انڈيا: دہلی کا تاریخي ریگل سینیما ہال 84 برس بعد بند ہو گیا

ریگل تصویر کے کاپی رائٹ Reagal cinema
Image caption گذشتہ 84 برس سے یہ سینیما ہال عام و خاص کی تفریح کا مرکز رہا جو بدلتے حالات کے پیش نظر بند ہوگيا

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع تاریخی سینیما ہال ریگل میں 31 مارچ کی کو آخری بار فلم دکھائی گئی جس کے بعد یہ بند ہو گیا۔

گذشتہ 84 برس سے یہ سینیما ہال عام و خاص کی تفریح کا مرکز رہا تاہم اب اسے بدلتے حالات کے پیش نظر بند کرنا پڑا۔

ملٹی پلیکس کے دور میں دہلی کے تقریباً سبھی سنگل سکرین سینیما ہال یکے بعد دیگرے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ تاریخی 'ریگل سینیما' بھی اس فہرست میں ایک نیا نام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بالی کے فنکاروں اور عظیم فلمی ہستیوں کی یادیں بھی ریگل سے وابستہ ہیں

ایک دور تھا کہ ریگل کی اپنی ایک خاص شان و شوکت تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور اندرا گاندھی سمیت ملک کی معروف سیاسی رہنما یہیں فلم دیکھنے آيا کرتے تھے۔

بالی کے فنکاروں اور عظیم فلمی ہستیوں کی یادیں بھی ریگل سے وابستہ ہیں جہاں بہت سی سپر ہٹ فلموں کا پریمیئر ہوا کرتا تھا۔ راج کپور کی میرا نام جوکر، بابی، سنگم اور ستیم شیوم سندرم جیسی فلموں کا پریمیئر ریگل سنیما میں ہی ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آخری دن اس میں راج کپور کی سنگم اور میرا نام جوکر جیسی ہی فلمیں دکھائی گئیں

ستیم شیو سندرم کی اداکارہ زینت امان اور ششی کپور کے ساتھ یہاں جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اب سب تاریخ کا حصہ ہے۔

مصنف رونالڈ ویون سمتھ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ فلم کی سکریننگ کے لیے ششی کپور اور زینت امان جب ریگل پہنچے تو ان پر کنول کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں۔ اسی دوران پرانی دہلی کے مبارک خان نام کے ایک شخص خوبصورت اداکارہ زینت امان کے حسن سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ ان کے نزدیک پہنچ گئے اور بھیڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زینت امان کو چٹکی کاٹ لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آپریٹر رمیش کمار نے جمعے کو اپنی آخری ڈیوٹی کی جو یہاں برسوں سے کام کر رہے تھے

اس پر زینت امان چلّا اٹھیں اور بھیڑ میں اس شخص کو تلاش کرنے لگیں جس نے یہ حرکت کی تھی، لیکن اس وقت تک مبارک بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔

رونالڈ نے لکھا ہے کہ جب پرتھوی راج کپور پارلیمان کے رکن تھے تو دلی میں رہائش کے دوران ایک بار اپنے بیٹے راج کپور کی ایک فلم دیکھنے ریگل پہنچے جہاں ایک شخص نے انھیں "آوارہ کا باپ کہہ کر آواز دی۔' اس پر پرتھوی راج جھنجھلا گئے تھے۔

راج کپور تو 'ریگل' کو اپنا لکی تھیئٹر مانتے تھے اور اپنی فلموں کا پریمیئر یہیں کیا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reagal cinema
Image caption ریگل میں 660 سیٹیں تھیں اور روزانہ چار شو ہوا کر تے تھے

سینیما ہال کے اکاؤنٹ مینیجر اے ایس ورما گذشتہ 40 برس سے ریگل سے وابستہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ راج کپور اپنی فلم کے پریمیئر سے قبل ہال میں پوجا کیا کرتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں: 'راج کپور کی زیادہ تر فلموں کا پریمیئر یہیں ہوتا تھا۔ راج کپور فلم ریلیز سے پہلے سینیما ہال میں پوجا کیا کرتے تھے۔ وہ ریگل کو اپنے لیے لکی تھیئٹر مانتے تھے۔ پورے سنیما ہال کو پھولوں سے سجایا جاتا تھا۔ جب فلم لگتی تھی تو دس دس دن کی ایڈوانس بکنگ رہتی تھی۔'

سنہ 1932 میں کھلنے والا یہ باب اب بند ہو گیا۔ آخری دن اس میں راج کپور کی سنگم اور میرا نام جوکر دکھائی گئیں۔

ریگل میں 660 سیٹیں تھیں اور روزانہ چار شو ہوا کر تے تھے۔ اس سینیما ہال کو اب چار سکرین والے ملٹی پلیکس میں بدلنے کی بھی باتیں ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں