کیا گجرات سبزی خور ریاست بن گئی ہے؟

کھانے کا مینو
Image caption ایک ریستوران کا ملازم اپنا مینوکارڈ دکھا رہا ہے

انڈیا کی اہم ریاست اتر پردیش میں غیر قانونی مذبح کے خلاف حالیہ مہم کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اب بی جے پی حکومت ریاست کو سبزی خور بنا کر ہی چھوڑے گی۔

گجرات میں بی جے پی گذشتہ 25 سال سے اقتدار میں ہے۔ ریاست میں شاکاہاری یعنی سبزی خور پہلے سے ہی بڑی تعداد میں ہیں۔ لیکن بی جے پی کے دور میں کیا گجرات اب مکمل طور پر سبزی خور ریاست بن گئی ہے؟

٭ 'ڈرنے کی ضرورت نہیں، سب ٹھیک ہوگا'

٭ گجرات کے مسلمانوں میں اعتماد کی واپسی

گجرات کو سبزی خور ریاست سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے ہر شہر میں گوشت بہ آسانی دستیاب ہے اور ریاست کی 36 فیصد آبادی گوشت خور ہے۔

جس طرح سے احمد آباد کی آبادی ہندو مسلم علاقوں میں منقسم ہے اسی طرح سے کھانے پینے کی چیزین بھی ہندو اور مسلم کھانوں میں بٹ گئی ہیں۔

مسلم محلوں میں جائیں تو بریانی، کباب اور قورمے کی خوشبو ملے گی جبکہ ہندو علاقوں میں ڈھوکلا، بھیل پوري اور آلو ٹکی وغیرہ سے سامنا ہوگا۔

یہاں کے مسلمانوں کو حکومت سے شکایت نہیں ہے۔

فیروز خان پٹھان کہتے ہیں: 'آج گجرات کے مسلمانوں کو بریانی مل رہی ہے۔ اب یہ بھینس کے گوشت کی ملے یا بکرے کے گوشت کی۔ مسلمان یہاں کا بریانی کھا رہے ہیں۔ مودی کے راج میں بھی کھاتے تھے، كیشو بھائی (گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ) کے راج میں بھی کھاتے تھے، آج بھی کھا رہے ہیں۔'

Image caption گوشت کھانے والے عام طور پر گردن جھکا کر گوشت کھاتے ہیں تاکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو

اصل میں بریانی ہندوؤں کو بھی مل رہی ہے۔ تین دروازہ پرانے شہر کا ایک مشہور علاقہ ہے جہاں شام ہوتے ہی ایک خاص گلی میں چھوٹے چھوٹے ریستوران کھلنے لگتے ہیں۔ گلی کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی کباب کی خوشبو آنے لگتی ہے۔

کباب سے لے کر قورمہ اور بریانی سے لے کر گوشت کے پلاؤ تک تمام چیزیں یہاں ملتی ہیں۔ سميع الدين کی دکان 40 سال پرانی ہے۔ وہ کہتے ہیں مٹن فرائی، مٹن چامپ اور کباب سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔

یہاں آکر کھانے والے ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ جیسا کہ سمیع الدين نے ہمیں بتایا: 'دونوں مذہب کے لوگ یہاں کھانے آتے ہیں۔ ہندوؤں کی تعداد تھوڑی زیادہ ہی ہوگی۔'

لیکن یہ احساس ہوتا ہے کہ کھانے والے یہ نہیں چاہتے کہ انھیں کوئی پہچانے۔ وہ سر جھکا کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ ایک نے کہا: 'میری تصویر مت لو۔ میرے آفس میں مجھے کسی نے گوشت کھاتے دیکھ لیا تو میری نوکری چلی جائے گی۔

Image caption قبر کیفے ایک ایسا ریستوران ہے جہاں ہندو مسلمان دونوں آتے ہیں

لیکن کسی بھی بڑے ریستوران میں جائیں تو گوشت کھانے والوں کا چہرہ نیچے نہیں ہوتا۔ بار بی کیو نیشن نامی ایک ریستوران میں لوگ جی بھر کر گوشت کھا رہے تھے۔

بار بی کیو نیشن ممبئی اور دہلی میں بھی ہے لیکن احمد آباد میں بھیڑ اور رونق مزید نظر آتی ہے۔

تین دروازہ کے قریب ایک اور جگہ ہے جہاں کھانے والوں کی خاصی بھیڑ رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سینکڑوں باراتي ایک ساتھ کھانے پر ٹوٹ پڑے ہوں۔ یہاں دیر رات تک کھانا ملتا ہے۔ یہ جگہ سبزی خوروں لوگوں کے لیے جنت ہے. یہاں مسلم خال خان ہی نظر آتے ہیں۔

'ہندو کھانا، مسلم کھانا' یعنی کھانے میں بھی تقسیم ہے۔ لیکن شہر میں کچھ ایسے ریستوران ہیں جہاں دونوں مذاہب کے لوگ آتے ہیں۔

ان میں سے ایک 'کیفے قبرستان' ہے۔ پورے کیفے میں ایک درجن قبریں ہیں۔ انھیں سبز رنگ سے پینٹ کیا گیا ہے۔

کیفے مسلمانوں کا ہے لیکن یہاں تمام مذاہب کے لوگ کھانے آتے ہیں۔ قبروں پر بنا یہ کیفے شہر کی ان چند جگہوں میں سے ہے جہاں ہندو اور مسلم کا ملن ہوتا ہے۔

اسی بارے میں