'مسلمان گائے کا گوشت ترک کرکے پہل کریں'

دیوان زین العابدین
Image caption اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے دیوان زین العابدین رضاکاروں کے ساتھ

انڈیا میں گائے کے ذبیحے پر جاری تنازعے کے درمیان اجمیر کی معروف درگاہ کے روحانی سربراہ نے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔

خواجہ معین الدين چشتی درگاہ کے روحانی سربراہ دیوان سید زین عابدین علی خان نے ایک بیان میں کہا: 'بیف کے متعلق ملک میں دو فرقوں کے درمیان پنپنے والی دشمنی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو ملک گیر سطح پر گائے کی قبیل کی تمام اقسام کے ذبیحے پر اور اس کے گوشت کے فروخت پر پابندی لگا دینی چاہیے۔'

٭ کھانے کا مینیو ریاست نہیں طے کرتی

٭ اترپردیش: گوشت کے تاجروں کی غیر معینہ مدت تک ہڑتال

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'اگر گائے کے گوشت پر اکثریتی برادری کی جانب سے مخالفت ہو رہی ہے ایسے میں مسلمانوں کو گوشت خوری کو ترک کے اپنی جانب سے پہل کرنی چاہیے۔'

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر قانونی مذبح کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان جیسی ریاستوں میں بھی غیر قانونی مذبح کو بند کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

Image caption عرس کے موقعے پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے دیوان زین العابدین نے گائے کے گوشت کو ترک کرنے کی بات کہی

ریاست گجرات میں گاؤ کشی اور گائے کا گوشت رکھنے پر قانون میں سختی لائی گئی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

انڈیا کی اکثریتی ہندو آبادی گائے کو مقدس تصور کرتی ہے اور گائے کو 'ماں' کا درجہ دیتے ہوئے اس کی پوجا بھی کرتی ہے۔

جبکہ مسلمان سمیت کئی دوسری برادریوں میں گائے، بیل اور بھینس کے گوشت کھانے کی قدیم روایت رہی ہے۔

لیکن اب انڈیا میں پیدا ہونے والے 'کشیدہ' ماحول کے پیش نظر بعض ترقی پسند مسلمان دانشوروں کا کہنا ہے کہ جس چیز سے مخصوص برادری کے مذہبی احساسات مجروح ہوتے ہیں اس سے پرہیز کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

بہر حال انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ اور شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں بیف کے گوشت کھانے کی قدیم روایت رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کی غریب آبادی کا ایک بڑا طبقہ غذائیت کے لیے بیف (گائے اور بھینس کے گوشت) کھاتا رہا ہے کیونکہ یہ مرغ اور مٹن کے مقابلے میں سستے داموں دستیاب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اترپردیش میں غیر قانونی مذبح خانوں پر پابندی کو مختلف زاویے سے دیکھا اور پرکھا جا رہا ہے

خواجہ معین الدین چشتی کے 805 ویں سالانہ عرس کے اختتام کے موقعے پر ملک کی مختلف درگاہوں کے سجادہ نشینوں، صوفیوں اور علما سے خطاب کرتے ہوئے سید زین العابدین علی خان نے کہا: 'ملک میں سینکڑوں سال سے گنگا جمنی تہذیب کے نتیحے میں ہندو اور مسلمان کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا جو ماحول رہا ہے اسے گائے کے گوشت کے سبب ٹھیس پہنچی ہے۔ اس خیر سگالی اور ہم آہنگی کی روایت کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان تنازعے کی جڑ کو ہی ختم کرنے کی پہل کریں اور گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔'

اس موقعے پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اور ان کا خاندان اب سے گائے کا گوشت نہیں کھائیں گے۔

Image caption بعض ہندو گائے کی پوجا بھی کرتے ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں