کشمیر: پاکستانی وردی پہننے پر گرفتار کرکٹرز کے لواحقین پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جن کھلاڑیوں نے پاکستانی وردی پہن رکھی تھی ان کی ٹیم کا نام بابا دريا الدين تھا، بابا دریا گاندربل کے ایک صوفی تھے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گاندربل میں ایک کرکٹ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہننے والے کچھ کھلاڑیوں کی گرفتاری کے بعد ان کے رشتہ دار انھیں رہائی دلوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

گرفتار کیے گئے کھلاڑیوں میں شہزاد احمد کے دو خالہ زاد بھائی بھی شامل ہیں۔ وہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے بھائیوں کو رہا کر دیا جائے۔

شہزاد کہتے ہیں: 'یہ کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں تھا۔ ان بچوں کو پتہ نہیں تھا کہ پاکستان کی جرسی پہننے اور پاکستان کا ترانہ گانے پر انہیں جیل جانا پڑے گا۔'

وہ کہتے ہیں: 'ان بچوں کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ قومی ترانہ کس کو کہتے ہیں۔ قومی رنگ کیا ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ وردی پہننے کا انجام یہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے اتنا ہنگامہ کھڑا ہوا ہے۔'

شہزاد کو لگتا ہے کہ ان بچوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو قانون معلوم نہیں کہ اس پر کیا ہوگا تاہم شہزاد کہتے ہیں کہ انھیں یہ نہیں معلوم ہے کہ اب آگے کیا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid jahangir
Image caption شہزاد کو لگتا ہے کہ ان بچوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ہے

شہزاد احمد اپنے گاؤں کے بہت سے لوگوں کے ساتھ، جن کے بچے یا رشتے دار گرفتار ہیں، گاندربل پولیس سٹیشن کے باہر ان بچوں کی رہائی کا انتظار کر رہے تھے۔

یہ واقعہ دو اپریل کا ہے۔ اس دن بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گاندربل ضلع میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ اس ویڈیو میں ایک ٹیم کے کھلاڑی پاکستانی کرکٹ ٹیم جیسی وردی پہن کر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھ رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے ان کھلاڑیوں کو گرفتار کر لیا جنہوں نے اس میچ میں حصہ لیا تھا۔

ویڈیو میں نظر آنے والی دوسری ٹیم کے کھلاڑی سفید وردی میں ہیں۔ جن کھلاڑیوں نے پاکستانی وردی پہن رکھی تھی ان کی ٹیم کا نام بابا دريا الدين تھا. بابا دریا گاندربل کے ایک صوفی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir

بتایا جا رہا ہے کہ یہ کرکٹ میچ علاقے کی دو ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ اس میں ایک ٹیم بھارتی ٹیم بنی تھی اور دوسری پاکستانی ٹیم۔

گاندربل پولیس کے سربراہ فياض احمد نے بی بی سی کو بتایا: 'پولیس نے اب تک ابتدائی تفتیش کی ہے۔ اس صورت میں ابھی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔'

گرفتار کیے جانے والے زیادہ تر کھلاڑی سکول یا کالج کے طالب علم ہیں۔

ایسے ایک کھلاڑی کے والد بشیر احمد کہتے ہیں: 'ہمارا ایک بچہ اس وقت کرکٹ گراؤنڈ میں موجود تھا۔ ان سے یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو انگریزی آتی ہے تو آپ میچ پر تبصرہ کریں۔ اس نے جرسی بھی نہیں پہنی تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے ان سے بیٹے کو پولیس سٹیشن لانے کو کہا تھا۔ بشیر احمد نے بتایا کہ انھوں نے اس ویڈیو کو نہیں دیکھا ہے، جس کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے، کیونکہ ان کے پاس ایسا موبائل فون نہیں ہے، جس پر یہ ویڈیو دیکھی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir

گاندربل سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی شیخ اشفاق جبار کہتے ہیں کہ ان بچوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں لگتا ہے کہ ہمیں ان چیزوں کو اتنی اہمیت دینی چاہیے کہ معاملہ اور بھی خراب ہو جائے۔ وہ چھوٹے بچے ہیں۔ اگر انھوں نے وردی پہنی بھی تو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ان چیزوں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔'

جبار کا کہنا ہے کہ زور زبردستی سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ گرفتار کرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں تو ہر جمعے کو اسلامی سٹیٹ کے پرچم لہرائے جاتے ہیں، ان کو آپ کیوں نہیں پکڑتے؟'

یہ میچ جس دن کھیلا گیا اس روز وزیر اعظم نریندر مودی جموں كشمير میں بننے والی سب سے طویل سرنگ کا افتتاح کر رہے تھے۔

کشمیر میں مظاہروں کے دوران پاکستانی پرچم لہرانے کی رجحان چل رہا ہے. لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کشمیر کے کرکٹ کھلاڑی پاکستان کا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوں۔

کشمیر کے دیہی علاقوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی یاد میں کرکٹ مقابلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے میں کشمیر میں کرکٹ ہمیشہ متنازع بن کر سامنے آتی رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں