انڈین شخص پوسٹ کارڈ کے ذریعے طلاق دینے پر گرفتار

شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک انڈین شخص کو اپنی دوسری بیوی کو بذریعہ پوسٹ کارڈ طلاق دینے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان پر ہراسانی اور دھوکہ دہی کا الزام ہے۔

38 سالہ محمد حنیف نے حیدرآباد دکن میں اپنی شادی کے صرف تین ہفتے بعد اپنی بیوی کو طلاق پر مبنی کارڈ بھیج دیا جس پر ’طلاق، طلاق، طلاق‘ لکھا ہوا تھا۔

حنیف کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اب انھیں ریپ کے الزام میں گرفتار کیا جائے گا۔

پولیس کے ڈپٹی کمشنر وی ستیہ نرائن نے بی بی سی کو بتایا: 'ہماری تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے مناسب طریقۂ کار اختیار نہیں کیا کیوں کہ ان کے پاس درکار دستاویزات نہیں تھیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم حنیف کی ضمانت منسوخ کر کے انھیں ریپ کے الزام کے تحت گرفتار کر رہے ہیں۔'

حنیف کی پہلی بیوی سے شادی ابھی تک قائم ہے۔

انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب ان کی دوسری بیوی نے ان کے خلاف شکایت درج کروائی۔

انڈیا میں تین طلاقوں کے معاملے کو سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اور انڈیا کی عدالتِ عظمیٰ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اسے غیرآئینی قرار دیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں