ہلمند کے محاذ پر جنگجو اور سبز چائے

ہلمند تصویر کے کاپی رائٹ RUHULLAH ROHANI

افغان صوبے ہلمند سے واپسی پر مجھے پوست کے کھیتوں، لڑائی اور نئے محاذِ جنگ کی امید تھی۔ لیکن یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ دشمنوں میں فرق کرنا اتنا مشکل ہو گا۔ بی بی سی افعان سروس کے اولیا اطرافی ہلمند میں اپنی واپسی کی کہانی بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ضلع سنگین کا شدت پسندوں کے قبضے میں جانا حیران کن تھا۔

اس بار ہلمند میں اپنے گھر جانا ایک الگ تجربہ تھا۔ اس دوران چیزیں کافی بدل چکی تھیں۔

آخری بار میں نے ایسی صورت حال 1990 کی دہائی میں دیکھی تھی جب کابل مجاہدین کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

ہلمند پر گذشتہ 15 سالوں سے حکمران جماعت کا کنٹرول رہا ہے لیکن اس سے قبل بعض کمیونسٹ خاندانوں کے زیر انتظام رہنے کے بعد ہلمند پر مجاہدین اور پھر طالبان حکومت کر چکے ہیں۔ تاہم ہلمند اب بھی طالبان، جنگ اور منشیات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

میں نے مارچ میں کابل سے ہلمند جانے کے لیے قندہار کا راستہ اختیار کیا۔ یہ دس گھنٹے کا بہت تھکا دینے والا سفر تھا۔ حالیہ دنوں میں صوبہ ہلمند کا دارالحکومت لشکر گاہ میدان جنگ بنا رہا ہے۔

بس میں سفر کے دوران میں نے طالبان کے ہاتھوں جزوی طور پر تباہ ہونے والے تھانے، چھوٹے پل اور سڑک دیکھی۔

سفر کے دوران یہ سب سے زیادہ خطرناک راستہ تھا۔ یہاں اکثر طالبان حکومتی اہلکاروں کو اغوا کرتے رہے ہیں۔ تاہم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

’طالبان کزن‘

لشکر گاہ طالبان کے محاصرے میں تھا لیکن پھر بھی وہاں کے لوگ پرسکون تھے۔ حکومت کی جانب سے علاقہ خالی کرانے کے لیے آپریشن کے آغاز کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ افغان طالبان دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ایک دن میں کئی بار امریکی اپاچی ہیلی کاپر آسمان پر پرواز کرتے ہیں جس کا ایک مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ طالبان اس شہر پر دوبارہ قابض نہیں ہو پائیں گے۔

طالبان امریکی ہیلی کاپٹروں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، کیونکہ جب 2015 میں انھوں نے صوبہ قندوز پر مختصر دورانیے کے لیے قبضہ کیا تھا تو انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی تھی۔

یہاں مثبت سوچ کے ساتھ رہنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ایک تاجر کا کہنا تھا کہ ’زندگی غیر مستحکم ہے اور لوگ حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں۔ جنگ اتنی قریب ہے کہ جب ہم رات کو سوتے ہیں تو گولیوں کی آوازیں آتی ہیں۔ سفر خطرناک ہے اور اس میں وقت بھی بہت لگتا ہے، بمشکل ہی کوئی سکول کام کر رہا ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔‘

عدم استحکام کے باعث لوگ یہاں سے جا رہے ہیں، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہر کسی بھی وقت حکومت کے ہاتھوں سے نکل کر طالبان کے کنٹرول میں جا سکتا ہے۔

ہلمند کے رہنے والوں میں سے ایک ’طالبان کزن‘ ملا۔

وہاں کے ایک رہائشی نے پر اعتماد انداز میں بتایا کہ ’طالبان نے مجھے کہا ہے کہ سکون سے یہاں رہو۔ انھوں نے کہا جیسے ہی وہ شہر کا کنٹرول حاصل کر لیں گے تو ان کے دوست آ کر میرے گھر پر رہیں گے۔‘

ہلمند میں زیادہ تر سنی پشتونوں کی آبادی ہے لیکن شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بھی خاصی تعداد یہاں مقیم ہے۔

طالبان دیگر اسلامی شدت پسندوں کی طرح شیعوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ تاہم شیعہ عام طور پر حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور ان کے لیے سنیوں کی طرح اتحاد قائم کرنا انتہائی مشکل رہا ہے۔

لشکر گاہ کے علاقے گریشک میں طالبان کے ساتھ نہر سراج اور شہر میں دو طرفہ فائرنگ میں شیعہ درمیان میں گِھر کر رہ گئے۔

مقامی رہائشی خوف زدہ ہیں اور انھیں 1990 کی دہائی میں ہونے والا تشدد اب بھی یاد ہے۔

ضلعی کمیٹی کے ایک رکن مرزا خان نے بتایا کہ ’ایک کمانڈر جسے بغران کا ریئس کہا جاتا تھا، وہ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر گولیاں مارتا اور ان جائیدادوں ہر قبضہ کر لیتا تھا۔ ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے، خاندانوں نے رات کے اندھیرے میں پاکستان اور ایران کی جانب ہجرت کر لی۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں دوبارہ وہی سب نہ ہو جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صرف شیعہ ہی نہیں، کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد کئی برادریوں نے ایسا ہی کچھ اپنے ساتھ بھی ہوتا دیکھا۔ لیکن گریشک میں شیعوں کا کہنا ہے کہ کمانڈر نے انھیں نشانہ بنایا لیکن سنیوں کو جانے دیا۔

طالبان ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب کچھ نہیں۔ جو ہوا وہ یقیناً ذاتی مسائل کی بنیاد پر ہوا ہو گا۔‘

خوف صرف شیعوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ لشکر گاہ میں ابتدائی صفیں شہر کے مغربی حصے پر ہیں۔ میں نے بولان کے علاقے میں سرحد پر پولیس بٹالین کا دورہ کیا۔

یہاں پر اگلا محاذ ایک پرہجوم علاقہ ہے جہاں بچے اب بھی علاقائی کھیل کھیلتے ہیں، لیکن بہت سے مکانات خالی ہیں۔

ہمیں کہا گیا تھا کہ یہاں چند مقامات پر گاڑی تیز رفتاری سے گزارنا ہو گی کیونکہ طالبان گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

کمانڈر جمعہ خان نے کہا کہ ان کے دفتر میں بیٹھ کر چائے پینا بہتر ہے کیونکہ ’اب سے کچھ دیر قبل طالبان نے ہمارے علاقے میں دستی بم پھینکا تھا۔‘

میں نے حیرانی اور خوف سے سوال کیا کہ ’کیا وہ اتنے قریب ہیں؟‘

جمعہ خان نے ’ہاں‘ میں جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’بعض اوقات وہ ہم پر دیوار کی دوسری جانب سے پتھر پھینکتے ہیں۔‘

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو سن بھی سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر یہ ایک دوسرے کو مذاق میں چائے کی دعوت بھی دیتے ہیں لیکن ہر بار یہ دعوت مسترد کر دی جاتی ہے۔

پولیس سٹیشن کی عمارت میں نشانہ بازوں اور نگرانوں کے لیے کئی مقامات پر سوراخ موجود ہیں۔

ان سوراخوں سے دیکھنا کافی مشکل تھا لیکن جب ہم کمانڈر کے آفس میں بیٹھے سبز چائے پی رہے تھے تو ساتھ میں چھوٹے ہتھیاروں سے گولیوں کے تبادلے کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آپس کی لڑائی

بولان کی پہاڑیوں کے جنوب میں ایک سڑک ناد علی اور مارجہ ضلعے کی طرف جاتی ہے۔ ایک مقامی شخص نے ایک ایسے ٹریفک پولیس اہلکار کے بارے میں بتایا جنھیں مخالفین کی چیک پوسٹ پر ڈیوٹی کرتے دیکھا گیا تھا۔

’وہ حکومتی چیک پوائنٹس پر ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے لیکن جب طالبان کی چیک پوسٹ پر حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ انھیں بلوا کر سب معاملات ٹھیک کرواتے ہیں۔‘

مرکزی ہلمند میں حکومت کی حکمت عملی افواج کو جمع کرنے اور متحد کر کے مضبوط صف اول تشکیل دینا ہے۔ لیکن جب تک جنگجو طالبان کے محاصرے سے فارغ ہوں گے تب تک بہت سے غائب ہو چکے ہوں گے۔

بسم اللہ خان نے خبردار کیا ہے کہ ’ہمارے تقریباً 20 ساتھیوں نے ان دور دراز اڈوں پر 200 طالبان کو مصروف رکھا۔ اب طالبان یکجا ہو کر مرکزی گریشک ضلعے پر حملہ کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RUHULLAH ROHANI

قندہار منتقلی؟

دونوں ہی جانب نااتفاقی اور عدم تعاون اب بھی ہلمند کا مسئلہ ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ امریکہ طالبان کو کمزور کرنے میں مخلص نہیں ہے۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ’درجنوں مسلح طالبان مختلف مقامات پر کھلے عام گھومتے رہتے ہیں لیکن امریکی اپاچی انھیں چھوتے تک نہیں۔ اصل لڑائی میں وہ بہت قلیل تعداد کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

تاہم دوسری جانب طالبان میں بھی دھڑے بنے ہوئے ہیں۔ شہر بھر میں منقسم قیادت کی خبریں پھیلی ہوئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قبائلی سیاست اور وسائل کے لیے لڑائی طالبان کے مقاصد پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

بعض تو با اثر طالبان کمانڈروں مہراج اور حاجی عصمت کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کا الزام ہلمند میں طالبان گورنر حاجی منان پر عائد کرتے ہیں۔ ان کے حوالے سے افواہیں ہیں کہ وہ امریکہ کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ ایسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ رواں سال طالبان ہلمند میں دفاعی حکمتِ عملی اختیار کر کے اپنی تمام تر توانائی صرف کر کے قندہار صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اب جو ہو گا وہ تو سامنے آ ہی جائے گا لیکن لشکر گاہ میں موجود لوگوں کے لیے یہ سب چیزیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ رواں سال گذشتہ سال کی نسبت زیادہ پرامن ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں