کشمیر میں ضمنی انتخابات، 20 ہزار اہلکار تعینات

کشمیری فوج تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیس کے مطابق اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 14 عام شہری مارے گئے ہیں

انڈین پارلیمنٹ کی دو نشستوں کے ضمنی انتخابات کے لیے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت نے مزید 20 ہزار نیم فوجی اہلکار وادی میں تعینات کر دیے ہیں۔

یہ انتخابات جنوبی اور وسطی کشمیر کے علاقوں میں ہوں گے اور انتخابات سے قبل پورے کشمیر میں مسلح حملوں اور مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق مسلح حملوں اور سکیورٹی کی تشویشناک صورتحال کے باعث حکمران پی ڈی پی اور حزب مخالف نیشنل کانفرنس ابھی تک سرینگر میں کوئی انتخابی ریلی نہیں کر پائے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 14 عام شہری مارے گئے ہیں اور بیشتر ہلاکتیں مسلح تصادموں کے دوران ہونے والے مظاہروں کے خلاف پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی طرف سے جلوسوں پر فائرنگ کی وجہ سے ہوئیں۔

اس عرصے میں نامعلوم مسلح افراد نے بھی دو شہریوں کو قتل کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سال جنوری سے مارچ تک 33 مسلح شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

اننت ناگ میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے چھوٹے بھائی تصدق مفتی میدان میں ہیں اور ان کے خلاف کانگریس اُمیدوار کی حمایت سابق وزیرِاعلیٰ فاروق عبداللہ کر رہے ہیں جبکہ سرینگر میں پی ڈی پی کے خلاف فاروق عبداللہ کی حمایت کانگریس پارٹی کر رہی ہے۔

علیحدگی پسندوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے تاہم حکومت نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق جیسے رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے جبکہ یاسین ملک کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

یہ انتخابات فاروق عبداللہ کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ وہ حکمران پی ڈی پی کو آر ایس ایس کی پراکسی قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ کشمیری مسلمان بی جے پی اور آر ایس ایس کے اتحادیوں کو مسترد کر دیں گے۔

متعلقہ عنوانات