سورت میں کھاؤ پیو، کاشی میں مرو

سورت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاپتی دریا کے کنارے آباد شہر سورت ہر زمانے میں تجارت کا مرکز رہا

انڈیا کے مغربی خطے میں بہنے والے دریا تاپتی کے کنارے آباد شہر سورت زمانۂ قدیم میں سوریا پور کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ہندوؤں کی ایک روایت کے مطابق ان کے بھگوان کرشن نے متھرا (اترپردش کے شہر) سے گجرات کے علاقے دوارکا جاتے ہوئے سورت میں قیام کیا تھا۔ اس طرح مذہبی کتاب مہا بھارت اور رامائن سے جڑا ہونے کے سبب بھی اس کی اہمیت ہے۔

٭ مالیرکوٹلہ کی کہانی

٭ دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

عہد وسطیٰ میں سورت گجرات کی ایک اہم بندرگاہ تھی جس کے دنیا بھر سے تجارتی روابط قائم تھے۔ سولھویں صدی میں یہ شہر تجارتی لحاظ سے اپنے عروج پر تھا۔ یورپ کے مختلف حصوں کے جہاز وہاں لنگر انداز ہوتے تھے اور سورت پرتگالی، انگریز، فرانسیسی، اور ڈچ لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز تھا۔ یہاں کے تاجروں نے سورت میں بود و باش اختیار کر لی تھی اور یوں یہ شہر ثقافتی اور اقتصادی طور پر مضبوط ہوتا گیا۔

انیسویں صدی کے وسط میں سورت خوفناک سیلاب کی زد میں آ گيا اور شہر کی بیشتر عمارتیں طوفانی لہروں کی نذر ہو گئیں لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں یہ شہر ایک بار پھر کاروباری چہل پہل کا مرکز بن گیا۔

سورت سوتی کپڑوں کے معاملے میں خاص شہرت رکھتا تھا کیونکہ اس کے قرب و جوار میں بڑے پیمانے پر کپاس کی کاشت ہوتی تھی۔ سوتی کپڑے کے ساتھ وہاں ریشم کی بنکری کے کارخانے بھی کھل گئے اور زردوزی کے کام نے بھی زور پکڑا اور اس طرح سورت اپنے کپڑوں کے بارے میں بھی آج بھی جانا جاتا ہے۔

Image caption سورت آج بھی تجارتی مرکز ہے

تجارت کے ساتھ یہ نوابوں کا بھی شہر تھا لیکن انھیں کبھی بھی وہ مقام حاصل نہیں ہوا جو دوسری جگہ کے نوابوں کو تھا۔ تاپتی ندی کے کنارے آباد اس شہر میں میٹھے پانی کی مچھلیوں کی بہتات ہے اور مچھلی سے بنائے کھانے اپنا ذائقہ آپ رکھتے ہیں۔ تلی جھمنا، مڈ فش آج بھی بہت سے رئيسوں کے دسترخوان کی زینت ہوتی ہیں۔

سورت میں ایک عرصے سے پارسی بھی آباد تھے اور یہ غیر ملکی آبادی کا ایک مرکز تھا۔ ان کی ضرورتوں کا اندازہ کرتے ہوئے انیسویں صدی کے ابتدا میں ایک ڈچ بیکری وجود میں آئی اور پیسٹن جی اس کاروبار میں ان کے ساتھ شریک ہوئے۔ جب ڈچ باشندوں نے سورت کو الوداع کہا تو بیکری کی باگ ڈور پیسٹن جی کے ہاتھ میں آ گئی۔ غیر ملکی آبادی کم ہونے کے سبب کاروبار متاثر ہوا تو پیسٹن جی نے ڈبل روٹی کے خمیر میں شاہ زیرہ اور دیسی گھی کا اضافہ کرکے بتاسا بسکٹ بنایا۔ یہاں آج بھی یہ بسکٹ بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں۔

بہر صورت شہر کی بیشتر آبادی سبزی خور ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں سبزیوں، اناج اور دال سے بنے خوان زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ان دھیو سورت کا خاص پکوان ہے جو شادی بیاہ کے مواقع پر بطور خاص پکایا جاتا ہے۔ اگر ان دھیو شادی بیاہ کا پکوان ہے تو پونکھ عام لوگوں کی محبوب غذا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کپڑوں کے معاملے میں سورت کو آج بھی امتیاز حاصل ہے

سورت کے قرب و جوار میں جو کی کاشت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور جیسے ہی بالیوں پر نازک دانے نمودار ہوتے ہیں خریداروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے اور ان دانوں سے مختلف قسم کے پکوان بنائے جاتے ہیں۔ لیموں اور کالی مرچ کے ساتھ شکر میں لپٹے لڈو، تازہ لہسن کے ساتھ پسی چٹنی کے ساتھ پونکھ کے ذائقے لیے جاتے ہیں۔

کھمن سے کھمانی تک سو سے زیادہ اقسام سورت کے بازاروں میں دستیاب ہیں۔ 25 سال پہلے ایک شخص گاڑی پر کھمن بناکر بیچھا کرتا تھا۔ ایک دن غلطی سے جب کھمن پوری طرح نہیں پکا تو اس نے بہت سا تیل اور مکھن اس پر ڈال دیا اور پھر جب کھمن پک کر نکلا تو وہ نئی قسم کا پکوان تھا جس کا نام لوچو پڑ گیا۔ لوچو کے معنی گڑبڑ کے ہوتے ہیں۔ اب وہ شخص ایک دکان کا مالک ہے اور وہاں گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سورت انڈیا میں ہیروں اور جواہرات کی تجارت کے لیے بھی معروف ہے

نمکین پکوان کے ساتھ سورت کی مٹھائیاں بھی شہرت رکھتی ہیں۔ ان میں کھری اور ساگلا باگلا معروف و مقبول ہیں۔کہتے ہیں کہ گھی اور خشک میوں سے بھرپور یہ مٹھائی سنہ 1857 میں تانتیا ٹوپے کی فوج کو طاقتور بنانے کے لیے ایجاد ہوئی تھی۔

جبکہ ساگلا باگلا 105 سال پرانی ترکی ہے جسے محمدی بیکری نے سورت میں عام کیا تھا۔ یہ مٹھائی مشرق وسطی کی بقلاوہ سے مشابہ ہے۔ پرت در پرت پستہ اور بادام سے پر یہ مٹھائی نازک اور پرذائقہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سورت میں کھاؤ پیو اور کاشی میں مرو تو سیدھے جنت نصیب ہوگی۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں