چین: سنکیانگ میں لمبی داڑھی رکھنے اور پردہ کرنے پر پابندی

سنکیانگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اویغور مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ سنکیانگ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں

چین نے اپنے مغربی علاقے سنکیانگ میں نئی پابندیاں متعارف کروائی ہیں جنھیں اسلامی انتہاپسندی کے خلاف مہم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

چین کی جانب سے کیے گئے اقدامات میں ’غیرفطری‘ طور پر لمبی داڑھیاں رکھنے، عوامی مقامات پر پردہ کرنے اور سرکاری ٹی وی دیکھنے سے انکار پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

چینی صوبے سنکیانگ کی سرحدی نگرانی بڑھانے پر غور

سنکیانگ: چاقو سے مسلح افراد کے حملے میں پانچ ہلاک

سنکیانگ اویغور نسل کا آبائی گھر ہے جو روایتی طور پر مسلمان ہیں اوران کا کہنا ہے کہ وہ امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں علاقے میں خونی جھڑپیں بھی دیکھی گئی ہیں۔

چین کی حکومت پرتشدد واقعات کا ذمہ دار مسلمان شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کو قرار دیتی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شورش جابرانہ پالیسیوں کا ردعمل ہے، اور نئے اقدامات اویغور لوگوں کو شدت پسندی کی جانب مزید دھکیل سکتے ہیں۔

اگرچہ سنکیانگ میں اسی طرح کی پابندیاں پہلے بھی نافذ تھی لیکن اب نھیں قانونی طور پر لاگو کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنکیانگ اویغور نسل کا آبائی گھر ہے جو روایتی طور پر مسلمان ہیں

خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے نئے قوانین کے مطابق درج ذیل اقدامات پر پابندی ہوگی:

  • بچوں کو سرکاری سکول میں بھیجنے کی اجازت نہ دینا۔
  • خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرنا۔
  • قانونی دستاویزات کو جان بوجھ کر ضائع کرنا۔
  • صرف مذہبی طریقے کے مطابق شادی کرنا۔

قوانین کے مطابق پورے جسم کے پردے بشمول چہرے کا نقاب کرنے والوں کو ملازمین عوامی مقامات جیسا سٹیشنوں اور ہوائی اڈوں میں داخل ہونے سے ’منع کریں‘ گے اور ان کے بارے میں پولیس کو مطلع کریں گے۔

یہ پابندیاں سنکیانگ کے قانون سازوں نے منظور کیا ہے اور علاقے کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں۔

اس سے قبل چینی حکام کی جانب سے اویغوروں کو پاسپورٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

اویغور اور سنکیانگ

  • اویغور نسلاً ترک مسلمان ہیں
  • سنکیانگ میں اویغوروں کی آبادی کا 45 فیصد اور ہن چینیوں 40 فیصد ہیں۔
  • چین نے مشرقی ترکستان کی ریاست ختم کرتے ہوئے سنہ 1949 میں اس پر اپنا دوبادہ قبضہ حاصل کر لیا تھا۔
  • اس کے بعد سے بڑی تعداد میں یہاں ہن چینیوں کی نقل مکانی ہوئی ہے۔
  • اویغوروں کا خدشہ ہے کہ ان کی روایات اور ثقافت ختم ہوجائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں