انڈیا: ناقص خوراک کی شکایت کرنے والا سرحدی محافظ نوکری سے برخاست

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption بھارت کے سرکاری میڈیا آل انڈیا ریڈیو نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے

انڈیا کے سرحدی محافظوں کو دیے جانے والی خوراک کے ناقص معیار سے متعلق فیس بک پر شکایتی ویڈیو پوسٹ کرنے والے اہلکار کو بارڈر سیکورٹی فورس نے نوکری سے نکال دیا ہے۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق بی ایس ایف نے تحقیقات کے بعد تیج بہادر یادو کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے سرکاری میڈیا آل انڈیا ریڈیو نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیج بہادر یادو کے خلاف بارڈر سیکورٹی فورس کے نظم و ضبط کو توڑنے کے لیے تحقیقات شروع کی گئی تھی۔

اس سال کے آغاز میں تیج بہادر یادو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرکے تہلکہ مچا دیا تھا۔

ویڈیو میں سرحد پر تعینات جوانوں کو دیے جانے والے کھانے کے معیار پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

اگرچہ بی ایس ایف نے خراب کھانے کی شکایات کو مسترد کیا تھا تاہم وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بی ایس ایف اہلکار تیج بہادر یادو کی شکایت کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا اور عدالت نے وفاق سے اس بارے میں جواب طلب کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TEJ BAHADUR YADAV
Image caption ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ فوجیوں کس طرح کے جلے ہوئے روکھے پراٹھے کھانے کو دیے جاتے ہیں اور وہ بھی بہت کم مقدار میں جس سے پیٹ نہیں بھرتا ہے

تیج بہادر یادو نے اپنے ویڈیو کلپز میں سینیئر فوجی حکام پر کئی طرح کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انھوں نے الزام لگایا تھا کہ جوانوں کے لیے سامان کی کمی نہیں ہے لیکن ان کے حصے کا سامان فوجی افسر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اور انھیں مناسب کھانا تک نہیں ملتا۔

ایک اور ویڈیو میں جوان نے جلے ہوئے پراٹھے دکھائے ہیں اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایسا کھانا کھا کر جوان سرحد پر ڈیوٹی کر سکتے ہیں؟

ان ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل سامنے ائا نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان سے بھی اس حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا جس کے بعد انڈین نیوز چینل 'زی نیوز' نے بی ایس ایف حکام کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'سپاہی تیج بہادر شرابی ہیں۔ ان کا ماضی مشکلات میں گزرا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں