شدت پسندی کے خلاف بنگلہ دیش کی جنگ

بنگلہ دیش تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بنگلہ دیش میں خودکش حملوں کے بعد اسلامی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بڑے حملے کیے گئے ہیں۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی وجہ سے شدت پسندوں کو پسپائی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ غلبہ کس کو حاصل ہے؟

گذشتہ سال کے آغاز میں سلہٹ میں فوجی کمانڈروں نے چار مبینہ شدت پسندوں کو طویل وقت تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد ہلاک کیا تھا۔

٭بنگلہ دیش میں

٭بنگلہ دیش: کارروائی میں دو مشتبہ شدت پسند ہلاک

اس کے کچھ ہی دن کے بعد سات سے آٹھ افراد نے اس وقت دھماکہ کیا جب مولوی بازار کے نواح میں پولیس ان کے قریب پہچنے کی کوشش کی تھی۔

بنگلہ دیش میں خودکش حملے کم ہوتے ہیں اس لیے شدت پسندوں کے طریقہ کار میں بظاہر ہونے والی تبدیلی خطرے کی گھنٹی ہے۔

بنگلہ دیش اور انڈیا میں دہشت گردی کے واقعات پر کتاب کے مصنف جدیب صاعقہ کا کہنا ہے 'کوئی شک نہیں کہ بنگلہ دیش میں خودکش حملے ایک سنگین چیلنج ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے جنوبی ایشیا کا مشرقی حصہ غیرمستحکم ہو سکتا ہے۔

بہت سے ایسے ہیں جو حالیہ تشدد کے بعد صدمے سے دوچار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلہٹ میں آپریشن سے پہلے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

جب پولیس مولوی بازار میں داخل ہوئی تو وہاں بربریت کا منظر تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ منیر الاسلام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے والوں میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ

وہ بہت خوفناک منظر تھا۔ دہشت گردوں نے خود کو بیوی اور بچوں سمیت اڑا دیا۔

بہادری یا مایوسی

حالیہ خودکش حملوں کا آغاز دسمبر میں ہوا۔ 24 دسمبر کو ایک خاتون نے اس وقت خود کو اڑایا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد ڈھاکہ میں ہی تین خودکش حملوں کی ناکام کوششں ہوئی۔

خودکش حملوں کے پیشِ نظر پولیس نے حفظِ ماتقدم کے طور پر پورے ملک میں آپریشنوں کا آغاز کیا۔

سلہٹ میں جب پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا تو درجنوں شہری بحفاظت متاثرہ علاقے سے نکال لیے گئے تاہم کارروائی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے دستی بم کے حملوں میں دو پولیس اہلکار اور ریپیڈ انٹیلی جنس بٹالین کے چیف چار شہریوں سمیت ہلاک ہوئے۔

آپریشن کے اختتام پر پولیس نے مولوی بازار اور کومیلہ میں شدت پسندوں کی دو پناہ گاہوں کا گھیراؤ کیا۔

حالیہ واقعات کو دیکھیں تو شدت پسند مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔

سلہٹ میں شدت پسندوں نے محاصرے کے دوران فوج کے بیرونی حصار پر حملہ کیا، جب کہ مولوی بازار میں انھوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

کومیلہ شہر میں انتخابات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ انتخابات کی وجہ سے پولیس کی کارروائیاں رکی ہوئی تھیں۔

ابھی اس بارے میں رائے منقسم ہے کہ کیا خودکش حملے اسلامی شدت پسندوں کی مایوسی کو ظاہر کر رہے ہیں یا پھر یہ ان کی دلیری کا ایک نیا درجہ ہے۔

ادھر ملک کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ 'شدت پسند اب مایوس ہیں اور وہ بھاگ رہے ہیں۔ ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز ان کا پیچھا جاری رہیں گے۔ '

وہ سمجھتے ہیں کہ خودکش حملے شدید مایوسی میں کیے جانے والا اقدام ہو سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت مسلسل ان دعووں کو مسترد کر رہی ہے کہ یہ حملے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کر رہی ہیں اور وہ ان پرتشدد کارروائوں کے پیچھے ہیں۔ عام طور پر انھی تنظیموں کی ذیلی تنظیم جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کی نظر میں یہ خطرے کی علامت ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار تاج ہاشمی کہتے ہیں کہ ' خود کو تسلی دینے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی، دہشت گردی مزید قوت کے ساتھ دوبارہ سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔‘

حکام کی جانب سے صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کے بارے میں بھی مسلسل سوالات موجود ہیں۔

بنگلہ دیشی پولیس اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر نمٹنے کے لیے موجود فورس پر اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں میں ملوث ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہمارا نائن الیون

بنگلہ دیش کے سابق سفیر فاروق سبحان کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے بنگلہ دیش کی کارروائیاں کامیاب رہی ہیں۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اب مزید مربوط انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر انتہاپسندی کے پنپنے کے لیے موافق حالات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈھاکہ کے علاقے گلشن میں ایک کیفے پر ہونے والے حملے میں 20 مغوی ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔

شدت پسندوں سے مقابلہ کرنے کے لیے آنے والے فوجی کمانڈروں میں سے دو فوجی افسران مارے گئے تھے۔

سیکٹر کمانڈرز کے سیکریٹیری ہارون حبیب کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا نائن الیون تھا اور یہ ہمارے لیے حقیقی طور پر خطرے کی گھنٹی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں