شام میں امریکی حملے پر دہشت گرد جشن منا رہے ہیں: حسن روحانی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ شامی اڈے پر امریکی حملے کی وجہ سے 'دہشت گرد جشن منا رہے ہیں۔'

ان کا یہ بیان شام میں حملے پر روسی ردِعمل کے بعد سامنے آیا ہے۔

٭روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

٭شام میں ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

خیال رہے کہ شام کے معاملے پر روس اور ایران شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔

جمعے کو شام میں میزائل حملے کے نتیجے میں کم ازکم چھ افراد ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ بدھ کو ہونے والے حملے کے بعد ہوا ہے جو مبینہ طور پر کیمیائی حملہ تھا۔ اس حملے میں 89 افراد ہلاک ہوئے۔

شامی فوج اس الزام کو مسترد کر رہی ہے کہ حملے میں کیمیائی مواد استعمال ہوا جبکہ شام کے اتحادی روس نے بغیر کسی ثبوت دیے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں باغیوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جہاں وہ کیمیائی ہتھیار رکھتے تھے۔

ادھر برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے ماسکو کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HANDOUT FROM IRANIAN GOVERNMENT

سنیچر کو شام کے دارالحکومت دمشق اور دینا کے مختلف شہروں میں شام میں ہونے والے فضائی حملوں کے خلاد مظاہرے کیے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ شام کے خلاف امریکی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔

ایران کے صدر نے کیا کہا؟

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’امریکہ کے دفتر میں اس وقت جو شخص بیٹھا ہوا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتا ہے۔ مگر آج شام میں موجود تمام دہشت گرد امریکی حملے پر جشن منا رہے ہیں۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’ آپ نے دہشت گرد گروہوں کی پہلے ہی قدم پرمدد کیوں کی؟

ایران کے صدر نے شام میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں