ننگرہار میں داعش کے ٹھکانوں پر 9800 کلو وزنی بم کا استعمال، ’درجنوں جنگجو ہلاک‘

بم تصویر کے کاپی رائٹ EPA

افعانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ننگرہار میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم کے حملے میں کم از کم 36 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وادی مومند کے علاقے میں یہ بم گرایا گیا جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ہے۔

امریکہ کے سب سے بڑے بم میں کتنا دم ہے؟

دوسری جانب سابق افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی بم حملے کی مذمت کی ہے اور اس کو 'غیر انسانی اور ہمارے ملک کا بدترین استعمال' قرار دیا ہے۔

امریکی فوج نے جمعرات کی شام کو افغانستان میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم گرایا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق یہ بم صوبہ ننگرہار میں واقع دولت اسلامیہ کا سرنگوں پر مبنی کمپلیکس پر گرایا گیا۔

جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو ’بموں کی ماں‘ کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔

’امریکہ نے دولت اسلامیہ کی کمر توڑ دی ہے‘

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ بم ننگرہار کے علاقے اچین میں جمعرات کی شام کو گرایا گیا۔

اس بم کا تجربہ پہلی بار 2003 میں کیا گیا تھا لیکن اسے کسی جنگ یا تصادم میں اس سے قبل استعمال نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا 'ہم نے داعش کی سرنگوں اور غاروں کے نظام کو ٹارگٹ کیا جن کے ذریعے جنگجو آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے تھے۔ اور انھی سرنگوں کے باعث وہ آسانی سے امریکی مشیروں اور افغان فورسز کو نشانہ بنا سکتے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک طیارے نے افغانستان کے ننگرهار صوبے میں اس بم کو گرایا

انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کی پوری کوشش کی کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں یہ بم گرایا گیا ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے اور بہت کم آبادی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بم کی آواز اتنی بلند تھی کہ اس کو دو اضلاع دور بھی سنا گیا۔

اگرچہ امریکہ نے اب تک اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں کئی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ نے یہ کارروائی ایسے وقت کی ہے جب گذشتہ ہفتے ہی ننگرہار میں دولت اسلامیہ کے ساتھ جھڑپ میں امریکی سپیشل فورسز کا ایک فوجی ہلاک ہوا تھا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نكلسن نے کہا ’جہادیوں کے دھڑوں کی شکست میں اضافہ ہوا جس کے بعد وہ آئی ای ڈی، بنکروں اور سرنگوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو کم کرنے اور ہماری حملوں کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے یہ صحیح ہتھیار تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان میں دولتِ اسلامیہ نے جنوری 2015 میں اپنی شاخ قائم کی تھی۔ یہ پہلی بار تھا جب دولتِ اسلامیہ عرب سے باہر نکل کر سرکاری طور پر دنیا میں پھیل رہا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے 5000 تک ہو سکتی ہے۔

یہ خبر پینٹاگون کے شام میں ایک فضائی حملے میں غلطی سے 18 باغیوں کی ہلاکت کے اعتراف کے چند گھنٹے بعد آئی ہے۔

پینٹاگون نے کہا کہ ان کی ایک حلیف فوج نے غلطی سے اس کے مرکز کو آئی ایس کا ٹھکانہ سمجھ لیا۔

مگر 11 اپریل کو جو حملہ ہوا اس میں مارے گئے باغی شامی ڈیموکریٹک فورس کے باغی تھے جن کی امریکہ حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں