انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں: ٹی راجا سنگھ

ٹی راجا سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ SUDHEER KALANGI
Image caption ٹی راجا سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ گائے کو بچانے اور رام مندر بنانے کے لیے 'جان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں'

انڈیا کی وسطی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ گائے اور رام مندر کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے حق میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں ہے۔'

٭ ’گائے کے محافظوں‘ کے حملے میں زخمی ہونے والا شخص ہلاک

٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

ان کا کہنا ہے کہ منہدم بابری مسجد کی جگہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کے لیے وہ اپنے عہد کے پابند ہیں اور اس کے لیے وہ 'جان دینے اور جان لینے کو تیار ہیں۔'

کیا ایک رکن اسمبلی کو یہ کہتے ہوئے ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے؟

اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں: 'رکن اسمبلی سے پہلے میں ایک ہندو ہوں۔ اور میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔' بہرحال اس کے ساتھ وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ یہ ان کی پارٹی کا نہیں، بلکہ ان کا ذاتی موقف ہے۔

رام مندر کے متعلق متنازع بیان پر راجا سنگھ نے بی بی سی سے کہا: 'رام مندر بنانا ہر ہندو کا عزم ہے اور میرا بھی عہد ہے۔ ہندو ہو یا مسلمان سکھ ہو یا عیسائی اگر کوئی بھی رام مندر کی تعمیر کی راہ میں آتا ہے تو ہم ہم جان دے بھی سکتے ہیں اور ہم ان کی جان لے بھی سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1992 میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا

ٹی راجا سنگھ مزید دھمکی آمیز لہجے میں کہتے ہیں: 'اگر کوئی بات نہیں مانتا ہے تو ہم ہر طرح سے تیار ہیں۔ بس ہمارا مقصد ایودھیا میں رام مندر بنانا ہے۔ ہم ہر طرح سے تیار ہیں۔ آپ سمجھ لیجیے۔ ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے۔'

کیا انھیں ملک کے آئین اور قانون پر اعتماد نہیں ہے؟

اس سوال پر وہ کہتے ہیں: 'سپریم کورٹ پر اعتماد ہے، یہی سوچ کر آج تک انتظار کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں اور انتظار کریں گے۔'

لیکن اگر فیصلہ خلاف آیا، تو؟ اس کے جواب میں بی جے پی رکن اسمبلی کہتے ہیں: 'تو، ہم جان دے دیں گے لیکن ایودھیا میں رام مندر بنا کر رہیں گے۔ اور جب جان دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو (جان) لیں گے بھی۔'

ٹی راجا سنگھ گئو رکھشا (گائے کے تحفظ) کے معاملے پر واضح موقف رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 1999 میں انھوں نے 'شری رام یوا سینا گئو ركھشا دل' نامی تنظیم بنائی اور گائے کے ذبیحے کے خلاف تحریک شروع کی۔

ان کا کہنا ہے کہ گوركشا کے لیے انھوں نے کئی لڑائیاں لڑی ہیں اور ان کے خلاف مقدمے بھی درج کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گائے کو ہندو مذہب میں خاص مقام حاصل ہے اور بہت سے لوگ اسے پوجتے ہیں

ٹی راجا سنگھ گئو رکھشا کے متعلق آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان کی حمایت کی بات تو کرتے ہیں، لیکن گائے کو بچانے کے لیے تشدد کو غلط نہیں سمجھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میں موہن بھاگوت کے اس بیان کی حمایت کرتا ہوں کہ جو گوركشا کرتے ہیں وہ کسی کے اوپر حملہ نہ کریں۔ لیکن جب ہم گوركشا کو جاتے ہیں۔ ٹرک پکڑتے ہیں، تب اگر ان کی طرف سے حملہ ہوتا ہے تو اپنا تحفظ تو کرنا ہوگا۔ نہیں تو ہم مارے جائیں گے۔'

حال ہی میں راجستھان کے الور ضلعے میں گوركشكوں کے مبینہ حملے میں ایک شخص کی موت کے معاملے پر وہ کہتے ہیں: 'ہم نے بھی وہ ویڈیو دیکھی ہے۔ ہمیں بھی بہت تکلیف ہوئی کہ اس طرح ایک بوڑھے کو نہیں مارنا چاہیے لیکن گائے کی اہمیت زیادہ ہے اگر کوئی شخص اس کی جان لیتا ہے تو گو رکشا کرنے والا اپنا آپا کھو کھو بیٹھتا ہے۔'

لیکن کیا گائے کو بچانے کے لیے کسی انسان کی جان لینا درست ہے؟

اس سوال پر وہ کہتے ہیں: 'گائے سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں ہے۔' وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے گائے سے بڑھ کر انسان بھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں