انڈيا: رام مندر کے پوسٹر پر تصویر پر مولانا کا اعتراض

پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ NIKHIL DIXIT
Image caption آر ایس ایس میں مسلم ونگ کے صدر اعظم خان ہیں

انڈیا کی ریاست مہارارشٹر میں ایک مولانا نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی حمایت میں لگنے والے پوسٹروں پر اپنی تصویر شئع ہونے پر اعتراض کیا ہے۔

مندر کی حمایت میں لگنے والے ان پوسٹروں میں بعض مسلم مذہبی شخصیات کی بھی تصویریں ہیں جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام رام مندر کی تعمیر کی حمایت کر رہے ہیں۔

لیکن پونے کے ایک مولانا شہاب احسن کاظمی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس پوسٹر میں ان کی مرضی کے بغیر ان کی تصویر لگائی گئی ہے۔

ان پوسٹروں پر'ہو جنم بھومی پر مندر تعمیر، مسلمانوں کا بھی ہے یہی ارمان' جیسے نعرے درج ہیں۔

مولانا احسن کاظمی کا کہنا ہے کہ 'جب مجھے معلوم ہوا کہ پوسٹر پر میری تصویر ہے تو میں پریشان ہو گیا۔ مجھ سے پوچھے بغیر ہی میری تصویر اور نام کا استعمال کر لیا گیا۔ میں ان لوگوں کو جانتا تک نہیں ہوں۔ انھوں نے اپنے فائدے کے لیے ایسا کیا ہے۔ جب یہ معاملہ کورٹ میں ہے تو پھر اس مسئلے پر میں کون ہوتا ہوں کچھ بھی کہنے والا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NIKHIL DIXIT
Image caption مولانا کاظمی نے کہا کہ انھوں نے اس معاملے کی شکایت پولیس کمشنر سے کی ہے

سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں ایک شاخ مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے جو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تعمیر کی حامی ہے۔ اس مسلم ونگ کے صدر اعظم خان ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس پوسٹر میں مولانا کی تصویر لگوانے میں انھی کا ہاتھ ہے۔

لیکن اعظم خان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک اس پوسٹر کی بات ہے تو انھیں اس کے بارے زیادہ کچھ نہیں معلوم۔

ان کا کہنا تھا: 'میں نے جو پوسٹر چھپوائے تھے اس میں صرف میری تصویر ہے۔ اگر کسی پوسٹر پر مولانا کی تصویر چھپی ہے تو اس بارے میں مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں کیونکہ میں نے ایسا کوئی پوسٹر نہیں چھپوايا۔'

ان مذکورہ پوسٹروں پر مزيد چھ ایسے افراد کے نام اور تصویریں ہیں جو مسلم کمیونٹی کی معروف شخصیات ہیں۔ انھیں میں مولانا کاظمی کا بھی نام تھا۔ مولانا کاظمی نے کہا کہ انھوں نے اس معاملے کی شکایت پولیس کمشنر سے کی ہے۔

ہندر انتہاپسند کارکنوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا اور اس کے ملبے پر اب ایک عارضی مندر تعمیر ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور اسی کی سماعت کے موقعے پر اس طرح کے پوسٹر یو پی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں