13 اپریل کو ہی جنرل ڈائر نے جلیاں والا باغ پر حملہ کروایا تھا

تصویر کے کاپی رائٹ MARTIN DYER
Image caption فائرنگ روکنے کے بعد ڈائر اپنی گاڑی تک پیدل چل کر گئے اور اسی راستے سے رام باغ واپس چلے گئے جس راستے سے وہ جلیاں والا باغ آئے تھے

13 اپریل، 1919 کو شام ساڑھے پانچ بجے امرتسر کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے دو بکتر بند گاڑیاں جلياں والا باغ کے قریب ایک پتلی سی گلی کے سامنے ركيں۔ گاڑیاں آگے نہیں جا سکتی تھیں کیونکہ وہاں پر صرف دو لوگوں کے ہی ایک ساتھ گزرنے کی جگہ تھی۔

ایک گاڑی پر بریگیڈیئر جنرل ریجنلڈ ڈائر اپنے میجر مورگن برگز اور اپنے دو برطانوی سارجنٹ اینڈرسن اور پزی کے ساتھ سوار تھے۔

گاڑی سے اترتے ہی انھوں نے رائفلوں سے لیس 25 گورکھا اور 25 بلوچ فوجیوں کو اپنے پیچھے آنے کا حکم دیا اور صرف کھکھری سے لیس 40 فوجیوں کو باہر ہی کھڑے رہنے کے لیے کہا گیا۔

اس سے پہلے جب وہ ہال بازار کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ان کے دماغ میں چل رہا تھا کہ اگلے چند منٹوں میں وہ کیا فیصلہ لینے والے ہیں۔

جنرل ڈائر نے ہنٹر کمیٹی کو بتایا تھا: 'جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا میں نے طے کر لیا تھا کہ اگر میرے احکامات پر عمل نہیں ہوا تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گولی چلوا دوں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ARMY MUSEUM
Image caption جنرل ڈائر کا کہنا تھا کہ انھیں صرف فرض نبھانے کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا

جنرل ڈائر نے باغ میں داخل ہوتے ہی میجر برگز سے پوچھا: 'آپ کے اندازے میں کتنے لوگ اس وقت یہاں پر موجود ہیں؟'

برگز نے جواب دیا: 'تقریباً پانچ ہزار۔' بعد میں انھوں نے پنجاب کے چیف سیکریٹری جے پی ٹامسن کو بتایا کہ گولی چلانے کا فیصلہ کرنے میں انھیں صرف ’تین سیکنڈ لگے‘۔ اس وقت سٹیج پر بینک کے کلرک برج بیكال اپنی نظم 'فریاد' سنا رہے تھے۔

اس وقت ایک ہوائی جہاز بھی بہت نیچی پرواز کرتے ہوئے جلسے کے اوپر سے حالات کا جائزہ لے رہا تھا۔ فوجیوں کو دیکھتے ہی کچھ لوگ وہاں سے اٹھنے لگے۔ تبھی سبھا کے ایک آرگنائزر ہنس راج نے چلا کر کہا: 'انگریز گولی نہیں چلائیں گے اور اگر چلائیں گے بھی تو گولیاں خالی ہوں گی۔'

لیکن اس سے لوگوں کا خوف کم نہیں ہوا اور لوگ بھاگنے لگے۔

جنرل ڈائر نے بغیر کسی انتباہ کے، وہاں پہنچنے کے 30 سیکنڈ کے اندر اندر، چلّا کر حکم دیا، 'فائر'۔

تصویر کے کاپی رائٹ BRITISH LIBRARY
Image caption اسی راستے سے جنرل ڈائر اور ان کے فوجی جلیاں والا باغ میں داخل ہوئے تھے

ہنٹر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، کیپٹن كریمپٹن نے اس حکم کو دہرایا اور فوجیوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔

لوگ ڈر کر ہر سمت میں بھاگنے لگے لیکن انہیں باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔ سارے لوگ تنگ گلی کے دروازے پر جمع ہوکر باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔

ڈائر کے فوجیوں نے ان کو اپنا نشانہ بنایا۔ لاشیں گرنے لگیں۔ بہت سے لوگ بھگدڑ میں دب کر ہلاک ہو گئے۔ کئی جگہ ایک کے اوپر ایک، دس سے بارہ لاشوں کا انبار لگتا چلا گیا۔

بہت سے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر فرار ہونے کی کوشش کی اور فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ بھیڑ میں موجود کچھ سابق فوجیوں نے چلا کر لوگوں سے لیٹ جانے کے لیے کہا، لیکن ایسا کرنے والوں کو بھی پہلے سے لیٹ کر پوزیشن لینے والے گورکھاؤں نے نہیں بخشا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARTIN DYER
Image caption جنرل ڈائر ایبٹ آباد میں اپنی تعیناتی کے وقت اپنی گاڑی کے ساتھ

نائیجل کولیٹ اپنی کتاب 'دی بُچر آف امرتسر' میں لکھتے ہیں: 'کبھی کبھی گولیاں چلنا ركتیں، وہ اس لیے کیونکہ فوجیوں کو اپنی رائفلیں دوبارہ لوڈ کرنی ہوتی تھیں۔ جنرل ڈائر خود دوڑ دوڑ کر اس طرف فائرنگ کرنے کا حکم دے رہے تھے جہاں زیادہ لوگ جمع ہو رہے تھے۔'

بعد میں سارجنٹ اینڈرسن نے، جو کہ جنرل ڈائر کے بالکل ساتھ ہی کھڑے تھے، ہنٹر کمیٹی کو بتایا: 'جب فائرنگ شروع ہوئی تو پہلے لگا کہ پوری کی پوری بھیڑ زمین پر گر گئی ہے ۔۔۔ پھر ہم نے کچھ لوگوں کو اونچی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا. تھوڑی دیر بعد میں نے کیپٹن برگز کے چہرے کی طرف دیکھا۔ مجھے ایسا لگا کہ انہیں کافی درد محسوس ہو رہا تھا۔'

ان کے مطابق: 'وہ جنرل کی کہنی کو پکڑے ہوئے تھے۔ ہندوستانی فوجیوں کا فائر کنٹرول اور نظم و ضبط اعلیٰ سطح کا تھا۔ فائرنگ کا انچارج افسر جنرل ڈائر پر اپنی نظر جمائے ہوئے تھا اور فائر کرنے اور روکنے کا حکم دے رہا تھا، جس پر فوجی مکمل طور پر عمل کر رہے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ARMY MUSEUM
Image caption جنرل ڈائر انگلینڈ واپس ہونے کے بعد

بعد میں جب اس آپریشن میں موجود دو گورکھا فوجیوں سے ایک آئی ایس افسر جیمز پی ڈی نے ان کے تجربات کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا: 'صاحب جب تک گولیاں چلیں، بہت اچھا رہا۔ ہم نے اپنے پاس ایک بھی گولی بچا کر نہیں رکھی۔'

گولیوں کی بوچھاڑ کے درمیان ہی کچھ لوگوں نے ایک کنویں کی آڑ لینے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ کنویں میں کود کر پانی میں ڈوب بھی گئے۔ ڈائر ان لوگوں کو نشانہ بنانے کا حکم دے رہے تھے جو 'بہتر طور پر نشانہ' بن سکتے تھے اور جو پیپل کے درخت کے تنے کی آڑ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

گردھاری لال نے، جو ایک قریبی مکان سے دوربین کی مدد سے سارا منظر دیکھ رہے تھے، ہنٹر کمیٹی کو بتایا: 'باغ کا کوئی بھی ایسا کونا نہیں تھا جہاں گولیاں نہ برس رہی ہوں۔ بہت سے لوگ تو بھاگتے ہوئے لوگوں کے پیروں کے نیچے آ کر کچلنے سے ہلاک ہوئے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فائرنگ میں پھنسنے والے لوگوں میں مولوی غلام جیلانی بھی تھے۔ بعد میں انھوں نے کانگریس کی تفتیشی کمیٹی کو بتایا: 'میں دیوار کی طرف دوڑا اور لاشوں اور زخمی پڑے لوگوں کے ڈھیر پر گر پڑا۔ میرے اوپر بھی کچھ لوگ گر پڑے۔'

انھوں نے بتایا: 'میرے اوپر گرنے والے کچھ لوگوں کو گولیاں لگیں اور وہ مارے گئے۔ میرے اوپر زخمی اور مردہ لوگوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں بھی مرنے والا ہوں۔'

فائرنگ دس منٹ تک جاری رہی۔ لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں اتنی تیز تھی کہ ڈائر اور اس کے ساتھیوں نے بعد میں ہنٹر کمیٹی کو بتایا کہ انھیں فوجیوں سے فائرنگ رکوانے میں بہت مشکل آئی کیونکہ ان کی آواز ان تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نہرو نے اپنی سوانح عمری میں جنرل ڈائر کے ساتھ ٹرین میں سفر کا ذکر کیا ہے

بعد میں پولیس انسپکٹر ریہل اور جواهر لال نے ہنٹر کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا تھا: 'لوگوں کے فرار کی وجہ سے فضا میں پیدا ہونے والی دھول اور خون ہی خون تھا۔ کسی کی آنکھ میں گولی لگی تھی تو کسی کی انتڑیاں باہر آ گئی تھیں۔ ہم اس قتل عام کو دیکھ نھیں پائے اور باغ سے باہر چلے آئے۔'

1964 میں 'ٹائمز لٹریری فیسٹیول' میں سارجنٹ اینڈرسن کا ایک خط شائع ہوا تھا جس میں بتایا گیا کہ ری لوڈنگ کے دوران جب گولیاں چلنا بند ہوئیں تو اس دوران ایک افسر پلومر نے ڈائر سے کہا: 'ہم نے بھیڑ کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے وہ زندگی بھر نہیں بھولے گی ۔۔۔'

ڈائر نے بالآخر فائرنگ تب روکی جب انھیں لگا کہ فوجیوں کے پاس بہت کم گولیاں بچی ہیں۔

لارڈ ہیلی پیپرز میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ جنرل ڈائر نے پلٹ کر اپنے ایک ساتھی سے پوچھا: 'آپ کو لگتا ہے کہ اب کافی ہو گیا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ CHAMANLAL FACEBOOK
Image caption ادھم سنگھ کو وہ قسم پورا کرنے میں 21 سال لگ گئے

پھر وہ خود ہی بولے: 'نہیں ہمیں چار راؤنڈ اور چلانے چاہئیں۔'

فائرنگ روکنے کے بعد ڈائر اپنی گاڑی تک پیدل چل کر گئے اور اسی راستے سے رام باغ واپس چلے گئے جس راستے سے وہ جلیاں والا باغ آئے تھے۔ وہ نہ تو نقصان دیکھنے کے لیے رکے اور نہ ہی انھوں نے زخمیوں کے علاج کی کوئی اہتمام کیا۔

ہنٹر رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب ڈائر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا: 'زخمیوں کو دیکھنا میرا کام نہیں تھا۔ ہسپتال کھلے ہوئے تھے اور وہاں ڈاکٹر موجود تھے۔ زخمیوں کو مدد کے لیے وہاں جانا چاہیے تھا۔'

جب گولیوں کے خول کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد 1،650 پائی گئی۔

ہنٹر رپورٹ کے مطابق، ڈائر نے اندازہ لگایا کہ تقریباً 200 سے 300 افراد ہلاک ہو گئے ہوں گے، لیکن بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ مرنے والوں کی تعداد 400 سے 500 کے درمیان رہی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BRITISH LIBRARY
Image caption جلیاں والا باغ کی دیوار پر گولیوں کے نشانات

اس قتل گاہ کا منظر باغ سے ملحق مکانات میں رہنے والے کئی لوگوں نے بھی دیکھا۔ ان میں سے ایک پیشے سے قصائی محمد اسماعیل بھی تھے، جو اس وقت اپنے گھر کی چھت پر کھڑے تھے۔

انھوں نے کانگریس کی تفتیشی کمیٹی کو بتایا: 'گورکھا فوجیوں کے جانے کے بعد میں باغ میں اپنے ماموں کے لڑکے کو تلاش کرنے نکلا۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ میرے حساب سے تقریباً 1،500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔'

انھوں نے بتایا: 'ریاض الحسن کے گھر کے دونوں کونوں پر کنویں کے پاس بہت زیادہ لاشیں تھیں۔ میں نے دیکھا کچھ بچے بھی مردہ پڑے تھے۔ بازار سے آنے والا خیرالدین تیلی بھی مرا پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اس کا چھ یا سات ماہ کا بچہ بھی تھا۔'

سردار پرتاپ سنگھ نے بھی کانگریس کمیٹی کو اپنی گواہی میں بتایا: 'جب میں باغ میں داخل ہوا تو ایک شخص نے مجھ سے پانی مانگا۔ جب میں نے کنویں سے پانی نکالنا چاہا تو میں نے وہاں بہت سی لاشیں تیرتے ہوئے دیکھیں۔ کچھ زندہ لوگ بھی وہاں چھپے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا: 'کیا فوجی چلے گئے؟'، جب میں نے ان کو بتایا کہ وہ گئے تو وہ باہر نکلے اور بھاگنے لگے۔'

آٹھ بجے کے بعد پورے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اگلی صبح تک زخمی بغیر كسی طبّی مدد کے وہیں پڑے رہے۔

انسانی خون کی بو پا کر کچھ آوارہ کتے جلياں والا باغ پہنچ گئے اور پوری رات انھوں نے ادھر ادھر بکھری لاشوں کو کھایا۔

جب ڈائر، مورگن اور ارون نے رات ساڑھے دس اور آدھی رات کے درمیان شہر کا دورہ کیا تو شہر مکمل طور پر خاموش تھا۔ جی ہاں باغ میں زخمی لوگ آہستہ آہستہ دم توڑ رہے تھے، لیکن پورے شہر میں ایک منحوس سناٹا چھایا ہوا تھا۔

بعد میں نہرو نے اپنی سوانح عمری میں لکھا: 1919 کے آخر میں میں رات کی ٹرین سے امرتسر سے دہلی آ رہا تھا۔ صبح مجھے پتہ چلا کہ میرے ڈبے کے سارے مسافر انگریز فوجی افسر تھے۔ ان میں سے ایک آدمی بڑھ چڑھ کر اپنی بہادری کے قصے بیان کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی مجھے پتہ چل گیا کہ وہ جلياں والا باغ والا جنرل ڈائر تھا۔'

وہ آگے لکھتے ہیں: 'وہ بتا رہا تھا کہ کس طرح اس نے پورے باغی شہر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔ شاید وہ ہنٹر کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے بعد لاہور سے دہلی واپس آ رہا تھا۔ دہلی سٹیشن پر وہ گلابی داریوں کا پاجامہ اور ڈریسنگ گاؤن پہن کر اتر گیا تھا۔'

جنرل ڈائر کو کوئی سزا تو نہیں دی گئی، لیکن ان کو وقت سے دو سال پہلے ہی ریٹائر کر دیا گیا۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ بھارت میں وہ اب کوئی کام نہیں کر پائیں گے۔

20 اپریل، 1920 کو وہ انگلینڈ کے لیے روانہ ہوئے، جہاں سات سال بعد 23 جولائی، 1927 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

قتل عام کے بعد، سنگرور ​​ضلع کے سنام گاؤں میں پیدا ہونے والے ایک نوجوان شخص نے اس کا انتقام لینے کی قسم کھائی۔

اس نوجوان ادھم سنگھ کو وہ قسم پورا کرنے میں 21 سال لگ گئے۔ 13 مارچ 1940 کو لندن کے كیكسٹن ہال کے ایک اجتماع میں اس نے اپنی پستول سے ایک کے بعد ایک چھ فائر کیے۔

دو گولیاں وہاں موجود ایک شخص کو لگیں۔ وہ وہیں پر گر گیا اور پھر کبھی نہیں اٹھا۔ اس کا نام تھا سر مائیکل او ڈائر۔

وہ جلياں والا باغ قتل عام کے وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے اور اس نے جنرل ڈائر کی طرف کی جانے والی فائرنگ کی کارروائی کو ایک صحیح قدم بتایا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں