آپ کا بل بھی معاف!

اروند کیجریوال تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پانی کے بل معاف، بجلی کے بل ’ہاف‘ اور دلی کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ’صاف‘ کرنے والے عام آدمی پارٹی (آپ) کے لیڈر اور دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ذرا مشکل میں ہیں۔

عام آدمیوں کی طرح وہ بے چارے بھی سیدھے سادے انسان ہیں، جو دل میں آتا ہے اسے زبان پر لانے میں دیر نہیں لگاتے، بس مسئلہ یہ ہے کہ ان کے دل میں بہت سی ایسی باتیں بھی آتی ہیں جن کی وجہ سے پھر انھیں عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

انھوں نے وفاقی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر کچھ الزامات لگائے تو ارون جیٹلی نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔

مسٹر جیٹلی سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل بھی ہیں اور کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں میں ان کی بات بہت توجہ سے سنی جاتی ہے۔

بہرحال، قصہ مختصر یہ کہ اروند کیجریوال کو بھی کسی ایسے وکیل کی خدمات حاصل کرنا پڑیں جو کورٹ میں مسٹر جیٹلی کو ٹکر دے سکے۔

انھوں نے بی جے پی کے ہی سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی کو میدان میں اتارا۔ مسٹر جیٹھملانی نے انھیں قانونی مشورہ بھی دیا اور اپنی خدمات کے لیے موٹا سا ایک بل بھی!

اخبارات کے مطابق یہ بل تین کروڑ روپے سے زیادہ کا ہے اور مقدمہ ابھی جاری ہے!

اروند کیجریوال چاہتے ہیں کہ یہ بل حکومت ادا کرے کیونکہ انھوں نے جو کچھ کہا وہ بحیثیت وزیراعلیٰ کہا تھا۔

بل منظور کرانے کے لیے انھیں دلی کے لیفٹننٹ گورنر (ایل جی) کی منظوری بھی چاہیے، لیکن ایل جی کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے۔ وفاقی حکومت بی جے پی کی ہے اور ارون جیٹلی بی جے پی کی اسی وفاقی حکومت میں وزیر خزانہ بھی ہیں اور وزیر دفاع بھی!

لگتا ہے کہ دنیا گول ہے۔ اب آپ جو نتیجہ اخذ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں لیکن مقدمے میں اپنے ہی مخالف کی فیس کون دیتا ہے؟ آپس میں اتنی محبت ہوتی تو مقدمے کی نوبت ہی کیوں آتی؟

لیکن مسٹر جیٹلی کی طرح رام جیٹھملانی بھی بہت امیر ہیں۔

مسٹر جیٹھملانی کا کہنا ہے کہ وہ صرف امیر لوگوں سے فیس لیتے ہیں، غریبوں کے مقدمے وہ مفت لڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے مسٹر کیجریوال کے اصرار پر ہی بل بھیجا تھا، بل ادا نہیں بھی ہوگا تو وہ اپنے کسی دوسرے غریب مؤکل کی طرح ان کا مقدمہ بھی لڑتے رہیں گے۔

لیکن کیجریوال انکم ٹیکس کے سابق کمشنر ہیں اور موجودہ وزیر اعلیٰ بھی، ان کی اہلیہ بھی ریونیو سروس کی سینیئر افسر ہیں۔ وہ خود کو عام آدمی تو کہتے ہیں لیکن غریب؟ کہیں یوں سر عام غریب کہے جانے پر وہ رام جیٹھملانی کے خلاف ہی ہتک عزت کا مقدمہ نہ کردیں!

آپ یہ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ اگر پیسے نہیں تھے تو مسٹر کیجریوال نے رام جیٹھملانی سے بل کیوں مانگا؟ دراصل، بلوں سے ان کا رشتہ پرانا ہے۔

جب عام آدمی پارٹی سیاست میں اپنے قدم جما رہی تھی تو اروند کیجریوال نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بجلی کے بل ادا نہ کریں۔ جب پارٹی اقتدار میں آئی تو انھوں نے ’پانی کے بل معاف اور بجلی کے بل ہاف‘ کرنے کا اعلان کیا اور دلی کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمائے۔

اروند کیجریوال کا ارادہ شاید یہ ہے کہ رام جیٹھملانی کو بھی خوش کرنے کے لیے وہ ان کا بل بھی معاف کردیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں