچیاں شاید ی بتاتے ہوئے شرمائیں یا خوفزدہ ہوں اس لیے مںی خود دیکھا چاہتی تھی اور میں ان کی سرپرست کی طرح ہوں، میں نے اگر ایسا کیا بھی ہے تو اس میں کوئی جرم نہیں ہے۔‘

کئی بچیوں نے بتایا کہ انھیں بے لباس ہونے پر مجبور کیا گیا۔

ایک بچی نے بتایا ’غسل خانے کے دروازہ پر خون ملنے کے بعد میڈم پوچھ گچھ کر رہی تھی اور انھوں نے ہم سے کپڑے اتارنے کو کہا۔ وہ دیکھا چاہتی تھیں کہ ہم میں سے کسی کو حیض تو نہیں ہو رہے۔‘

ایک طالبہ نے بتایا ’انھوں نے ہماری سکول کی دو لڑکیوں سے کہا کہ وہ ہماری جانچ کریں، انھوں نے کہا کہ ہم نے نہیں بتایا کہ اگر ہم نے نہیں بتایا تو وہ ہمیں ماریں گی۔ انھوں نے کہا اگر تم میں شرم نہیں تو مجھ میں بھی نہیں ہے۔‘ اس سکول کی دیگر استذہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ثابت ہونے کی صورت میں سخت اقدامات کیتے جانے چاہییں۔

اسی بارے میں