شیوسینا کے رہنمار گائیکوارڈ کا کہنا ہے کہ ’میری فطرت میں ہی انکساری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بغیر تحقیقات کے ہی میرا میڈیا ٹرائل کیا گیا: گائئکوارڈ

گزشتہ ماہ ایئر انڈیا کے ملازم کو طیارے میں مبینہ طور پر چپل سے مارنے والے شیوسینا کے رہنمارویندر گائیکوارڈ جمعرات کو جب پارلیمنٹ میں پہنچے تو ہنگامہ شروع ہوگیا۔

رویندر گائیکواڑ اور دیگر شیوسینا ممبران پارلیمنٹ نے ان پر ائیر لائنزکی جانب سے عائد پابندی کی مخالفت کی.

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایوی ایشن کے وزیر اشوک گجپتی راجو نے کہا کہ گائیکواڑ بھی ایک مسافر ہیں اور ہوائی جہاز کی حفاظت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

شیوسینا کے اراکان نے لوک سبھا میں ہی اشوک گجپتی کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی اور جیسے ہی شیوسینا کے ایک رکن ان کی جانب بڑھے تو بی جے پی کے دیگر ارکان انہیں باہر لے گئے۔

اس سے پہلے گائیکواڑ نے لوک سبھا میں کہا، 'میں جمہوریت کے ایوان میں کھڑا ہوں، اس لیے نہیں کہ مجھ پر لگا الزام صحیح ہے یا غلط ہے بلکہ یہ بتانے کے لیے کھڑا ہوں کہ ایئر انڈیا کے ملازمین نے میرے ساتھ کیسی زیادتی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ائیر انڈیا نے مسٹر گائیکوارڈ پر پابندی لگا دی ہے

انہوں نے کہا، ' میں انصاف کی توقع کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ بغیر تحقیقات کے ہی میرا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'میں پُونے سے دہلی جا رہا تھا بزنس کلاس کا ٹکٹ تھا لیکن مجھےاکنامی میں بٹھایا گیا۔ دہلی پہنچنے کے بعد اترتے وقت میں نے پر امن طریقے سے عملے سے پوچھا کہ مجھے شکایتی فارم دو انہوں نے کہا نہیں ہے۔

گائیکواڑ نے کہا، 45 منٹ بعد ایک افسر آیا. میں نے پوچھا کہ آپ کون ہو تو وہ بولا کہ میں ایئر انڈیا کا باپ ہوں. پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہو، تو میں نے کہا کہ میں ایم پی ہوں تو اس نے کہا کہ ایم پی ہو، نریندر مودی نہیں'۔

انہوں نے کہا، 'مجھ پر تمام ایئر لائنز نے پابندی لگا دی ہے. میں ٹیچر ہوں اور عاجزی میری فطرت میں ہے۔ میں پارلیمنٹ سے معافی مانگتا ہوں، گائیکوارڈ نے کہا کہ مجھ پر اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جسے واپس لیا جانا چاہئے'۔

گائیکوراڈ نے ائیر انڈیا کے ملازم کو چپل مارنے کی بات صحافیوں کے سامنے تسلیم کی تھی اور واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

حال میں خبریں آئی تھیں کہ گائیکواڑ نے ایئر ٹکٹ بک کرانے کی کوشش کی، جسے منسوخ کر دیا گیا۔