’بندروں کے ساتھ رہنے والی لڑکی‘ کے والدین کی تلاش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا کی ’جنگل گرل‘

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں پولیس گمشدہ بچوں کی فہرست میں سے ایک بچی کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو گذشتہ دنوں اتر پردیش کے جنگل سے ملی اور شبہہ ہے کہ وہ وہاں بندروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔

انڈیا اور نیپال کی سرحد کے نزدیک گاؤں کے افراد کو جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے مختص کیے گئے پارک میں یہ بچی نظر آئی تھی لیکن اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ بچی کتنے عرصے سے جنگل میں رہ رہی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق بچی، جس کی عمر آٹھ سے دس سال کے درمیان ہے، بات چیت کرنے سے قاصر ہے اور اس کی حرکات و سکنات بندروں سے مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹروں نے مزید بتایا کہ وہ کافی کمزور اور لاغر تھی اور اس کے ناخن اور بال بڑھے ہوئے تھے اور جسم پر زخم بھی تھے۔ اس بچی سے انسانوں کی طرح بات چیت بھی نہیں ہو سکی تھی اور وہ چیخ مار کر جواب دے رہی تھی اور وہ چوپایوں کی طرح چل رہی تھی۔

لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ اب اس کی طبیعت کافی بہتر ہے اور مستقبل میں اس کو بچوں کے تحفظ اور بہبود کی تنظیموں اور دوسرے طبی ماہرین کے سپرد کر دیا جائے گا جو اس بچی کی نگہداشت کریں گے اور آہستگی سے اس کو دنیا کے سامنے لائیں گے۔

Image caption انڈیا میں اتر پردیش کی ریاست سے ملنے والی بچی

ہسپتال کے چیف میڈیکل افسر ڈی کے سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اس بچی کو بہت جلد لکھنؤ میڈیکل کالج منتقل کر دیا جائے گا۔

پولیس نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جس وقت وہ بچی کو بچانے گئے تھے وہ بندروں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ پولیس افسر سریش یادیو نے کہا کہ جب وہ بچی کو بچانے وہاں پہنچے بندروں نے پولیس پر حملہ بھی کیا ۔

مقامی ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اجے دیپ سنگھ بھی اس بچی سے ملنے ہسپتال گئے اور ہندو مذہب کی جنگجوں دیوی دُرگا کی مناسبت سے اس کا نام ’جنگل کی دُرگا‘ رکھ دیا۔ دوسری جانب انڈیا میں کئی لوگ اس بچی کو مشہور مصنف رڈیارڈ کپلنگ کی کتاب جنگل بک کے کردار موگلی سے ملا رہے ہیں جس کو بھیڑیوں نے پالا تھا۔

متعلقہ عنوانات