نریندر مودی کے پاس کشمیر کے لیے کیا روڈ میپ ہے؟

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں تصادم کی ایک نئی لہر نظر آتی ہے جس میں ہزاروں نوجوان پیلٹ گنز کا شکار ہوئے ہیں

انڈیا کی برسر اقتدار ہندو نواز جماعت انڈیایہ جنتا پارٹی میں 'راہ نما' کے عہدے پر بیٹھا دیے جانے والے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ انڈیا ایک 'سافٹ سٹیٹ' ہے۔ یعنی نیشن سٹیٹ کے طور پر انڈیا اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے سختی سے پیش نہیں آتا۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور میں وزیر داخلہ کے طور پر ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان اسرائیل کی طرح سخت قومی ریاست بن جائے جو اپنے دشمنوں کو پہلے نیست و نابود کرتا ہے اور بعد میں قانون کی کتاب کھولتا ہے۔

ان کے سیاسی شاگرد نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر سنہ 2002 میں اڈوانی کی اس آرزو کو پورا کر دکھایا اور ملک کے سیاسی تصور کو مکمل طور بدل ڈالا۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے گرو کی کئی دوسری بڑی خواہشات کو گہرائی سے دفن کرنے کا انتظام بھی کر دیا لیکن اڈوانی کو اس کا احساس پوری ایک دہائی بعد ہوا جب وزیر اعظم بننے کے ان کے خواب کو مودی نے چکناچور کر دیا۔

٭ ’کشمیر کے پاس دو راستے، سیاحت یا دہشتگردی‘

سنہ 1990 کی دہائی میں اٹل بہاری واجپئی کی کابینہ میں وزیر داخلہ بننے کے فوراً بعد اڈوانی نے انڈیا کی اس نرم تصویر کو تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اعلان کیا کہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے انڈین سکیورٹی فورس 'ہاٹ پرسوٹ‘ کریں گے۔ یعنی واردات کرنے کے بعد اگر کوئی دہشت گرد پاکستان بھاگ جاتا ہے تو ہندوستانی فوجی سرحد پار کرکے اس کے پیچھے پیچھے جائیں گے اور اسے پاکستانی سرزمین سے پکڑ کر لائیں گے۔

میڈیا میں تالیاں بجانے والوں نے اس وقت بھی تالیاں بجائی تھیں لیکن اڈوانی کو ان کے کچھ سمجھدار مشیروں نے سمجھایا کہ 'ہاٹ پرسوٹ' کو پڑوسی ملک کے خلاف جنگ کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں فوجیوں اور عوام کے درمیان ایک عرصے سے تصادم جاری ہے

انھیں فوری طور پر اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پھر انھوں نے کبھی 'ہاٹ پرسوٹ‘ کی بات نہیں کی۔ وہ ایک مختلف دور تھا۔ واجپئی کسی طرح نتیش کمار اور جارج فرنانڈیز کے سہارے مخلوط حکومت چلا رہے تھے اور ان کے مخالفین بھی ان پر شک نہیں کرتے تھے۔ 'کشمیر کے مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کیا جائے گا۔‘ یہ واجپئی کا ایسا جملہ تھا جسے یاد کر آج بھی کشمیری جذباتی ہو اٹھتے ہیں کیونکہ اب کشمیر میں انسانیت کا کوئی دائرہ بچا نہیں ہے۔

اگر یہ دائرہ بچا ہوتا تو اپنے گھر سے ہزاروں میل دور پیٹھ پر بھاری پٹھو لادے، ایک ہاتھ میں رائفل اٹھائے کشمیر کے ایک اجنبی محلے سے گزرتے ہوئے انڈیا کے ایک فوجی جوان کو سڑکوں پر گھومنے والے کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں مجرموں کی طرح بے عزت نہیں کیا جاتا۔ ایک سزایافتہ مجرم کی طرح یہ جوان ہاتھ میں رائفل ہونے کے باوجود خاموشی سر جھکا کر گالیاں، تھپڑ اور ذلت سہتے ہوئے کسی طرح بچ نکلنے پر مجبور نہ ہوتا۔

اگر کشمیر میں انسانیت کا دائرہ بچا ہوتا تو انڈین فوج یا نیم فوجی دستے کے جوان ایک غریب کشمیری رفوگر کو سبز فوجی جیپ کے بونٹ پر باندھ کر انسانی ڈھال کی طرح استعمال نہیں کر رہے ہوتے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی انسان کو اس کی مرضی کے بغیر ڈھال کی طرح استعمال کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ مگر وزیر اعظم بننے کے بعد گذشتہ تین سال میں نریندر مودی نے ملک اور بیرون ملک اپنا ایسا رنگ جمایا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی تجزیہ کار سخت سوال اٹھانے سے کتراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کی حکومت ہے

یہ سچ ہے کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کے ایجنڈے میں کشمیر اتنا اہم تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے وزیر اعظم کے دفتر سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کا 'ٹیسٹ بیلون' چھوڑا گیا اور اس معاملے پر قومی بحث شروع کرنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن یہ بہت خراب آغاز ثابت ہوا۔ کہاں تو کشمیری عوام کے دل و دماغ جیتنے کی بات ہو رہی تھی اور کہاں حکومت کے پہلے قدم سے ہی ان کے دماغ میں مودی انتظامیہ کے خلاف پہلے سے موجود شک جم کر مزید پختہ ہو گیا۔ پھر بھی جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں کشمیری عوام نے کثیر تعداد میں باہر نکل کر ووٹ دیا اور حکومت ہند دنیا بھر میں کہہ سکی کہ کشمیری لوگوں کو ہندوستانی جمہوریت پر بھروسہ ہے۔

لیکن کیا آج نریندر مودی حکومت اسی اعتماد کے ساتھ یہ دعوی کر سکتی ہے اور وہ بھی ایسے میں جبکہ سرینگر ضمنی انتخابات میں بوتھ کے بوتھ خالی پڑے رہے اور ایک بھی ووٹر ادھر نہیں آیا؟ اور ایسے میں جبکہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے تصادم کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں غیر مسلح کشمیری خود ڈھال کی طرح سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انھیں نہ اپنی جان کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ اپنے خاندان والوں کے مارے جانے کا غم۔ پکڑے جانے والے شدت پسندوں کو چھڑانے کے لیے کشمیری عورتیں مسلح سکیورٹی فورسز پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ کشمیر کی سڑکوں سے گزرنے والے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو گالیاں تھپڑ کھانے کے باوجود سر جھکا کر چلنا پڑتا ہے۔

اب سوال پوچھنے کا وقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ گذشتہ تین سال میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیریوں میں انڈین جمہوریت میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟ لوگوں کو اندھا کر دینے والی پیلیٹ گنز، اے کے -47 رائفلوں اور کبھی کبھار اپنی تقریروں میں پرجوش اشعار کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس کشمیر کے لیے کیا روڈ میپ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اٹل بہاری واجپئی اور مودی کے انداز میں لوگوں کو بہت فرق نظر آتا ہے

ملک کے بڑے دانشور بھانو پرتاپ مہتا نے انڈین ایکسپریس میں لکھا ہے: 'بے چین کرنے والی بات یہ ہے کہ (اقتدار کے مرکز) دہلی میں براہ راست سچ کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا۔ انڈیا کا بادشاہ ننگا ہے .... وزیر اعظم نریندر مودی کی نظروں کے سامنے کشمیر پستی کے غار میں ڈوبا میں جا رہا ہے۔'

ایک کے بعد ایک ریاست میں مودی کو فتح کا پرچم لہراتے دیکھ کر سوشل میڈیا ایک جنون میں آکر ہندو قوم پرستی کے دھماکے کا جشن منا رہا ہے۔ اسے یقین ہے کہ مٹھی بھر 'کشمیری غدار' قوم پرستی کے اس زبردست دھماکے کے آگے ٹک نہیں پائیں گے اور جو ٹکنے کی کوشش کریں گے انھیں ڈنڈے کے زور پر ٹھیک کر دیا جائے گا۔

یاد کیجیے اسلام آباد سے ڈھاکہ کو کنٹرول کرنے والے مغربی پاکستان کے فوجی جنرل بھی سنہ 1971 سے پہلے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے بارے میں کچھ ایسا ہی سوچتے تھے۔ وہ کتنے غلط ثابت ہوئے یہ تاریخ میں ثبت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں