'ڈرنے کی ضرورت نہیں، انشاءاللہ سب ٹھیک ہوگا'

اشوک بھائی بھٹ
Image caption گجرات میں رکن اسمبلی بھوشن اشوک بھائي بھٹ کہتے ہیں کہ مسلمان بہت بڑے کام کے لیے ان کے پاس نہیں آتے

انڈیا کی ریاست گجرات کے معروف شہر احمد آباد میں جمال پور کھڑیا رکن اسمبلی بھوشن اشوك بھائی بھٹ ایک معمولی سی کرسی پر بیٹھے ہیں اور معمول کے مطابق آج صبح بھی اپنے علاقے کے لوگوں سے مل رہے ہیں۔ ان کا دفتر بہت چھوٹا ہے۔ لہٰذا ان سے ملنے والے لوگوں کی لائن باہر سڑک تک لگی ہے۔

زیادہ تر رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان کے ہاں عام طور سے ایسے نظارے روزانہ نظر آتے ہیں۔ بھوشن بھٹ کے گھر بھی ایک عام اجلاس ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ بھٹ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی ہیں اور وہاں موجود زیادہ تر فريادی مسلمان ہیں۔

٭ مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

٭ اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

٭ مسلمان چار کروڑ، امیدوار ایک بھی نہیں

گجرات سے باہر اس کا تصور کرنا بہت آسان نہیں کہ داڑھی والے مرد اور برقع پوش خواتین بی جے پی کے رکن اسمبلی سے اپنے مسائل پر بات کریں۔

لیکن یہ نظارہ یہاں روزانہ 9 بجے سے 11 بجے صبح تک دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اس بات سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں لیکن کیا فرياديوں کی شکایتیں توجہ سے سنتے بھی ہیں؟

اس سوال پر وہ کہتے ہیں: نہ میں کسی کا نام پوچھتا ہوں، نہ کسی کا مذہب پوچھتا ہوں اور نہ کسی کی ذات پوچھتا ہوں۔ وہ اپنا کام لے کر آتے ہیں۔ میں ان کا کام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

بھٹ سے ملنے آنے والوں میں حجابی فہمیدہ بانو اور سیاہ برقع میں ان کی بیٹی شاہین ہیں۔ خود کو تین طلاق کا شکار کہنے والی فہمیدہ بانو کہتی ہیں کہ ان کے شوہر نے طلاق کے بعد انھیں ان کے گھر سے نکال دیا تھا۔

Image caption بھوشن بھٹ جس اسمبلی حلقے سے منتخب ہوئے ہیں وہاں مسلمانوں کی آبادی 48 فی صد ہے

چہرے سے نقاب اٹھا کر ان کی بیٹی شاہین کہتی ہیں کہ رکن اسمبلی جی نے ان کی ماں کو ان کے گھر واپس بھیجنے میں مدد کی۔

وہ کہتی ہیں: ’میری ماں کا کیس چل رہا تھا۔ میں نے ان (بھوشن بھٹ) کی مدد لینے آئی تھی۔ ہمارا گھر سیل ہو گیا تھا۔ اس کا کھلنا مشکل تھا لیکن انھوں نے ہماری بہت مدد کی۔ ہمارا کام ہو گیا۔‘

ماں بیٹی کی اس جوڑی نے رکن اسمبلی سے ذاتی کام میں مدد لی۔ لیکن یہاں آدھار کارڈ (ایک طرح کا شناختی کارڈ) بنوانے میں مدد لینے آنے والے افراد بھی تھے، پولیس کے خلاف شکایت کرنے والے لوگ بھی اور کچھ ایسے جو کام ہونے جانے پر رکن اسمبلی کا شکریہ ادا کرنے آئے تھے۔

بھوشن بھٹ کہتے ہیں: ان (مسلمانوں) کو کوئی بڑا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہسپتال کا کام ہوتا ہے، پانی کا کام ہوتا ہے، بجلی نہیں ہوتی ہے، اچھے سکول میں داخلہ کرانے کے لیے آتے ہیں۔ آپس میں جھگڑا ہوا تو آتے ہیں۔ پولیس کے خلاف شکایت لے کر آتے ہیں۔ میں ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ان سے ملنے آنے والے ایک معمر شخص محمد اقبال کہتے ہیں: میں ان (بھوشن بھٹ) کے والد کے ساتھ بھی رہ چکا ہوں جو اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا احساس کبھی نہیں ہوا۔ وہ ہمارے ہر پروگرام میں آتے ہیں۔ ہم ان کے ہر پروگرام میں جاتے ہیں۔

Image caption ہر روز اپنا کام کروانے کے لیے لوگ اپنے علاقے کے ایم ایل کے دفتر کے باہر نظر آتے ہیں

بھوشن بھٹ جمال پور کھڑیا انتخابی حلقے سے منتخب نمائندے ہیں جہاں سے ان کے والد اشوک بھٹ نے بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس علاقے میں 48 فیصد ووٹرز مسلمان ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق مسلمانوں کے مسائل کو سننا دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں جیت کے لیے بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

لیکن بھوشن بھٹ کا دعویٰ ہے کہ وہ ووٹوں کی سیاست نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں: سنہ 1857 سے لے کر سنہ 1947 تک ملک کی آزادی کی لڑائی میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل تھے۔ آزادی کے بعد ووٹوں کی سیاست شروع ہوئی اور معاشرے کو توڑنے کی سیاست شروع ہوئی۔

ان کے مطابق اس وقت کے نریندر مودی نے سنہ 2001 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد معاشرے کو متحد کرنے کا کام کیا۔ وہ کہتے ہیں: 'کانگریس سماج توڑنے کی سیاست کر رہی تھی، نریندر بھائی سماج کو جوڑنے کی سیاست کر رہے تھے، ترقی کی سیاست کر رہے تھے۔

بی جے پی گجرات میں نریندر مودی کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے سے اقتدار میں ہے۔ پارٹی نے مسلم امیدواروں کو انتخابات میں نظر انداز کیا اور ان کے ووٹوں کے بغیر پارٹی الیکشن جیتتی آ رہی ہے۔ مسلمانوں کو شکایت ہے کہ انھیں حکومت اور اقتدار سے دور رکھا جا رہا ہے۔

Image caption ماں بیٹی رکن اسمبلی بھوشن بھٹ کی شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ان کے ذاتی مسئلے حل کرنے میں ان کی مدد کی

گجرات میں دوسری پارٹیوں پر بھی مسلم کمیونٹی کو سیاست سے الگ رکھنے کا الزام ہے۔ مسلمان گجرات کی کل آبادی کا 9.5 فیصد ہیں۔ اس وقت 182 سیٹوں والی اسمبلی میں صرف دو مسلم ایم ایل اے ہیں اور دونوں کانگریس کے ہیں۔

جو گجرات میں برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے، وہ اتر پردیش میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں ہوا۔ بی جے پی نے مسلم امیدوار اور مسلم ووٹ کے بغیر ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی۔ یو پی کے مسلمان گھبرائے ہوئے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بی جے پی گجراتی مسلمانوں کی طرح انھیں بھی سیاست سے بے دخل کر سکتی ہے، ان کی شناخت مٹا سکتی ہی اور انھیں دوسرے درجے کا شہری بنا سکتی ہے۔

لیکن بھوشن بھٹ کے حامی محمد طارق کہتے ہیں: 'گجرات میں بھی جب بی جے پی پہلی بار اقتدار میں آئی تھی تو مسلمان بہت ڈرے ہوئے تھے۔ لیکن ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارے گجرات میں تعلیم، حج اور وقف کا جو معاملہ ہے بی جے پی نے ان مسائل پر کام کیا ہے۔

Image caption مسلمانوں کی شکایت ہے کہ انھیں حکومت اور اقتدار سے باہر کیا جا رہا ہے

وہ یوپی کے مسلمان کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: 'یہی اب یو پی میں ہو رہا ہے کہ وہاں مسلمان ڈر رہے ہیں، مسلمان کو کانگریس والے، سماج وادی پارٹی والے ڈرا رہے ہیں لیکن انھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ انشاء اللہ اچھا کام ہوگا۔'

بھوشن بھٹ بھی کہتے ہیں کہ بی جے پی سے مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ لیکن انھی کے گھر میں الگ تھلگ بیٹھی ایک مسلمان عورت زينا بی جے پی کی تنقید کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں برابری کا حق چاہیے، لیکن بی جے پی حکومت کو برابری کا حق نہیں دیتی۔

اسی بارے میں