مغربی بنگال کے شہر بردوان کا تحفہ سیتا بھوگ مٹھائی

لڈو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بنگال اپنی مٹھائیوں کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے لیکن سیتابھوگ نامی مٹھائی بردوان کی دین ہے

بردوان انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں واقع ایک نسبتاً چھوٹا شہر ہے۔ تاریخ نویسوں کا خیال ہے کہ اس کا نام جین مذہب کے 24 ویں بھکشو رام مہاویر بردھامن کے نام پر رکھا گیا۔

سنہ 1954 اور 1957 کے درمیان جب بردوان کے آس پاس کے علاقوں میں آثار قدیمہ کی جانب سے کھدائی کا کام شروع ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا تعلق قدیم بنگال سے بہت پرانا ہے۔

٭ مالیرکوٹلہ کی کہانی

٭ دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

بردوان کسی زمانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا اور اسے مغلوں اور بعد انگریزوں کی سرپرستی حاصل رہی۔ یہاں کے زمیندار جو بعد میں راجہ مہاراجہ کہلائے انھوں نے پہلے مغلوں اور پھر انگریزوں سے انعام و اکرام حاصل کیے اور اس کے علاوجہ جاگیریں اور خطابات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

سنہ 1657 میں لاہور سے نقل مکانی کرکے آنے والے کوٹلی خاندان کے ایک شخص سنگم رائے نے بردوان کےقرب و جوار میں سکونت اختیار کی اور ان کا تجارت پیشہ خاندان ایک عرصے تک وہیں رہا۔ اس وقت بنگال کا بول بالا تھا اور ایشیا کے دور دراز علاقوں سے اس کے تجارتی روابط تھے۔ زراعتی لحاظ سے یہاں چاول کی اس قدر کاشت ہوتی کہ اس علاقے کو رائس باؤل کہا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاغذ کے پھولوں کے ساتھ بردوان کے شاہی خاندان کی چند خواتین کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر انگلینڈ میں سنہ 1929 میں لی گئی تھی

مغل بادشاہ شاہجہاں کی موت کی افواہ نے شہزاہ شجاع کو تخت و تاج کے لالچ میں بغاوت آمادہ کیا۔ شاہجہاں نے شہزادے کی سرکوبی کے لیے فورا فوج روانہ کی لیکن چونکہ بنگال کا نظم و نسق شجاع کے ہاتھوں میں تھا اس لیے اس نے شاہی فوج تک رسد کے سارے راستے مسدود کر دیے۔

اس وقت بردوان کے زمیندار ابو رائے نے شاہی فوج کی مدد کی۔ شاہجہاں نے خوش ہوکر انھیں بردوان کا حاکم مقرر کیا اور اس طرح لاہور کا تاجر بنگال کا راجہ بن گیا۔

اس سے قبل جہانگیر کے دور میں افغان سردار شیر افگن کی وجہ سے بھی بردوان توجہ کا مرکز تھا۔ خیال رہے کہ شیر افگن کی اہلیہ بعد میں جہاگیر کے نکاح میں آئیں اور نورجہاں کے نام سے مشہور ہوئیں۔

مغلوں کے زوال کے بعد بردوان کو انگریزوں کی سرپرستی حاصل رہی کیونکہ وہاں کے راجہ انگریزوں کے وفادار رہے۔ انھوں نے نہ صرف اسے اقتصادی طور پر مضبوط بنایا بلکہ ادبی سطح پر بھی اس عروج عطا کیا۔ بردوان کے کاشی رام نے مہابھارت کا ترجمہ کیا، قاضی نذرالاسلام جیسے معروف شاہر بھی بردوان کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔

مہاراجہ بجوئے چندر مہتاب نے سنہ 1904 میں ہندوستان کے وائس رائے لارڈ کرزن کو بردوان آنے کی دعوت دی اور ضیافت کے بہترین انتظامات کیے۔ ان کے اعزاز میں کرزن دروازے کی تعمیر ہوئی جو بردوان میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرنس چارلز اور ڈچس آف کورنوال کمیمیلا کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے جن کی ضیافت میں مٹھائی پیش کی گئی ہے

مہاراج کی درخواست پر بنگال کے نامی گرامی حلوائیوں کو مخصوص مٹھائی بنانے کے لیے کہا گیا اور سیتا بھوگ اور میہی دانہ بطور خاص ضیافت میں پیش کیا گیا۔ لارڈ کرزن کو دونوں مٹھائیاں بے حد پسند آئیں اور انھوں نے ہر ضیافت میں ان کا ہونا لازمی قرار دیا اور دونوں مٹھائیوں کو دنیا کی بہترین مٹھائی قرار دیا۔

بنگال مٹھائی کے لیے پہلے سے ہی مشہور ہے جبکہ لنگ چا بردوان کی اور مٹھائی ہے اور اس کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ تقریبا 90 سال پہلے بردوان کی ایک رانی نے مختلف قسم کی مٹھائی کی خواہش ظاہر کی۔ تاریخ نویسوں کا کہنا ہے کہ ایک حلوائی نے پنیر اور چیکو کی آمیزش سے ایک نئی قسم کی مٹھائی رانی کو پیش کی۔ حلوائی چونکہ لنگڑا تھا اس لیے مٹھائی کا نام لنگ چا پڑ گیا اور اب بھی وہ مٹھائی وہاں ملتی ہے۔

گوکہ بردوان کی اہمیت وقت کے ساتھ ختم ہو گئی لیکن اس کی مٹھائی سیتا بھوگ اور میہی دانے کی شہرت اب بھی قائم ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں