انڈین ریاست اڑیسہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی، 35 افراد گرفتار

بھدرک تصویر کے کاپی رائٹ BISWARANJAN MISHRA
Image caption شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور کشیدگی پائي جاتی ہے

انڈیا کی مشرقی ساحلی ریاست اوڈیشہ (اڑیسہ) کے شہر بھدرک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پر تشدد واقعات کی اطلاعات ہیں اور شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گيا ہے۔

ریاستی دارالحکومت بھونیشور سے صحافی سندیپ ساہو نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ہندوؤں کے دیوی دیوتا رام اور سیتا کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کے بعد بھدرک میں جمعرات سے شروع ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد اب بھی جاری ہے۔

شہر میں کرفیو نافذ ہے اور سکول کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

بھدرک کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دلیپ کمار داس نے بتایا ہے کہ پولیس نے پر تشدد واقعات میں شامل 35 افراد کو گرفتار کیا ہے اور صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش جاری ہے۔

تشدد اور آتشزدگی میں ابھی تک کسی کی جان نہیں گئی ہے تاہم جگہ جگہ مارپیٹ اور املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات جاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BISWARANJAN MISHRA
Image caption آتشزدگی کے واقعات نظر آئے ہیں

بہت سے مکانوں اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 35 پلاٹون پولیس فورسز تعینات کی گئی ہیں۔

حساس علاقوں میں مسلح پولیس کے دستے گشت لگا رہے ہیں۔ جمعے کی شام سے جاری کرفیو کو سنيچر چھ بجے تک کر دیا گیا ہے۔

ریاست کے ڈائریکٹر جنرل کے بی سنگھ کا کہنا ہے کہ ’حالات قابو‘ میں ہیں۔

کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ سیکریٹری داخلہ اسیت ترپاٹھی بھی بھدرک میں موجود ہیں۔

بھدرك سے کے بی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’اکا دکا لوٹ مار کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن کہیں سے بھی دو فرقوں کے درمیان اجتماعی لڑائی کی کوئی خبر نہیں ہے۔‘

بھدرك میں 31 مارچ سے ضلع میجسٹریٹ کا عہدہ خالی تھا، جس پر جمعہ کو کٹک میونسپل کارپوریشن کے کمشنر گیان رنجن داس کو فوری طور پر مقرر کر دیا گیا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے انھیں فوری طور پر ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا اور وہ جمعہ کی رات بھدرك پہنچ کر اپنی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔

شہر میں تمام سکولوں اور کالجوں کو بدھ تک بند کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ OTV
Image caption جانی نقصان کی اطلاعات تو نہیں البتہ املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے

وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک سمیت کئی اہم افراد نے عوام سے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی ریاستی دارالحکومت بھونیشور میں 15 اور 16 اپریل کو کانفرنس ہونے والی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اسی اجلاس میں سنہ 2019 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا خاکہ تیار کیا جائے گا۔

اور اسی ضمن میں بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھدرك کا واقعہ ریاست میں فرقہ وارانہ درجۂ حرارت کو بڑھا سکتا ہے اور اس سے آنے والے وقت میں پولرائزیشن تیز ہو سکتا ہے اور یہ بات بی جے پی کی انتخابی مہم کے حق میں جائے گي۔

اڑیسہ میں فسادات یا فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کم ہی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے اور مخلوط آبادی والے علاقے بھی بہت کم ہیں لیکن بھدرك اڑیسہ کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے، جہاں مسلمانوں کی زیادہ تعداد ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں