کیا گجرات کے مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

دیوالی پرا کے باسی
Image caption گجرات کے ایک ہندو اکثریت والے گاؤں میں نيلوفر پٹیل کا بطور سرپنچ انتخاب مقامی میڈیا میں زیرِ بحث بھی آیا

وڈودرا کے ديوالی پورہ گاؤں کی نئی سرپنچ نيلوفر پٹیل روایتی سرپنچوں سے مختلف ہیں۔ وہ ایک جدید خیالات والی نوجوان خاتون ہیں جو انگریزی اتنی ہی فراٹے سے بولتی ہیں جتنی اپنی مادری زبان گجراتی۔

نيلوفر کے سرپنچ منتخب ہونے پر ديوالی پورہ میں دیوالی جیسا ماحول تھا۔ پنچایت کی ایک خاتون رکن نے کہا کہ ’وہ پڑھی لکھی ہیں اس لیے ہم نے انھیں اپنا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

مسلمانوں کے کاروبار کے خلاف ایک سازش؟

اس گاؤں میں نيلوفر کا بطور سرپنچ انتخاب مقامی میڈیا میں زیرِ بحث بھی آیا کیونکہ انھیں ہندو اکثریتی گاؤں کی آبادی نے اپنا رہنما مقرر کیا ہے۔

ديوالی پورہ میں مسلمانوں کی آبادی صرف 120 کے قریب ہے جن میں نيلوفر کا خاندان بھی شامل ہے۔

ریاست گجرات کے لیے یہ ایک منفرد واقعہ تھا، جہاں سمجھا جا رہا تھا کہ سنہ 2002 کے خوفناک تشدد کے بعد مسلم کمیونٹی دب کر اور سہم کر رہ رہی ہے۔

نیلوفر کافی خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’مجھ پر بہت ذمہ داریاں ہیں۔ مجھے خواتین کے لیے کام کرنا ہے۔ گاؤں کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ میں گاؤں کے مسلم سماج کے لیے بھی کام کرنا چاہتی ہوں۔‘

نيلوفر ایک دن پنچایت سے اسمبلی تک جانا چاہتی ہیں، لیکن ان کے لیے یہ سفر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ سیاست میں مسلمانوں کے نمائندگی کے بارے میں کافی مثبت خیالات رکھتی ہیں۔ ’سیاسی طاقت تو چاہیے۔ یہ سلسلہ نیچے سے شروع ہوگا تب ہی اوپر تک جائے گا۔‘

Image caption ديوالي پرا میں مسلمانوں کی آبادی صرف 120 کے قریب ہے جن نيلوفر کا خاندان بھی شامل ہے

گجرات کے مسلمانوں کی شکایت رہی ہے کہ انھیں سیاست اور اقتدار سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔

سماجی کارکن فیروز خان پٹھان کہتے ہیں کہہمیں دوسرے درجے کے شہری کا احساس ہوتا ہے۔ ہمیں جو سیاسی شراکت ملنی چاہیے وہ نہیں ملی ہے۔ بی جے پی نے زیرو پارٹنرشپ دی ہے۔ کانگریس نے بھی بہت کم دیا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ مسلم سماج کو سوتیلے سلوک کا احساس کھائے جا رہا ہے۔ ہم ہندو، مسلم علاقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ مسلم علاقے ہر معیار سے، چاہے پانی ہو یا بجلی یا سڑک یا کمیونٹی ہال، ہندو علاقوں سے پسماندہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اتر پردیش کا اسمبلی کا انتخاب، بی جے پی کے لیے گجرات ماڈل پر مبنی تھا۔ اتر پردیش میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا، لیکن اس کے باوجود اسے انتخابات میں بھاری کامیابی ملی۔

سماجی کارکن حنیف لكڑاوالا کہتے ہیں، ’گجرات ان (بی جے پی) کے لیے لیبارٹری رہا ہے۔‘

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی 1995 سے اقتدار میں ہے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے بغیر اور مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے بغیر اسمبلی کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے فتح حاصل کرتی چلی آ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ریاست کی 182 نشستوں والی اسمبلی میں حکمراں پارٹی کا 25 سال سے کوئی مسلمان نمائندہ نہیں رہا۔

موجودہ اسمبلی میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد صرف دو ہے اور یہ دونوں کانگریس پارٹی سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات میں آخری بار گجرات سے الیکشن جیتنے والے مسلمان شخص کانگریس کے احمد پٹیل ہیں، جنھوں نے 1980 میں یہ الیکشن جیتا تھا۔

اسمبلی میں دو کانگریسی ممبران اسمبلی میں سے ایک محمد جاوید پیرزادہ کہتے ہیں کہ اسمبلی میں ان کی آواز دب جاتی ہے۔

ان کے مطابق، وہ اسمبلی میں مسلمانوں کے مسائل کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انھیں کامیابی کم ملتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کانگریس کے دوسرے رکن اسمبلی بھی ان مسائل کو اٹھاتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے۔ باقی لوگوں میں ایسا لگتا ہے کہ انھیں گھبراہٹ ہوتی ہے۔'

پیرزادہ کے مطابق، اگر بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوتوا پھیلا رہے ہیں تو کانگریس نرم ہندوتوا ہے۔ ’یہ تو حقیقت ہے کہ کانگریس نرم ہندوتوا کی طرف جا رہی ہے۔ یہ دکھائی دے رہا ہے۔‘

گجرات کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کا 9۔5 فیصد مسلمان ہیں، جن میں سے زیادہ تر کاروباری ہیں۔

گودھرا میں فروری 2002 میں 59 ہندو کارسیوکوں کی ہلاکت کے بعد ہونے والے فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے اور ان کے ہزاروں گھروں اور دکانوں کو جلا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حنیف لكڑاوالا کہتے ہیں، '2002 کے فسادات کے بعد مسلمان دب گئے تھے، کافی ڈرے ہوئے تھے۔ دوسری طرف ریاست کے ہندوؤں کا جارحانہ رویہ اور غصہ بہت زیادہ تھا جس کی وجہ مسلم اپنی بستیوں میں سمٹ سے گئے تھے۔'

گجرات میں اب بھی فسادات ہوتے ہیں لیکن بڑے شہروں میں بہت کم اور فسادات کا نمونہ بھی اب بدل چکا ہے۔

وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن شمشاد پٹھان کہتے ہیں، '2002 کے بعد سے اب فسادات چھوٹے شہروں اور دیہات میں ہو رہے ہیں۔ ان جگہوں پر ہو رہے ہیں جہاں 2002 یا اس سے پہلے نہیں ہوئے۔ ان چھوٹے مقامات میں بھی اب سماج تقسیم ہو رہا ہے۔'

اس کی ایک مثال 25 مارچ کو وداولی نامی گاؤں میں دیکھنے کو ملی۔ بظاہر ہندو مسلم نوجوانوں کے درمیان ایک معمولی جھگڑا فساد میں تبدیل کر دیا گیا۔ ایک مسلمان مارا گیا اور نئے سرپنچ کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ درجنوں گھروں کو بھی جلا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن بہت سے لوگوں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ فسادات کی وجہ پنچایت میں ہونے والی سیاست تھی۔

ہوا یہ کہ مسلم اور پٹیل کمیونٹی نے مل کر فیصلہ کیا کہ اگلا سرپنچ مسلم کمیونٹی سے ڈھائی سال کے لیے ہوگا اور اگلے ڈھائی سال کے لیے پٹیل برادری سے لیکن پھر خبروں کے مطابق مقامی ٹھاکروں اور دلتوں نے مخالفت کی اور نتیجہ اس فساد کی صورت میں نکلا۔

وداولی کے نئے سرپنچ سلطان بھائی پكميا کے چھوٹے بھائی عبد گنجان پكميا ان دنوں گاؤں والوں کے ساتھ ایک کیمپ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، 'ہم سلطان بھائی کے سرپنچ بننے کا جشن منا رہے تھے کہ گاؤں کے باہر سے کئی گاڑیوں میں لوگ آئے اور ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا۔ گھروں کو جلا ڈالا۔ کئی زخمی ہو گئے۔ میرے بھائی کو گولی لگی۔ میرے پڑوسی ابراہیم میاں کو مار مار کر اس کی جان لے لی گئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2002 میں گجرات میں مسلم کش فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے

انڈین وزارت داخلہ کے مطابق گجرات میں 2005 سے 2015 تک 656 فسادات ہوئے جن میں 76 لوگوں کی جانیں گئیں اور 1،655 افراد زخمی ہوئے۔ لیکن آر ایس ایس کے نظریات سے منسلک مصنف اور صحافی وشنو پنڈیا کہتے ہیں، 'گجرات میں فسادات کی تاریخ ملک کی آزادی سے پرانی ہے۔'

انھوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ بی جے پی یا آر ایس ایس کا مسلمانوں کو سیاست سے الگ رکھنے کا کوئی ایجنڈا ہے۔

وشنو پنڈیا کہتے ہیں کہ گجرات ہندوتوا کی لیبارٹری نہیں رہی۔ 'یہ غلط ہے۔ گجرات اگر لیبارٹری ہے تو ہندوتوا کی نہیں رہے گی۔ اب یہ لیبارٹری سددھ بھاونا کی ہوگی جسے مودی نے اٹھایا ہے۔ پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے تو معاہدے بھی کرنے پڑتے ہیں اور تبدیل بھی ہونا پڑتا ہے۔'

ان کے مطابق، مسلمان اب بی جے پی کے قریب آ رہے ہیں۔ لیکن وہ یہ مانتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی میں قیادت تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’مودی ہندو مسلم اتحاد پر کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو مسلم کمیونٹی میں لیڈرشپ کھڑی کرنے کی ضرورت ہے جس پر مودی جی توجہ دے رہے ہیں۔'

Image caption ریاست گجرات میں کچھ مسلمانوں نے بی جے پی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے

کچھ دن پہلے بی جے پی کے صدر امت شاہ بھی احمد آباد میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرنے آئے تھے تو مجمع میں برقع پہنے مسلم خواتین اور داڑھی اور ٹوپی والے مسلمان بھی تھے۔

ان میں سے ایک سلیم خان بداوت کہتے ہیں: ’مسلمانوں کو بی جے پی کی حکومت میں بجلی، پانی، کھانا سب مل رہا ہے۔ مودی جی نے ہمارے حج کا کوٹہ بھی بڑھا دیا ہے۔‘

ایک خاتون شمیم خان کا کہنا تھا کہ 'لوگ کہتے ہیں کہ بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیتی۔ وہ دن بھی جلد آئے گا جب مسلمان ٹکٹ حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔'

برقع پہنے افسانہ انصاری بھی امت شاہ کی ریلی میں ہاتھوں میں پارٹی کا نشان یعنی کنول کا پھول لے کر آئی تھیں۔

Image caption افسانہ انصاری نے دو برس قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی

وہ کہتی ہیں وہ بی جے پی میں دو سال پہلے شامل ہوئیں۔ 'جیسے یہ لوگ لیڈر ہیں، کل ہم بھی لیڈر بنیں گے اور اپنے ملک کی خدمت کریں گے۔ لیڈر بنیں گے تو اپنی قوم کو بھی آگے لے کر آئیں گے اور ملک کو بھی بلند کریں۔

مسلمان بی جے پی کے قریب آ رہے ہیں لیکن ابھی یہ تعداد بہت کم ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا گجرات کا مسلمان اب 2002 کے فسادات کو بھول کر اور اپنی سیاسی ناکامی کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ رہا ہے؟ تو اس بات کے کافی اشارے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں