’روس سے بڑھتی قربتیں، ملا ہبت اللہ اخوندزادہ اب ہیبتوف‘

ہبت اللہ اخوندزادہ تصویر کے کاپی رائٹ AFGHAN ISLAMIC PRESS

جب سے طالبان اور روس کے درمیان مبینہ قربت کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں، افغان میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری بحث میں طالبان کے نئے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کو ہیبتوف کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

پہلے روس افغان طالبان کی مدد اور روابط کی تردید کر چکا ہے اور اب افغان طالبان نے بھی جمعرات کو میڈیا کو ایک ای میل کے ذریعے روس کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات یا مدد کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ تاہم یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ وہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

’طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام سراسر غلط ہے‘

افعانستان میں ایک اور 'گریٹ گیم'

تازہ تردید ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک درجن ممالک افغانستان کے مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل پر بات کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں تاہم افغانستان کے قضیے کا اہم فریق امریکہ اس میں شرکت نہیں کر رہا جبکہ دوسرے فریق افغان طالبان کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس خطے میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ یا داعش کہلوانے والی ایک اور شدت پسند تنظیم کا نمودار ہونا افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ وہ ممالک جو ماضی میں طالبان کے شدید مخالف تھے، اب وہ بھی بظاہر اس کی جانب ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ روس کی حالیہ دنوں میں افغانستان پر سرگرمیوں میں اضافے کی اکثر تجزیہ نگار یہی وجہ سمجھ رہے تھے۔ روس اس سے قبل بھی پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کے لیے کم از کم دو یا تین اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption اس تصویر میں سپین زر سعادت کے نام سے ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ "ملاہیبتوف ماسکو اجلاس میں شرکت کے لیے خود جائیں گے یا کسی نمائندے کو بھیجیں گے"۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے دوران افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور ترقی کے مواقع پر غور ہوگا۔ ’ہماری سب سے بڑی کوشش اس اجلاس میں ایک مشترکہ علاقائی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی تاکہ کابل کی قیادت کو برقرار رکھتے ہوئے اس ملک میں مصالحت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اس میں مسلح گروہوں کو پرامن دھارے میں لانا ہوگا جس کی پہلے منظوری دی جاچکی ہے۔‘

افغانستان کے مسئلے میں ایک اور اہم فریق پاکستان نے روس کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہر اس کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے افغانستان میں استحکام پیدا ہو۔

’کوئی بھی ملک سامنے آئے یہ اچھا ہے لیکن ہم کسی ملک کو افغانستان کو کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔‘

حال ہی میں امریکی جنرل اور یورپ میں نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر نے بھی ماسکو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ افغانستان میں نیٹو افواج کے خلاف طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ حالانکہ اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ماسکو افغان طالبان کی کس طرح مدد کر رہا ہے۔

روس اور ایران کا شمار خطے کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جو ماضی میں افغان طالبان کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب بظاہر نہ صرف یہ مخالفت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے بلکہ بعض حلقوں کی جانب سے تو ان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption نخبگان غزنی کے نام سے ایک صارف مولانا ہبت اللہ کے اُس امر پر طنزیہ ایک سٹیٹس شیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "ملا ہیبتوف! درخت اُگاؤ اور انسانوں کے قتل عام کو بھی جاری رکھنا"۔

روس نہ صرف افغانستان پر متحرک ہوا ہے بلکہ اس کے پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات میں حالیہ برسوں میں گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔ روسی فوج کے اعلیٰ وفد کا گزشتہ دنوں پہلی مرتبہ وزیرستان کا دورہ اس تبدیلی کی بڑی عکاسی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی و فوجی اہلکار ایک دوسرے کے ملک کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

ماسکو کے اجلاس میں انڈیا اور ایران کے علاوہ کئی وسطی ایشیائی ریاستیں مدعو ہیں۔ امریکہ کی شرکت نہ کرنے کی وجہ اس نے اس کے انقعاد پر مشاورت نہ کرنا اور اس کے مقصد کے بارے میں ابہام وجوہات بتائیں تھیں۔ لیکن افغانستان کا کہنا ہے کہ وہ ممالک کے درمیان جنگی میدان نہیں بننا چاہتا ہے لہٰذا اس اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔

اس اجلاس سے متعلق سب سے بڑا سوال تاہم یہی ہے کہ کیا طالبان شرکت کے بغیر کسی مصالحتی عمل کا حصہ بننے کو تیار ہو جائیں گے۔ بعض اخباری اطلاعات تھی کہ اگر انھیں مدعو کیا جائے تو طالبان بھی اس اجلاس میں شرکت کے خواہاں ہیں۔ لیکن انھیں بظاہر ایسی کوئی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں