بھارتی سماج کی ساخت تبدیل کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی: سلمان خورشید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارٹی کی اعلی قیادت میں تبدیلی مخالفین کا خواب ہے

آج بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کے ان حصوں میں اپنی پہنچ بڑھانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جہاں گذشتہ دہائی میں اس کا خاص اثر نہیں تھا جبکہ کانگریس کو کسی طرح کے معجزے کا انتظار ہے۔

پارٹی میں دوبارہ جان پھونکنے کے لیے بہت سے لوگ مشورہ دیتے ہیں، کچھ لوگو ں کا خیال ہے کہ اب پارٹی کا خاتمہ نزدیک ہے۔

ہمیں 'اینٹونی کمیٹی رپورٹ' سے آگے بڑھ کر پارٹی کی پوزیشن کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس رپورٹ نے کافی حد تک قیاس آرائیوں کو ہوا دی گئی ہے لیکن حساس ہونے کی وجہ سے اسے ابھی تک عام نہیں کیا گیا ہے۔

لیکن گجرات، راجستھان اور ہماچل پردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے پیشِ نظر کچھ باتیں بالکل واضح ہیں اور ہمیں جلد ہی پھر سے تیار ہونا ہوگا۔

2014 سے مسلسل شکست کے بعد بھی ہمارے مخالفین کے لیے یہ توقع کرنا ایک خواب کی مانند ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی آئے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہمارا مشکل دور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے رہنماوں کو پارٹی کی حمایت حاصل ہے‘

وہ پارٹی کو نہیں جانتے

گانگریس پر خاندانی سیاست کے الزام لگیں یا لوگوں کو اکسایا جائے، پارٹی کے کارکن اور رہنما پارٹی کے اقدار کو بدنام نہیں کریں گے اور پارٹی کے بڑے رہنماؤں پر ہمارا بھروسہ کم نہیں ہوگا۔ اور جو لوگ یہ نہیں جانتے، چاہے وہ پارٹی کے باہر ہوں یا پھر پارٹی کے اندر، وہ پارٹی کو نہیں جانتے۔

اسے کسی طرح کی آمریت کہنا بچگانہ بات ہے کیونکہ آمریت بغیر طاقت کے نہیں ہوتی اس کے لیے چاہے جو بھی وضاحت دی جائے۔

ہمارا مشکل دور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو پارٹی کی حمایت حاصل ہے یہ دوسروں کا کام نہیں ہے کہ ہمیں 'نجات' کی راہ دکھائیں، خاص کر ہمارے ناقدین۔

لیکن ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ جیسا چل رہا ہے ویسے ہی چلتے رہنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ نظریے کی جنگ ہے‘

نظریے کی جنگ

پارٹی میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے، پردے کے پیچھے کی صحیح لیکن پارٹی میں ناراضی اور اعتراض اٹھائے جاتے ہیں۔ اب ملک کے لیے بھی یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم جلد ہی میدان جنگ میں اترنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

حالانکہ پارٹی کو بہتر بنانے کے آئیڈیا پارٹی سے ہی آنے چاہیئں اور آئیں گے بھی لیکن جب ہم خود کو تیار کر رہے ہوں تو عوام سے رائے لینا بھی سود مند رہے گا۔

ہم میں سے کئی لوگوں کو امید ہے کہ پارٹی کے سینیئر رہنما اس سمت آگے بڑھ رہے ہیں اور کچھ لوگوں کے ذاتی عزائم سے ہم متاثر نہیں ہوں گے۔

اپنا پارٹی کو چھوڑ جانے والے اچھے ’لوگوں کا برا' بن جانے کو ہم 'کھٹے انگور' کہہ کر مسترد کر سکتے ہیں۔

سیاست میں منجھے ہوئے اور سینیئر رہنماؤں کا پالا بدل لینا صرف کانگریس کا ہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اِس دور کی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ تو کیا اس دور میں نظریہ محض سیاست میں رہنے کا ذریعہ بن گیا ہے؟

اور اگر ایسا ہے تو کیا کانگریس کے لیے یہ انتخابات جیتنے سے بڑا چیلنج ہے؟ ویسے الیکشن جیتنے میں وزیر اعظم مودی اور ان سے نزدیکی ساتھی امت شاہ کو مہارت حاصل ہے لیکن ہمارے معاشرے کی ساخت تبدیل کرنے کی ان کی کوشش کی ہمیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ویسے یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ وہ ہمارے ملک کو صحیح سے سمجھ پائے یا نہیں یا پھر وہ کوئی بہت بڑی بھول کر رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP, facebook, arvinder singh lovely
Image caption ریتا بہوگنا جوشی ، ارویندر سنگھ لولی اور جینتی نٹراجن جیسے سینیئر رہنما بی جے پی میں شامل ہو گیِ ہیں

کانگریس کی ناکامی کی کچھ ذاتی یا دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن جو لوگ اس کے لیے پارٹی قیادت میں کسی طرح کی کمی کی دلیل دیتے ہیں وہ یہ بھی بتا دیں کہ ریاست اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور مغربی بنگال میں بایاں محاذ کا کارکردگی کیوں خراب رہی۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ ایک طرف بی جے پی ترقی کے موضوع پر اپنے مخالفین کو شکست دینے کا دعوی کرتی ہے، لیکن ترقی کے معاملے میں ان کا ریکارڈ کچھ اور ہی کہتا ہے جس گجرات ماڈل کی ہر طرف بات ہوتی ہے وہ بھی چتھڑو میں دکھائی دیتا ہے۔

اس کے برعکس ہارنے والی پارٹیوں خاص طور پر کانگریس نے دس سال کے اپنے دورِ حکومت میں کئی اچھے پراجیکٹ شروع کیے۔

ہر متنازع فیصلے پر مخالفین کے بدعنوانی کے الزامات کی منصوبہ بند کوششوں کی وجہ سے ہم شبیہ اور نظریات کی لڑائی میں کافی حد تک پچھڑ گئے۔

اس دوران مودی جی نے گجرات میں 2002 میں ہونے والے فسادات کے بعد ہمارے معاشرے میں فرقہ وارانہ جذبات کا استعمال کیا۔

ہم نے جس طرح سے ان کی باتوں کا جواب دیا اس سے لوگوں کا ہم پر اعتماد کم ہوا کیونکہ مودی نے خود پر اٹھنے والے سوالوں کو ہمارا دوغلاپن کہا۔

ان کے اندھے بھکتوں نے ہم پر سخت رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور ان کے ناقدین کو لگا کہ ہم ڈرپوک ہیں۔

معاشرے میں پولرائزیشن نہ ہونے دینے کے لیے ہم نے جو کوششیں کیں اس سے ہم عوام کی رائے میں دو کشتی پر قدم رکھنے والے بن گئے۔

کانگریس دوبارہ ضرور واپس آئے گی اور وہ بھی انسانیت کے احیا کے ساتھ لیکن افسوس کی بات ہے کہ پارٹی کے اندرکئی لوگوں کو اب خود پر ہی شک ہونے لگا ہے۔

کانگریس کے سابق وزرا اور ریاستی انچارج کا پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونا پریشان کن اور سبق آموز ہے۔

پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں جانے والوں کی وجہ سے کئی کارکن پریشان ہو رہے ہیں اب وقت ہے کہ ان کا حوصلہ بڑھایا جائے۔ہر دھوکے کے پیچھے بے پناہ اعتماد کی کئی کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔

آج ہمیں بھارت کی اقدار، اس کے عوام اور کانگریس پربھروسہ کرنے کی ضرورت ہے جسے ماضی میں ہم سب نے دیکھا ہے ۔

حکمت عملی پر تو کام ہوگا ہی لیکن فی الحال نظریے کو دوبارہ تلاش کرنے اور اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔