یوپی: ’مذبح خانوں کے خلاف مہم، مسلمانوں کے کاروبار کے خلاف سازش‘

یوپی

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر رام پور کی معروف رضا لائبریری کے عقب میں واقع بازار میں ہر چیز بکتی ہے۔

وہاں گوشت کی دکانیں بھی ہیں لیکن ان دنوں بند پڑی ہیں۔

گوشت کی ان دکانوں میں سے ایک کے مالک محمد قریشی کا الزام ہے کہ اتر پردیش میں مذبح خانوں کے خلاف جاری مہم مسلمان مخالف ہے۔

اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

'ہماری تو قسمت پر تالا لگ گیا ہے'

اترپردیش میں مذبح خانے بند ہونا شروع

وہ کہتے ہیں کہ 'مسلمانوں کے کام پر ہی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ مسلمان کو کاروبار سے توڑنا چاہ رہے ہیں۔ کاروبار جب ٹوٹ جائے گا، اس کے پاس پیسہ نہیں ہو گا، تو ظاہر ہے وہ غلام بن کر رہے گا۔'

ریاستی حکومت کہتی ہے کہ یہ کارروائی کسی کمیونٹی کے خلاف نہیں لیکن حکومت کی باتوں پر مسلمان کمیونٹی کو اعتماد نہیں ہے۔

قریشی اس دلیل کو نہیں مانتے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'پہلے گوشت کا کام بند کیا اور دو دن پہلے تمام آرا مشینیں توڑ دیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی تھیں۔'

شہر کے مذبح خانے بند ہیں۔ گوشت کھانے والے پریشان ہیں۔ ریستوران اور گھروں میں گوشت دستیاب نہیں ہے۔

ایک ریستوران کے مالک نے کہا کہ 'رام پور مسلم اکثریتی شہر ہے۔ یہاں مسلمان اور ہندو دونوں کو گوشت کا شوق ہے لیکن اب سبزیاں کھائی جا رہی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بکرے، مرغی اور مچھلیوں کے گوشت کی دکانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے لیکن ڈر کے مارے دکاندار خود گوشت کی دکان نہیں کھول رہے ہیں۔ خبریں ایسی بھی ہیں کہ بعض پولیس اہلکار مشتعل ہو کر ہر طرح کی گوشت کی دکانوں کو بند کروا رہے ہیں۔

ریاستی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ صرف غیر قانونی مذبح خانے بند کراوئے جا رہے ہیں لیکن رام پور میں قریشی برادری کے صدر زاہد قریشی کہتے ہیں کہ غیر قانونی مذبح خانے ہوتے ہی نہیں ہیں۔

ان کے مطابق لوگوں کو مذبح خانوں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مذبح خانے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک روایتی مذبح خانے جو میونسپل کارپوریشن کے ہوتے ہیں اور دوسرے جدید مشینوں والے مذبح خانے جو تمام نجی ملکیت کی حامل ہیں اور جہاں کا گوشت صرف برآمد کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ 'یوپی میں کوئی نجی مذبح خانہ نہیں ہے۔ سارے مذبح خانے میونسپل کارپوریشن کے ہیں۔'

جدید اور نجی مذبح خانوں کے لیے لائسنس لینا پڑتا ہے۔ اس صنعت میں مسلمان اور ہندو شراکت دار ہیں۔

سماجوادی پارٹی کی پچھلی حکومت نے کئی برس سے نئے لائسنس جاری نہیں کیے تھے اور موجودہ لائسنسوں کی تجدید نہیں کی گئی۔ اسی لیے ریاستی حکومت اس بحران کی ذمہ داری سماج وادی پارٹی کی حکومت پر مسلط کرتی ہے۔

گوشت کے کاروبار سے منسلک قریشی برادری کے ایک نوجوان رہنما طارق حسین قریشی مانتے ہیں کہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن وہ سماجوادی پارٹی کی پچھلی حکومت کو اس کا زیادہ ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'یہ سماجوادی پارٹی کی ہی سازش ہے۔ اس کی حکومت نے 2014 میں جتنے بھی میونسپل والے مذبح خانے تھے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے۔ مسلم قوم کو اور خاص طور سے قریشی برادری کو سماجوادی پارٹی نے نشانہ بنایا ہے۔'

دوسری طرف سنہ 2014 میں سپریم کورٹ نے گوشت کی دکان اور مذبح خانوں کے لیے کئی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان کے بارے میں قریشی برادری سے لے کر ریاستی حکومت تک کسی کو معلوم نہیں تھا۔ زاہد قریشی کے مطابق پچھلی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو دبا دیا تھا۔

عدالت کا حکم مذبح خانوں کو بہتر بنانے سے متعلق تھے جنھیں اب تک لاگو نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے عدالت کے حکم پر عمل کرنا شروع کیا ہے۔ ریاستی حکومت ناراض قریشی برادری سے بات چیت بھی کر رہی ہے۔

لیکن گوشت کے کاروبار سے منسلک قریشی برادری کے مطابق حکومت نے لائسنس والے جدید مذبح خانے بھی بند کر دیے ہیں۔

دوسری طرف قریشی برادری پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے جانوروں کو اپنی دکانوں کے پچھلے حصے میں لے جا کر حلال کر کے گوشت فروخت کرتے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض لوگوں نے کہا کہ گھروں کے اندر بھینسے حلال کیے جا رہے ہیں۔

پارٹی کے ایک سینیئر رہنما شیو بہادر سکسینہ کہتے ہیں: 'یہاں تو ہر گلی میں مذبح خانے ہوا کرتے تھے۔ یہاں گلیوں میں لوگ جانور کاٹ دیا کرتے تھے۔ یہاں لوگ عید، بقرا عید پر گائے کے گلے میں مالا ڈال کر سڑک پر گھما کر مظاہرہ کیا کرتے تھے کہ اسے ہم کاٹنے لے جا رہے ہیں اور گلی میں لے جا کر کاٹ دیا کرتے تھے۔'

سکسینہ نے مسلمانوں کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ حکومت انھیں غریب کرنا چاہتی ہے. وہ کہتے ہیں کہ 'حکومت جب قانون بناتی ہے تو مسلمان اور ہندو دونوں کے لیے تیار کرتی ہے۔'

کئی مسلم رہنماؤں کی رائے میں گوشت کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ کچھ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مسلمان کچھ وقت کے لئے گوشت کھانا اور فروخت کرنا بند کر دیں۔

سابق ایم پی شفيق الرحمن برق کہتے ہیں: 'میں تو مسلمانوں سے یہ کہتا ہوں کہ تم گوشت خریدنا، فروخت کرنا، کاٹنا اور کھانا بند کر دو۔ جب تک تمہارا مسئلہ حل نہیں ہوتا، آپ عزت سے دوسرا کوئی کام کرو۔ یہ مسئلہ ان (حکومت ) کو خود حل کرنا پڑے گا۔'

لیکن قریشی برادری کے زاہد قریشی کے مطابق مشورہ دینا آسان ہے۔ اس معاشرے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں جن کے پاس 'کھانے کے پیسے نہیں ہیں۔'

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں قریشی برادری اور مذبح خانوں کے مالکان سے ملاقات کی اور انھیں یقین دلایا ہے کہ ان کے مسائل پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں