مالیرکوٹلہ کی کہانی

مالیر کوٹلہ
Image caption مالیر کوٹلہ ریلوے سٹیشن کے بار کا منظر

انڈیا میں کئی ایک ایسے چھوٹے شہر ہیں جن کے بارے میں آپ نے شاید نہ کبھی سنا ہوگا اور نہ ہی پڑھا ہوگا۔

یہ شہر اپنی تاریخی، مذہبی اور ثقافتی قدروں کے باعث شہرت رکھتے تھے لیکن اب گمنامی کے اندھیروں نے ان کا رنگ پھیکا کر دیا ہے اور ان کی اہمیت کو ڈس لیا ہے۔

٭ 'مالیر کوٹلہ مذہبی ہم آہنگی کی مثال ہے'

٭ جاڑوں کے چٹخارے

مالیر کوٹلہ انھیں میں سے ایک ہے جو تا ریخی اور مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنے ذائقوں کے لیے آج بھی پنجاب کے مختلف شہروں سے اچھے کھانوں کے رسیا لوگوں کو دعوت طعام دیتا ہے۔

کہتے ہیں کہ مالیر کوٹلہ کے پرانے نوابی باورچیوں کی نسل آج بھی پرانے نسخوں کی مدد سے پرذائقہ کھانے تیار کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پنجاب میں دودھ کے ساتھ جلیبی کھانے کا بھی رواج ہے

شیخ صدرالدین حیدر جہاں کی 15ویں صدی پرانی درگاہ ہر نسل و نژاد کے لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے اور بابا حیدر شیخ کی درگاہ کہلاتی ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی اس آستانے پر اپنی دعاؤں کی مقبولیت کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

کسی زمانے میں مالیر کوٹلہ کو نوابوں کی سرپرستی حاصل تھی اور آج وہی حویلی اور جگمگاتا شیش محل سرکاری ملکیت بن چکا ہے اور حکمراں نوابوں کا خاندان زیر زمین میٹھی نیند سو رہا ہے۔

راوی کا کہنا ہے کہ افغان بادشاہ بہلول لودھی (1451-1489) مغربی ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر حکومت کر رہا تھا اور وہ دہلی کے تخت کا حسین خواب دیکھ رہا تھا۔ جب دہلی کا رخ کیاتو ریت کے شدید طوفان میں گھر گیا۔ گھنگھور اندھیرے میں دور روشنی کی کرن نظر آغی جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ شیخ صدرالدین جو افغان شیوران قبیلے کے ایک بزرگ تھے اپنی کٹیا میں محو عبادت ہیں۔ بادشاہ نے قدم بوسی کے بعد اپنی مہم کا تذکرہ کیا اور کامیابی کا دعا گو ہوا۔ دہلی کے تخت پر تاج پوشی کے بعد شیخ صدرالدین کو مالیر کوٹلہ کا سارا علاقہ بطور جاگیر عطا کرتے ہوئے نواب کے خطاب سے نوازا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مالیر کوٹلہ کے لیے گرو گوبند سنگھ نے سرسبز و شادابی کی دعا کی تھی

سنہ 1657 میں بایزید خان نے مغل بادشاہ اورنگزیب کو شیر کے حملے سے بچایا اور انعام میں مالیر اور کوٹلہ کی سرزمین پر قلعہ تعمیر کرنے کا پروانہ حاصل کیا اور قلعے کی تکمیل کے بعد دونوں گاؤں کے نام کو یکجا کرتے ہوئے مالیر کوٹلہ نام رکھا۔ شاہی دربار سے نواب کا خطاب حاصل کیا اور یوں مالیر کوٹلہ میں نوابی دور کا آغاز ہوا۔ سنہ 1809 میں مالیر کوٹلہ انگریزوں کی عملداری میں آیااور اب وہ ہندوستان کی ریاست پنجاب کا ایک شہر ہے۔

بھائی چارے اور اتحاد کے علمبردار نوابین نے مالیر کوٹلہ پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی اور آج بھی مالیر کوٹلہ ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے۔ تقسیم کے وقت جب ہندوستان کا چپہ چپہ فرقہ وارانہ فسادات کے شعلوں کی لپیٹ میں تھا مالیر کوٹلہ ثابت قدمی سے اتحاد کی ڈور سنبھالے فسادات کی درندگی سے دور رہا۔

راوی کا کہنا ہے کہ جب سرہند کے گورنر وزیر خان نے گرو گوبند سنگھ کے دو خورد سال لڑکوں کو زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم صادر کیا تو مالیر کوٹلہ کے نواب شیر محمد خان نے اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے شاہی دربار ترک کر دیا۔

جب گرو گوبند سنگھ کو ان کے اس قدم کی خبر پہنچی تو انھوں نے نواب کا شکریہ ادا کیا اور انھیں کرپان اور حکم نامے سے سرفراز کیا اور فرمایا کہ آتی دنیا تک نواب کا علاقہ سرسبز و شاداب رہے گا۔ آج مالیر کوٹلہ موسمی ترکاریوں کی کاشت کا منبع ہے اور یہاں کی زمین سرسبز و شاداب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مالیر کوٹلہ کے بازار تندوری مرغ کی بھینی خوشبو سے کھانوں کے رسیوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں

ملیر کوٹلہ کی بیشتر آبادی مسلمانوں کی ہے اور نوابی دور کے روایتی کھانے قدرے ردوبدل کے ساتھ وہاں کے بازاروں میں دستیاب ہیں۔ جس نے ایک بار مالیر کوٹلہ کا نمک کھایا بار بار لوٹ کر یہیں آیا۔

مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ پنجاب کی خاص پہچان ہے لیکن پنجاب کا یہ چھوٹا شہر مرغ اور گوشت کے عمدہ پکوانوں کے لیے خاص شہرت رکھتا ہے۔

بالائی، دہی اور مصالحہ جات سے لپٹا مرغ دہکتی بھٹیوں میں سینکا جاتا ہے اور اس کی سوندھی مہک گاہکوں کی اشتہا کا امتحان لیتی ہے۔ کہیں دیگ میں گوشت پک رہا ہے تو کہیں نانبائی گرم گرم روٹیاں نکال رہا ہے ساتھ ہی حلوائی دودھ کی کڑھائی چڑھائے آوازیں لگا رہا ہے۔ زعفران اور کھجور کے شیرے میں پکایا جانے والا یہ دودھ یہاں کی خاص سوغات ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں