سابق پاکستانی کرنل کس کے قبضے میں؟

کرنل حبیب ظاہر تصویر کے کاپی رائٹ HABIB ZAHIR (FACEBOOK)
Image caption کرنل حبیب ظاہر کی گمشدگی ایک سربستہ راز بنی ہوئی ہے

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد حبیب ظاہر کی گذشتہ ہفتے پر اسرار گمشدگی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجینسیوں نے نیپال سے اغوا کر لیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرنل ظاہر کسی نوکری کے سلسلے میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو آئے اور وہاں سے وہ انڈیا اور نیپال کے بارڈر پر لمبینی کے علاقے میں گئے جہاں انھیں آخری بار دیکھا گیا۔

کرنل (ر) حبیب نامعلوم شخص سے ملے، شناخت کی کوشش جاری ہے: نیپال

’لاپتہ‘ فوجی افسر: اب تک کی پیش رفت

’انڈین جاسوس‘ کلبھوشن یادو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

لمبینی ایک بڑا خطہ ہے جس میں بھیروا، بوٹول اور لومبینی کے علاقے شامل ہیں۔ لمیبنی وہ جگہ ہے جہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بودھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی خطے میں سونولی کی سرحدی چوکی ہے۔ یہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی چوکیوں میں سے ایک ہے۔

اس سرحد ی راستے سے ہزاروں نیپالی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ بڑا حساس ہے اور یہاں ہر طرف سکیورٹی ایجینسیوں کی نظر رہتی ہے۔ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں مقامی نیپالی ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں سے بلا روک ٹوک نیپال کی جانب سے انڈین علاقے میں آ جا سکتی ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برعکس نیپال میں کرنل ظاہر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں میڈیا میں بہت زیادہ خبریں نہیں آئی ہیں۔ نیپال کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

لمبینی کے قریبی ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے اور ہوائی اڈے کے باہر ایک شخص کی ملاقات کی جو مبینہ فوٹیج پولیس کے پاس ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس تفتیش کا حصہ ہے اور وہ اس میں نظر آنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

نیبالی میڈیا انڈیا کے کسی معاملے میں ہمیشہ محتاط طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔ اس نے کسی طرح کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے صحافی اور سکیورٹی کے پہلوؤں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عموماً یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجنسیوں نے پکڑا ہے جب کہ عام لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HABIB ZAHIR (FACEBOOK)
Image caption لمبینی کے قریب بھیروا ہوائی اڈے پر ایک نامعلوم شخص نے کرنل حبیب کا استقبال کیا

انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ماضی میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں اور سعودی عرب اور دبئ وغیرہ سے نکالے جانے والے شدت پسندوں کو نیپال پہنچنے پر حراست میں لیتیں اور پھر دکھایا جاتا کہ انھیں انڈیا، پاکستان سرحد کے نزدیک انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔

سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ان کی فیملی کو بھی خفیہ ایجنٹوں نے پاکستان سے نیپال پہنچنے پرہی گرفتار کیا تھا۔

کرنل ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ عین اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے مبینہ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی۔ کرنل ظاہر جس جگہ سے غائب ہوئے ہیں وہ نسبتآ کوئی بڑی حگہ نہیں ہے لیکن وہ انڈیا کی سرحد سے بالکل نزدیک واقع ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر انڈیا کے ضلع گورکھپور کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرحد پر انڈیا کی جانب سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ نیپالی اور انڈین کسی ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے یہاں آ جا سکتے ہیں اس لیے ہر مشتبہ شخص اور حرکت پر نظر رہتی ہے۔

کرنل ظاہر کی گمشدگی کے تقریبا دس دن بعد بھی ان کا غائب ہونا سربستہ راز سے کم نہیں۔ جس نوعیت کا یہ واقعہ ہے اس کے پیش نظر نیپال کی تفتیش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع بہت کم ہے۔

لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر وہ کسی کے قبضے یا گرفت میں ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مرحلے پر سامنے لانا ہی ہو گا۔ لیکن جب تک وہ سامنے نہیں آتے تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کی گمشدگی پراسرار بنی رہے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں