راجستھان: ’گائے کے محافظوں‘ کے حملے میں زخمی ہونے والا شخص ہلاک

گائے
Image caption انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں گائے کے نام پر نام نہاد گورکشکوں کے حملے جاری ہیں

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے ضلعے الور میں گائے کے خود ساختہ محافظوں کے مبینہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے ایک شخص کی موت ہو گئی ہے۔

الور پولیس نے بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے پہلو خان نامی شخص کی موت کی تصدیق کی ہے۔

٭ گجرات میں نیا قانون، گئوکشی کی سزا عمر قید

٭ کھانے کا مینیو ریاست نہیں طے کرتی

نائب ایس پی پارس جین نے بی بی سی کو بتایا: 'نیشنل ہائے وے پر گائیں لے جانے والے گروپ پر حملے میں زخمی ایک شخص کی موت منگل کو ہوگئی ہے۔'

الور کے بہروڑ تھانے کے علاقے میں گائیں لے جانے والے ہریانہ کے ایک گروپ پر ہفتے کی شام حملہ کیا گیا تھا۔

حملہ آوروں نے ان کی پک اپ گاڑیاں بھی توڑ دی تھیں۔ الور پولیس نے زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرایا تھا جن میں سے ایک شخص کی منگل کو موت ہو گئی۔

پولیس نے گائیں لے جانے والے اس گروپ پر ہی گائے اور اس کے قبیل کے قانون کے تحت پانچ کیس درج کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ 80 فیصد گائے کے محافظ غیرقانونی کاموں میں ملوث ہیں

خیال رہے کہ انڈیا میں ہندو نواز بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد گائے کے متعلق قوانین میں سختی لائی گئي ہے اور اس کے علاوہ ملک میں کئی جگہ گائے کے خود ساختہ محافظوں (گئو رکشکوں) نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کئی افراد کو نشانہ بنایا ہے جن میں کئی اموات بھی ہوئی ہیں۔

ڈی ایس پی پرمال گرجر نے بی بی سی کو بتایا: حملے اور موت کا معاملہ درج کیا گیا ہے لیکن اس معاملے میں ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور مقامی لوگ تھے جن کی شناخت ویڈیوز کے شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

ڈی ایس پی کے مطابق یہ حملہ آور گئو ركشا گروپوں سے منسلک بھی ہو سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں مبینہ گئو ركشك پک اپ گاڑی کو توڑتے ہوئے اور گائیں لے جانے والے لوگوں کو بری طرح پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد غیر قانونی مذبح خانوں پر پابندی عائڈ کر دی گئی ہے

خیال رہے کہ وائرل ہونے کے بعد ان ویڈیوز کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا ہے۔

الور پولیس کے مطابق جے پور سے ریاست ہریانہ کے میوات میں نوح کے لیے عازم سفر لوگوں نے گایوں کی خریداری کے دستاویزات بھی دکھائے تھے لیکن مشتعل بھیڑ نے حملہ کر دیا۔

مویشیوں والی گاڑیوں کو نیشنل ہائی وے نمبر آٹھ پر جگواس کے پاس روکا گیا تھا۔

میوات کے سماجی کارکن نور محمد کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ لوگ جے پور سے دودھ دینے والی گائے خرید کر ٹرک میں بھر کر ہریانہ جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NARAYAN BARETH
Image caption گائے کے نام پر بہت سے علاقوں میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں اور کئی افراد کی جان بھی گئی ہے

مقتول پہلو خان کے چچا حسین خان نے بی بی سی کو بتایا: پہلو خان اپنے بیٹے کے لیے گائیں خریدنے راجستھان کے مویشی میلے گئے تھے۔ انھوں نے گائیں خریدنے کی رسیدیں بھی دکھائیں جنھیں پھاڑ دیا گیا۔

حسین خان کے مطابق گائیں دودھ دینے والی تھیں جنھیں دودھ کے لیے میلے سے خرید کر لایا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق گایوں میں سے بہترین نسل کی دو گایوں کی قیمت 85 ہزار روپے تھی جبکہ دو دیگر گایوں کی قیمت 45 ہزار روپے تھی۔

حسین کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے گائیں لانے والے لوگوں کے پیسے بھی چھین لیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں