اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

مسلمان
Image caption اترپردیش کے مسلمانوں میں ایک قسم کی بے چینی اور خوف و ہراس کا احساس پیدا ہوا ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست اترپردیش کی سنبھل-رامپور شاہراہ پر پلولا نامی ایک گاؤں میں کچھ لوگ چارپائی پر بیٹھے باری باری لمبے لمبے کش لے کر حقہ گڑگڑا رہے ہیں۔

بحث نوٹ بندی (بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی) سے لے کر ميٹ بندی (گوشت پر پابندی) پر ہو رہی ہے اور موجودہ حالات سے سمجھوتے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

بحث میں شامل توصیف الرحمن اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی تاریخی جیت، یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنائے جانے اور 'غیر قانونی' مذبح کے خلاف مہم کو ہندو راشٹر سے منسلک تسلیم کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک ہندو راشٹر ہونے والا ہے۔ لوگ اس کی بہت کوشش کر رہے ہیں۔'

وہاں بیٹھے لوگ مسٹر توصیف کی باتوں پر سر ہلا کر اتفاق ظاہر کرتے ہیں۔ ریاست میں جگہ جگہ عام مسلمانوں کی رائے اس سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔ اگر ایک عام مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ انڈیا ہندو راشٹر ہونے والا ہے تو مسلم لیڈر کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے سے ہی ایک ہندو ملک ہے۔

سنبھل سے سماجوادی پارٹی سے چھٹی بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے پچھلی حکومت میں وزیر کابنیہ اقبال محمود کہتے ہیں کہ انڈیا ہندو راشٹر تو آزادی کے پہلے دن سے ہی ہے۔

Image caption بی جے پی رہنما شیو بہادر سکسینہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ان کی پارٹی میں خیرمقدم ہے

'ہندو راشٹر میں رکھا کیا ہے؟ ہندوستان کے اندر ہندو اکثریت میں ہیں۔ پہلے دن سے ان کی حکومتیں بنتی آئیں ہیں اور آگے بھی انھی کی حکومت ہوگی۔ مسلمان یا دوسری اقلیتوں نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ ہم وزیر اعظم بنیں گے۔ ہندو ملک ہے تو ہندو ہی بنیں گے۔'

دراصل حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست جیت اور یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلی بننے کے بعد ریاست کے مسلم معاشرے میں سراسمیگی سی پھیل گئی ہے۔ خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

بی جے پی کی کامیابی سے انھیں بڑا سیاسی دھچکہ لگا ہے اور اسے وہ اتنے ہی بڑے واقعے کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ سنہ 1992 میں بابری مسجد گرايے جانے کو۔

غیر قانونی کہے جانے والے مذبح خانوں کے خلاف کارروائی اور رام مندر بنانے کے لیے نئے سرے سے بیان بازی کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف بڑھ رہا ہے۔ ریاست کا مسلمان خود کو تنہا اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگا ہے۔

اسے لگ رہا ہے کہ اب اس کے حق چھین لیے جائیں گے اور وہ دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں گے۔

رام پور کے رکن اسمبلی اعظم خان ایک زمانے سے الیکشن جیتتے آئے ہیں اور گذشتہ حکومت میں ایک اہم وزارت پر فائز تھے۔ وہ کہتے ہیں: 'مسلمانوں کے پاس پاکستان جانے کا اختیار تھا وہ نہیں گئے۔ اب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے یہاں رہنے کا کیا جواز ہے؟

اعظم خان کہتے ہیں کہ مسلمان تو اپنا نام بتانے سے ڈرنے لگا ہے۔ 'در اصل بھارت ایک ہندو ملک ہی ہے۔ جن کی اکثریت انھی کا ملک۔' ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

Image caption یوپی کے مسلمانوں میں نئی صورت حال کے پیش نظر گفتگو اور اتحاد کی بات ہونے لگی ہے

'مسلمانوں کے ووٹ دینے کے حق کو ختم کرنے کی بات بہت زمانے سے چل رہی ہے۔ مسلمانوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری بنانے کی بات بہت زمانے سے چل رہی ہے اور یہ آر ایس ایس کا ایجنڈا بھی ہے۔ مسلمان دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری تو دور وہ اپنا نام بتانے سے بھی ڈرنے لگا ہے۔

انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں مسلم آبادی 20 فیصد ہے، یعنی ریاست میں چار کروڑ مسلم بستے ہیں۔ اسمبلی کی 403 نشستوں کے لیے حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا۔

اس کے امیدواروں نے مسلم ووٹ کھلے عام نہیں مانگے۔ اس کے باوجود پارٹی کو ریکارڈ کامیابی ملی۔ گذشتہ انتخابات میں 65 مسلم امیدوار منتخب ہوئے تھے۔ اس اسمبلی میں ان کی تعداد گھٹ کر 23 رہ گئی ہے جن میں سے زیادہ تر سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

مسلمانوں کا خیال ہے کہ حکمران پارٹی میں سیاسی شراکت کی عدم موجودگی میں اسمبلی میں ان کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

شیو بہادر سکسینہ بی جے پی کے ایک سینیئر لیڈر ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں وہ اعظم خان سے ہار کر دوسرے نمبر پر رہے۔ دو بار وزیر رہ چکے سکسینہ کہتے ہیں کہ مسلمان فکر مند ہیں کہ اب تک جو من مانی وہ کرتے تھے اب نہیں چلے گی۔

"رام پور میں ہندو اقلیت میں ہیں۔ شہر میں جاکر دیکھیے جہاں 20 گھر ہندوؤں کے ہیں وہ چاروں طرف مسلمانوں سے گھرے ہیں۔ مسلمان ان کو دباتے تھے۔ ان ہندوؤں میں یہ احساس بیدار ہوا ہے کہ اب ان کی حکومت آ گئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'انھیں یہ خوف ہے جہاں وہ حکومت چلاتے تھے وہ اب ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔

Image caption اعظم خاں بعض مسلم رہنما کو قوم کا غدار مانتے ہیں اور انھیں اتحاد میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں

تو کیا یوپی کا مسلمان بی جے پی سے ڈرتا ہے؟ رام پور کے ایک مارکیٹ میں کچھ لوگوں سے جب یہ پوچھا کہ وہ بی جے پی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو محمد اقبال نامی ایک شخص نے یہ کہا: 'مسلمان جب ان کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے تو ان کا برتاؤ ایسا ہونے لگتا ہے کہ مسلمان ان سے دور ہونے لگتا ہے جیسے کہ گائے کا معاملہ یا تین طلاق کا مسئلہ۔ ان سب مسائل سے مسلمان بدزن ہیں۔ اگر یہ باتیں دور کر دیں تو مسلمان ان کے قریب آ سکتے ہیں۔'

لیکن ان کے ساتھی حامد علی کہتے ہیں مسلمان خود بی جے پی میں جانا نہیں چاہتے۔ 'اگر وہ پارٹی میں جائیں اور ٹکٹ مانگیں تو انھیں ٹکٹ کیوں نہیں ملے گا؟ آپ بی جے پی میں جائیں، ٹکٹ لیں اور الیکشن لڑیں۔ جب آپ بی جے پی سے خود بچیں گے تو کیا ہوگا؟'

حامد علی مسلمان لیڈروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں: 'در اصل ہمارے لیڈر ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مسلمان بی جے پی کا ٹکٹ لے لے تو اسے وہ ایک مسئلہ بنا دیتے ہیں۔

ریاست میں دو بار وزیر رہ چکے شیو بہادر سکسینہ کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی مسلمانوں کو قبول کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔ 'یہ (مسلمان) ایک قدم ہماری طرف آ کر تو دیکھیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر گلے نہیں گلے لگائیں تو کہنا۔ لیکن یوپی کے مسلمانوں کو اپنی ذہنیت بدلنی پڑے گی۔

ذہنیت تبدیل کرنے سے ان کا کیا مطلب ہے، یہ سکسینہ نے نہیں بتایا لیکن کہا کہ مسلمانوں کو بی جے پی پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ 'وزیر اعظم کا نعرہ ہے سب کا ساتھ سب کی وکاس (ترقی)۔ ہم اس میں انھیں بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد مسلمانوں میں بھی اب غور و فکر جاری ہے۔ تجزیے کا ایک دور شروع ہو چکا ہے۔ ایک متفقہ خیال یہ ہے کہ اگر بی جے پی مسلم مخالف ہے تو خود کو 'مسلمانوں کا مسیحا' کہنے والی پارٹیوں نے اس برادری کا کتنا بھلا کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کے یوگی کے وزیر اعلی بننے کے بعد مسلمان خائف نظر آ رہے ہیں

سنبھل کے سینیئر مسلم لیڈر شفیق الرحمن برق سماجوادی پارٹی کے بانی رکن تھے اور چار بار لوک سبھا کا الیکشن جیت چکے ہیں۔ وہ حال ہی میں آل انڈیا اتحاد المسلمين میں شامل ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی اور دوسری سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کو غلام کی طرح استعمال کیا ہے۔ 'ان پارٹیوں نے بھی مسلمانوں کو بندھوا مزدور کی طرح رکھا اور ان کو برابر کا شریک نہیں مانا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں غربت، بے روزگاری اور تعلیم کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

86 سالہ برق کا کہنا تھا کہ آج کے مسلمانوں کا مذہبی اور اخلاقی کردار کافی کمزور ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک زمانہ تھا جب مسلمان کو تین امتیازات وخصوصیات وفاداری، ایمانداری اور سچ بولنے کی عادت کے لیے جانا جاتا تھا۔

ان کے مطابق مسلمان کی عزت اسی وقت بڑھے گی جب وہ ان امتیازات وخصوصیات کو دوبارہ اختیار کریں۔ دوسری طرف مسلمان کے درمیان اتحاد بنانے کی بات بھی زور پکڑ رہی ہے۔

اتحاد کے معاملے پر رہنما اور عوام دونوں متفق ہیں۔ ہر طرف یہ بحث ہو رہی ہے کہ مسلم کمیونٹی بہت فرقوں اور گروہوں میں منقسم ہے جس کی وجہ سے ان کے ووٹ بھی تقسیم ہو جاتے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے کہا کہ انتخابات میں کسی پارٹی کا ووٹ بینک نہ بنیں۔ آئی ٹی کی صنعت سے منسلک ایک نوجوان تنویر علی کے مطابق مسلم کمیونٹی ایک علاقے میں ایک مسلم امیدوار کو ہی ووٹ دیں تاکہ اس کا ووٹ تقسیم نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گائے اور تین تلاق جیسے متنازع معاملوں سے مسلمانوں میں بدزنی پیدا ہوتی ہے

اعظم خان بھی اتحاد کے حامی ہیں لیکن وہ اس اتحاد میں ان مسلمان کو شامل نہیں کرنا چاہتے جنھیں وہ مسلمان کا غدار کہتے ہیں۔ اس لسٹ میں وہ اسدالدين اویسی، دہلی جامع مسجد کے امام احمد بخاری اور علماء کونسل کے مذہبی رہنماؤں کو شامل کرتے ہیں۔

لیکن زیادہ تر مسلمان، جن میں برق اور محمود جیسے رہنما شامل ہیں، کہتے ہیں کہ مسلم اتحاد کافی نہیں ہے۔ مسلمانوں کو سیکولر طاقتوں کے ساتھ مکمل طور پر جڑنا ہوگا۔ لیکن یہ کہنا جتنا آسان ہے کرنا اتنا مشکل۔

حامد علی کے مطابق فی الحال ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میں امن قائم ہو۔ بی جے پی کو ان کا مشورہ یہ تھا کہ 'جتنے بھی بی جے پی لیڈر ہیں وہ اپنی زبان سنبھالیں، محبت سے پیش آئیں، دل توڑنے والی بات نہ کریں۔ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا۔ پیار محبت سے ہمیں رکھیں۔

حامد علی مسلم رہنماؤں کو بھی ایک مشورہ دیتے ہیں: 'ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں، ماحول نہ بگاڑیں اور بی جے پی میں شامل ہونے والوں کا بکھیڑا نہ بنائیں۔

اسی بارے میں