بابری مسجد کیس: ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی پر مقدمہ چلے گا

اڈوانی تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ایل کے اڈوانی کو ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی مسماری کے سلسلے میں سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی اور بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی سمیت سینیئر رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

ان رہنماؤں کے خلاف اس معاملے میں عائد کیے جانے والے الزامات تکینکی وجوہات کی بنیاد پر ختم کر دیے گئے تھے۔

'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

بابری مسجد کے بزرگ ترین مدعی ہاشم انصاری نہیں رہے

بابری مسجد کا ملبہ کب تک پڑا رہے گا؟

مقدمے کا سامنا کرنے والوں میں وفاقی وزیر اوما بھارتی بھی شامل ہوں گی لیکن کلیان سنگھ، جو بابری مسجد کی مسماری کے وقت اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے، اس فیصلے کے دائرے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اب راجستھان کے گورنر ہیں اور انھیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت دو سال کے اندر مکمل ہو اور کیس کی کارروائی روزانہ جاری رہے اور کسی بھی بنیاد پر ملتوی نہ کی جائے۔

مسماری سے متعلق دونوں مقدمات کی سماعت اب لکھنؤ میں ہی ہوگی۔

بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو مسمار کی گئی تھی اور اس دن ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی ایودھیا میں ہی موجود تھے۔ انھیں وہاں جمع ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔

Image caption بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو مسمار کی گئی تھی اور اس دن ایل کے اڈوانی، ایم ایم جوشی اور اوما بھارتی ایودھیا میں ہی موجود تھے

بی جے پی کے رہنماؤں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے اور عدالتی حکم سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا یہ پرانا تنازع پھر سرخیوں میں آ جائے گا۔

اگرچہ بابری مسجد کی مسماری کو 25 سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی اس کیس میں کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے کلیان سنگھ کو بابری مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا کا وعدہ پورا نہ کرنے پر ایک دن کی علامتی جیل کی سزا دی تھی۔

ہندوؤں کا ایک حلقے کے خیال میں جس جگہ بابری مسحد تعمیر تھی، وہاں ہزاروں سال پہلے ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اس لیے وہاں ایک عالی شان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہیے۔

زمین کی ملکیت کا کیس فی الحال سپریم کورٹ میں ہے اور چیف جسٹس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ فریقین کو آپس میں مل کر اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں