انڈیا: ’ووٹنگ مشین صرف بی جے پی کے ووٹ چھاپنے لگی‘

انڈیا میں رپورٹ کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں ووٹنگ مشین میں بظاہر خرابی کے باعث الیکشن کمیشن کے دو اہلکاروں کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات آئندہ ہفتے ہونے والے ہیں لیکن ریاست میں ووٹنگ مشین کے ذریعے کیے جانے والے تجربے میں دیکھا گیا ہے کہ چاہے کوئی بھی بٹن دبایا جائے مشین صرف وزیراعظم کی جماعت کے لیے ہی ووٹ پرنٹ کرتی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مزید اہلکار دہلی سے بھیجے جا رہے ہیں تاکہ انتخابات کا جائزہ لیا جائے۔

یہ مسلہ اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اس ویڈیو میں ووٹرز کی جانب سے منتخب کی جانے والی پارٹی کے نشان والی سلپ شائع کرنے والی مشین (وی وی پی اے ٹی) کا تجربہ دکھایا گیا۔

اس تجربے کے دوران دیکھا گیا کہ پرنٹ ہونے والی ہر پرچی پر وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کا انتخابی نشان چھپا ہوا تھا۔

انڈیا کے الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے ضلعی الیکشن آفیسر سے ’تفصیلی رپورٹ‘ طلب کی ہے اور وہ اعلی اہلکاروں کی سربراہی میں دو ٹیمیں مدھیا پردیش روانہ کریں گے۔

ان کے مطابق یہ اہلکار وہاں نو اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں آخری ووٹ کی گنتی تک موجود رہیں گے۔

انڈین میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار اور ایک پولیس اہلکار جو کہ اس تجرباتی ویڈیو میں موجود تھے کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ تاہم انھیں ٹرانسفر کی الیکشن کمیشن نے تصدیق نہیں کی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما ارویند کیجریوال نے میڈیا کو بتایا کہ ’انھیں آغاز سے ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتبار نہیں تھا۔‘

انھوں نے سنیچر کے روز کہا کہ ’جب تمام دنیا بیلٹ پیپر استعمال کر رہی ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہے؟‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں