کشمیر الیکشن: پولنگ سٹیشن ویران، سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ نوجوان ہلاک

انڈین فورسز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں دو پارلیمانی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کے دوران کے احتحاج مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بڈگام ضلع کے چرارشریف علاقے میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں چھ نوجوان ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے نوجوان محمد عباس نثار احمد میر، شبیر احمد بٹ،عادل واسع اور فیضان ڈار ہیں۔

تاہم سرکاری طور اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

بڈگام میں کئی مقامات پر مشتعل نوجوانوں نے پولنگ مراکز اور پولنگ عملہ کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

٭ کشمیر میں ضمنی انتخابات، 20 ہزار اہلکار تعینات

حالیہ ہفتوں کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کے باعث لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے اور پولنگ مراکز میں خال خال ووٹرز ہی دیکھے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق صبح دس بجے تک صرف ایک فی صد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔

Image caption پولنگ سٹیشن سنسان پڑے ہیں تاہم حکام کو امید ہے کہ دوپہر بعد لوگ آئیں گے

اتوار کو سرینگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل پارلیمانی نشست پر پولنگ ہورہی ہے۔ اس نشست کے لیے بارہ لاکھ ساٹھ ہزار ووٹرز کا اندراج ہوچکا ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کو حساس یا حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔ اس نشست کے لیے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ سمیت نو امیدوار میدان میں ہیں۔

انتخابات کے دوران اضافی سکیورٹی بندوبست کیا گیا ہے اور انٹرنیٹ کی سبھی طرح کی سہولیات معطل ہیں۔ حکومت ہند نے پہلے ہی 20 ہزار نیم فوجی اہلکاروں کو پولنگ مراکز کی نگرانی کے لیے تعینات کیا تھا۔

بڈگام ضلع کے چاڈورہ قصبہ میں گذشہ ماہ ایک مسلح تصادم کے دوران شدت پسندوں کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد فورسز کی فائرنگ سے 16 سالہ عامر فیاض نامی نوجوان ہلاک ہوئے۔

Image caption مقتول نوجوان عامر کے والد فیاض احمد کہتے ہیں کہ 'اب تو یہاں کبھی بھی ووٹنگ نہیں ہوگی۔ مکمل بائیکاٹ ہوگا۔'

ان کے والد فیاض احمد کہتے ہیں: '2014 میں یہاں اکثر لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ میں نے بھی محبوبہ مفتی کی پارٹی پی ڈی پی کو ووٹ دیا، لیکن انعام میں کیا ملا؟ میرا اکلوتا بیٹا قبر میں سورہا ہے۔ اب تو یہاں کبھی بھی ووٹنگ نہیں ہوگی۔ مکمل بائیکاٹ ہوگا۔'

حکام کو اُمید ہے کہ دوپہر کے بعد ووٹنگ کی شرح بڑھ جائے گی۔ تاہم پوری وادی میں خوفناک خاموشی ہے۔ پولنگ مراکز میں ووٹروں سے زیادہ پولیس اور نیم فوجی اہلکار دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں