کیا ’شخص‘ قرار دینے سے دریائے گنگا کو بچایا جا سکتا ہے؟

دریائے گنگا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہندوؤں کے نزدیک دریائے گنگا کو مقدس حیثیت حاصل ہے

انڈیا کی ایک عدالت نے دریائے گنگا کو قانونی طور پر 'شخص' قرار دیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس دریا کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تحقیق کار شیام کرشنم کمار بتا رہے ہیں کہ یہ حکم ہندوؤں کے لیے اس مقدس دریا کو بڑھتی ہوئی آلودگی سے کیسے پاک رکھنے میں کس قدر معاون ثابت ہو گا۔

گنگا انڈیا کے تقریباً 50 کروڑ لوگوں کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے بچانے کے لیے شمالی ہندوستان کی ریاست اترکھنڈ کی عدالت نے کئی فیصلے دیے ہیں۔

٭ ’گنگا جمنا بھی انسان ہیں‘

سب سے پہلے تو عدالت نے گنگا اور جمنا دونوں کو قانونی طور پر شخص قرار دیا۔ اس کے بعد یہ رتبہ گنگوتری اور یامونوتری گلیشیئروں کو بھی دے دیا گیا۔ دریائے گنگا اور جمنا علی الترتیب انھی گلیشیئروں سے نکلتے ہیں۔ اس کے بعد دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں، ہوا، چراگاہوں، سبزہ زاروں، جنگلوں، چشموں اور آبشاروں کو بھی یہی حیثیت دے دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کے فیصلے سے دریائے گنگا کی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی

ان حکم ناموں کا مقصد فطرت کو وسائل سمجھنے کی بجائے ایک ایسا وجود سمجھنا ہے جس کے اپنے بنیادی حقوق ہیں۔

انڈیا میں دوسری ایسی غیر انسانی اشیا جنھیں قانونی طور پر شخصیت مانا جاتا ہے، ان میں مندر، دیوتا، کمپنیاں اور ٹرسٹ شامل ہیں۔

اس سے قبل قانونی طور پر فطرت کو ایسی چیز سمجھا جاتا تھا جس کے کوئی قانونی حقوق نہیں ہیں۔ ماحولیاتی قانونی صرف ان سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے۔ لیکن اب یہ نقطۂ نظر تبدیل ہو رہا ہے اور انڈیا اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ماحولیاتی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔

ایکواڈور میں نئے آئین میں یہ بات لازمی تسلیم کی گئی ہے کہ فطرت کو قائم و برقرار رہنے اور تجدید کا حق حاصل ہے۔ نیوزی لینڈ میں حال ہی میں ماؤری نسل کے لوگوں کی 140 سالہ قانونی جدوجہد کے بعد وھانگانوئی دریا کو شخصی درجہ دلوایا ہے۔

دریائے گنگا کو قانونی حیثیت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جانب سے براہِ راست مقدمے دائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ماحول کے تحفظ کے سلسلے میں بےحد اہم قدم ہے۔

مثال کے طور پر گنگا کو آلودہ کرنے سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ خود دریا کو نقصان پہنچانا ہی دریا کے 'زندگی کے حق' کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کان کنی کے نئے لائسنسوں پر چار ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے اور انڈیا کے پہاڑی علاقوں میں ماحولیات کو کان کنی سے پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

اترکھنڈ کی حکومت اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید برآں، عدالت نے ریاست کے انسدادِ آلودگی کے ادارے کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ایسے ہوٹلوں، کارخانوں یا آشرموں کو بند کر دے جو دریا میں فضلہ بہاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب عدالت میں یہ ثابت کرنا ضروری نہیں رہا کہ آلودگی سے انسانوں پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں

اس سے صرف ہری دوار اور رشکیش کے علاقے میں 700 ہوٹل متاثر ہوں گے۔

ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت گنگا کی آلودگی پر سختی سے نظر رکھے گی، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کا کیا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔

فیصلے کے بعض حصے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ مثلاً دریا کی زندگی کے حق کا کیا مطلب ہے؟ اگر اس کا مطلب آزادی سے بہنا ہے تو پھر ان ڈیموں کا کیا بنے گا جو گنگا پر جگہ جگہ بنے ہوئے ہیں؟

فیصلے کا نفاذ ایک اور معاملہ ہے۔ یہ بات بھی دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ فیصلہ صرف اترکھنڈ تک محدود رہے گا یا اس کا اطلاق دوسری ریاستوں تک بھی کیا جائے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں