دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں امریکی فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ SUPPLIED

امریکہ کے مطابق امریکی سپیشل فورسز کا ایک سپاہی افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ فوجی اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ ننگرہار صوبے میں پیش آیا جو کہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے کو دولتِ اسلامیہ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

اسی علاقے میں امریکی فوج جہادی گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکی ہیں۔

جنوری 2015 میں دولتِ اسلامیہ نے اپنی شاخ خراسان کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب دولتِ اسلامیہ عرب دنیا سے باہر نکلی تھی۔

کچھ ہی ہفتوں میں یہ گروہ افغانستان کے کم ازکم پانچ صوبوں میں پھیل چکا تھا جن میں ہلمند، زابل، فرح، لوگر اور ننگرہار شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا جب اس بڑے گروہ نے افغانستان میں موجود مقامی شدت پسند گروہوں کو چیلنج کیا۔

2015 کے پہلے چھ ماہ کے دوران دولتِ اسلامیہ اس صوبے ننگرہار کے بڑے علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کر چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم اس تنظیم کو افغان طالبان اور افغان فوج اور اس کی معاون نیٹو فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران نقصان پہنچایا۔

اب دولتِ اسلامیہ شمالی افغانستان پر قابض ہو کر وسطی ایشیا، چیچن اور چین میں موجود شدت پسندوں سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہے۔

افغانستان میں اس تنظیم سے وابستہ شدت پسندوں کی تعداد ایک ہزار سے پانچ ہزار پائی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں