یہ ماڈل اتنا کیوں مسکرا رہی ہے؟

انگلینڈ
Image caption آپ اسے ایک ثقافتی فرق بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس ماڈل کے چہرے پر اس دلکش مسکراہٹ کا تعلق پانی اور 'ٹوائلٹ رول' کے استعمال پر پرانی بحث سے ہی ہے۔

انڈیا میں بنیادی طور پر تین طرح کے ٹوائلٹ ہوتے ہیں۔ ’نو ٹوائلٹ‘ (انگریزی کا نو) یعنی کوئی بھی ٹوائلٹ نہ ہونا۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں لوگ ٹوائلٹ جانا پسند ہی نہیں کرتے، اگر گھر میں ہو بھی تو بوتل یا گھی کا پرانا ڈبہ لے کر کھلے آسمانوں کے نیچے بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھیں آپ ’اوپن ایئر ٹوائلٹ‘ کہہ سکتے ہیں اور انڈیا میں ہر روز کروڑوں لوگ انھیں استعمال کرتے ہیں۔

دوسرے ہیں ’نو گو ٹوائلٹ۔‘ یا وہ ٹوائلٹ جو اتنے گندے ہوتے ہوں کہ انھیں آپ چاہتے ہوئے بھی استعمال نہیں کرسکتے۔ بس اور ریلوے سٹیشن پر، ٹرینوں کے اندر، اور سڑکوں کے کنارے بلدیات کی فراہم کردہ وہ ’عوامی سہولیات‘ جن سے لوگ بچ کر نکلنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

تیسرے وہ جو عام طور پر ہمارے گھروں میں ہوتے ہیں۔ سیٹ انگریزی ہو یا دیسی، وہاں نل کے ذریعے پانی کی سپلائی نہ بھی ہو، آس پاس بالٹی اور ایک ڈبہ یا لوٹا ضرور رکھا ہوگا۔ مسلمان گھروں میں لوٹا اور عام طور پر ہندو گھرانوں میں نہانے کا مگہ یا لٹیا۔

ہندو ہو یا مسلمان، باہمی اختلافات چاہے کتنے بھی ہوں پانی کا استعمال ہمیشہ سے مشترک رہا ہے۔

یعنی بنیادی طور پر ٹوائلٹ استعمال کرنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: صفائی اور پانی۔

اب آپ پوچھیں گے کہ اس تمحید باندھنے کا اس ماڈل سے کیا تعلق ہے؟ اور وہ اتنا کیوں مسکرا رہی ہے؟

اس کے لیے آپکو سمجھنا ہوگا کہ یورپ میں کتنی قسم کے ٹوائلٹ ہوتے ہیں۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے، یہاں صرف ایک ہی طرح کے ٹوائلٹ ہوتے ہیں، صاف ستھرے اور ’ڈرائی‘۔ یعنی اگر آپ فارغ ہونے کے بعد دھونا پسند کرتے ہیں تو یہ انتظام آپ کو خود کرنا ہوگا۔ ڈیزائن کے لحاظ سے یہاں صرف ’ڈرائی‘ یعنی خشک ٹوائلٹ بنائے جاتے ہیں اور ان میں پانی کے بجائے ’ٹوائلٹ رول‘ مہیہ کرایا جاتا ہے۔

آپ اسے ایک ثقافتی فرق بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس ماڈل کے چہرے پر اس دلکش مسکراہٹ کا تعلق پانی اور ’ٹوائلٹ رول‘ کے استعمال پر پرانی بحث سے ہی ہے۔

یہ ماڈل ایک انگلش ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھی ہے اور یہ اشتہار آج کل لندن میں بل بورڈز پر جگہ جگہ نظر آتا ہے۔

اشتہار ایک ٹوائلٹ سیٹ بنانے والی انٹرنیشنل کمپنی نے جاری کیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ پانی سے دھونے کا الگ ہی مزا ہے جو مسکراہٹ کی شکل میں اس ماڈل کے چہرے پر نظر آ رہا ہے۔

کمپنی کی ٹیگ لائن ہے کہ ’پہلا تجربہ ہمیشہ خاص ہوتا ہے!‘

اپنی ویب سائٹ پر کمپنی کا دعوی ہے کہ وہ رفع حاجت کے بعد پانی کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

مہم کا نام ’میرا پہلا تجربہ‘ رکھا گیا ہے اور کوشش لوگوں کے ’ابتدائی خدشات‘ دور کرنے کی ہے!

اس مہم میں کچھ دلچسپ سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ ’کیا آپ پانی کے بغیر اپنے بال دھوتے ہیں؟ یا کاغذ سے اپنے ہاتھ صاف کرتے ہیں؟۔۔۔جب یہ بات ہمیں بالکل احمقانہ لگتی ہے تو پھر ہم نجی اعضا کی صفائی کے لیے کیوں کاغذ استعمال کرتے ہیں جبکہ پانی سے دھونا صفائی ستھرائی کے لحاظ سے بھی بہتر ہے اور زیادہ آرام دہ بھی؟‘

کمپنی کا خیال ہے کہ وہ لوگوں کی عادتیں ہمیشہ کے لیے بدل دیگی اور یہاں بھی پانی سے دھونا اتنا ہی عام ہو جائے گا جتنا کہ نہانا!

اگر آپ پہلے اس احساس کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اپنی ابتدائی جھجھک پر قابو کرنے والے جتنے بھی لوگوں نے پانی سے دھونے کا تجربہ کیا ان میں سے ’تقریباً تمام‘ اب اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کرسکتے!

مغرب اور مشرق کی بحث پرانی ہے۔ انڈیا میں اکثر کچھ لوگ یہ دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ وہاں سائنس نے ہزاروں سال پہلے بے پناہ ترقی کر لی تھی، پہلا طیارہ ہو یا خلائی جہاز۔۔۔ انڈیا میں ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھے۔ خود سائنسدان بھی ان دعووں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن اگر انگلینڈ یا یورپ میں پانی سے دھونا عام ہو گیا تو ان کے اسے دعوے کو کوئی چیلنج نہیں کرسکے گا کہ یہ تو ہم ہزاروں سال سے کرتے آئے ہیں، آپ کو اب خبر ہوئی!