گجرات کے مسلمانوں میں اب خود اعتمادی آرہی ہے

Image caption شمع سکول کی یہ مسلم لڑکیاں ریاست گجرات کے سرکاری نصاب میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں

'میرا نام فردوس ہے، زبان گجراتی اور میں مسلمان ہوں۔ انڈیا پر مجھے فخر ہے۔' یہ الفاظ ایک 12 سالہ حجابی مسلم لڑکی کے ہیں جو احمد آباد کے شاه پور محلے کے شمع سکول میں پڑھتی ہیں۔ کچھ ایسے ہی خیالات کلاس کی دیگر لڑکیوں کے بھی ہیں۔

کیا گجرات کے مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

یہ ہیں گجراتی مسلمانوں کے نئے چہرے۔ یہاں مسلمانوں کی ایک نئی نسل تیزی سے تیار ہو رہی ہے۔ یہ نسل گجراتی ہونے پر فخر کرتی ہے اور اپنی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے سے نہیں ہچكچاتی۔

یہ نسل ریاست کے 2002 کے خوفناک مذہبی فسادات کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ گودھرا میں 59 ہندو کارسیوکوں کے قتل کے بعد ہونے والے تشدد میں 1000 سے بھی زیادہ مسلمان ہلاک کر دیے گئے تھے۔ ان کے ہزاروں مکانات اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس فرقہ وارنہ تشدد کے بعد گجرات کا مسلمان خوفزدہ ہو کر اپنی بستیوں میں سمٹ کر رہنے لگا تھا۔

Image caption نئی نسل کی سوچ کثیر الثقافتی معاشرے کی تعمیر ہے

شمع سکول کی یہ مسلم لڑکیاں ریاست گجرات کے سرکاری نصاب میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

ان کا يونیفارم اسلامی ہے، زبان گجراتی اور دل ہندوستانی۔ ان کے عزائم ہیں ڈاکٹر، انجینیئر اور فیشن ڈیزائنر بننے کے۔ ان کی سوچ کثیر الثقافتی معاشرے کی تعمیر ہے۔

شمع سکول گجرات عوامی ویلفیئر ٹرسٹ کے تعلیم مراکز کا ایک حصہ ہے جہاں 4500 مسلم لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس تنظیم کے سربراہ افضل میمن ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی تعلیم، ان کی صلاحیت کی ترقی اور اس کے سائنسی مزاج کو پیدا کرنا ان کی ترجیح ہے۔

میمن کہتے ہیں: 'یہ اسی طرح ہے جیسے کہ ایک آدمی کی آنکھیں ہیں لیکن آنکھوں کی روشنی نہیں۔ گجرات کے مسلمانوں کے پاس آنکھیں تھیں آنکھوں کی روشنی نہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی آنکھیں بھی ہوں گی اور آنکھوں کی روشنی بھی۔'

Image caption افضل میمن کہتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی تعلیم، ان کی صلاحیت کی ترقی اور اس کے سائنسی مزاج کو پیدا کرنا ان کی ترجیح ہے

ریاست میں 2002 کے تشدد کے بعد ڈرا، سہما اور لٹا ہوا مسلم سماج اب سر اٹھا کر جینا سیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے مسلم سماج نے سب سے پہلے تعلیم حاصل کرنے کا کا فیصلہ کیا۔

فسادات کے متاثرین کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن حنیف لكڑاوالا کہتے ہیں کہ تشدد کے کچھ سالوں کے بعد ہی مسلمانوں نے تعلیم کے ذریعے اپنے معاشرے کی تعمیر نو شروع کر دیی تھی: 'فسادات کے وقت تعلیم کے 200 مسلم ادارے تھے۔ آج ان کی تعداد 800 ہے۔'

میمن تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں: 'ہم مسلمان اگر کیلے کا ٹھیلہ ہی لگاتے ہیں (تو کوئی بات نہیں) مگر اس کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔'

مسلم کمیونٹی میں سماجی بہتری لانے والے ایس اے قادری کہتے ہیں کہ آج گجرات میں کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں مسلمانوں کا اپنا سکول نہ ہو۔

حنیف لكڑاوالا کہتے ہیں: 'گجرات ہندوتوا کی لیبارٹری رہا ہے۔ ملک میں 2002 کے بعد جو کچھ بھی ہوا ہے گجرات میں اس کا استعمال کیا جا چکا ہے۔'

یوپی کے مسلمانوں کے ایک طبقے کو اس بات کا ڈر ہے کہ جو حال گجرات کے مسلمانوں کا ہوا وہی ان کے ساتھ بھی ہوگا۔ گجرات میں مسلمانوں کی آبادی ریاست کی آبادی کا 5۔9 فیصد جبکہ یوپی میں 20 فیصد ہے۔

یہ صحیح ہے کہ گجرات کا مسلمان دبا ہوا تھا۔ لیکن اب اس کا اعتماد واپس آ رہا ہے۔ اس کے لیے اس نے تعلیم کا سہارا لیا ہے۔

تعلیم پر زور دینے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ 15 سال پہلے مسلم بچوں کے سکول چھوڑنے کی شرح 40 فیصد تھی۔ آج یہ کم ہو کر صرف 2 فیصد رہ گئی ہے۔

Image caption حنیف لكڑاوالا کہتے ہیں کہ گجرات ہندوتوا کی لیبارٹری رہا ہے

سماجی طور پر اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ مسلمان اب پڑھ لکھ کر اپنی بستیوں سے باہر نکل رہے ہیں۔ وہ تاجر پہلے بھی تھا لیکن اب وہ کاروبار میں ایک بار پھر سے پھل پھول رہا ہے۔ ان کے اور ہندوؤں کے درمیان فاصلے بھی کم ہوئے ہیں۔ لكڑاوالا کے مطابق مسلمانوں کی ہندو علاقوں میں قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایس اے قادری کی رائے میں مسلم کمیونٹی کا قد اب کافی بہتر ہے۔ '1969 کے فساد میں وہ مبتلا ہوا۔ دس سال بعد وہ واپس آیا، اس کا قد بڑھ گيا۔ 2002 کے بعد اب وہ ایک بار پھر آگے بڑھا ہے۔ اس کا قد بلند ہوا ہے۔'

مسلم کمیونٹی کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ 25 سالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انہیں اقتدار اور سیاست دور رکھا ہے۔ پارٹی ان کے ووٹ اور ان کے امیدواروں کے بغیر الیکشن جیتتی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معاشرہ حکمران پارٹی سے برسوں دور رہے تو اس کی ترقی رک جاتی ہے۔

لیکن وقف بورڈ کے چیئرمین اور بی جے پی کے رکن اے آئی سید کہتے ہیں گجرات کے مسلمانوں کو مذہبی اور دوسری ہر طرح کی آزادی حاصل هے۔ اے آئی سید وزیر اعظم نریندر مودی کے کافی قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔

Image caption سیاست اور اقتدار میں مسلمانوں کی شراکت اب بھی بہت کم ہے

وہ کہتے ہیں کہ گجرات میں اسلام صرف زندہ ہی نہیں ہے بلکہ مسلم پھل پھول رہے ہیں۔ 'دیکھیے صاحب، یہاں مسجد میں اذانیں ہوتی ہیں، نماز پڑھی جاتی ہے، روزے رکھتے ہیں، جمعہ کی نماز ہوتی ہے، عید مناتے ہیں۔'

سیاست اور اقتدار میں مسلمانوں کی شراکت اب بھی بہت کم ہے لیکن کمیونٹی نے خود پر ترس کھانے کے بجائے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا جس کے لیے تعلیم کو پہلی ترجیح دی۔

احمد آباد کے پرانے شہر میں تین دروازے اور اس کے آس پاس کے علاقے میں دور دور تک پھیلا ہوا بازار ہے۔ فٹ پاتھ پر ہزاروں دکانیں ہیں۔ زیادہ تر دکانوں کے مالک مسلمان ہیں۔ صابر خان نامی ایک دکاندار نے کہا کہ مسلمانوں میں غربت اب بھی کافی ہے لیکن فسادات کے بعد اقتصادی طور پر کافی ترقی بھی ہوئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'یہ مکمل مارکیٹ جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ ہندو گاہکوں پر ٹکی ہے۔ اگر وہ یہاں آنا بند کر دیں تو ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی۔'

سماجی کارکن صوفی انور حسین شیخ کے مطابق مسلمان خود سے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش تو کر رہا ہے لیکن حکومت اس میں کوئی مدد نہیں کر رہی ہے۔ تعلیم ایک الگ سیکٹر ہے جو نجی سیکٹر ہے۔ لوگوں نے وقت کی ضرورت کو سمجھا اور آگے بڑھے اور لوگوں نے پڑھائی لکھائی کی۔ حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے۔ حکومت مسلمانوں کو روزگار نہیں دے رہی ہے۔'

شمع سکول کے افضل میمن کہتے کہ پڑھائی کرو، حکومت کی طرف سے کام کی توقع مت رکھو۔ 'حکومت کی اپنی مجبوریاں ہو سکتی ہیں۔ ہم اگر پڑھ لکھ لیں گے تو ہماری عزت بڑھے گی اور پھر آپ کو لوگ پوچھیں گے بھی۔'

گجرات میں بی جے پی اقتدار میں 25 سالوں سے ہے۔ اتر پردیش میں حالیہ انتخابات میں پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرکے وہاں حکومت بنائی ہے۔ ریاست کے مسلمان فکر مند ہیں کہ اب ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو گجرات کے مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔

لیکن افضل میمن کہتے ہیں بھائی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ گجرات کے مسلمانوں کا اتنا برا حال نہیں ہے کہ اس پر تشویش کی جائے۔ ان کا یوپی کے مسلمانوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملیں۔

'مسلمانوں کو یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنا چاہیے کیونکہ اقتدار میں جو ہوتا ہے اس سے ملنا پڑتا ہے۔ آپ کو ملنا پڑے گا۔ بی جے پی میں بھی ایسے بےشمار لوگ ہیں جو سیکولر ہیں اور وہ آپ کو سپورٹ بھی کرے گا۔'

شمع سکول کے بند ہونے کا وقت ہے۔ حجابي لڑکیاں کلاس سے باہر نکل رہی ہیں۔ سکول سے ملحق ایک قدیم مسجد سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔ سکول کے ایک استاد نے کہا: 'یہ نظارہ کسی اسلامی معاشرے کا لگتا ہے، ہندو قوم کا نہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں