انڈیا میں جوڑے کو عریاں کر کے گھمانے پر 18 افراد گرفتار

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی ریاست راجستھان میں ایک جوڑے کو عریاں کر کے گھمانے اور مار پیٹ کرنے کے واقعے میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

راجستھان کے ضلع باسواڑا کے كالجر تھانہ علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں گرفتاری ملزمان میں لڑکی کے والد، چچا اور دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔

انڈیا میں عاشقوں کے خلاف ’اینٹی رومیو‘ سکواڈ

حکام کے مطابق كچرو اور مونیکا نامی نوجوان جوڑے کی محبت کی کہانی دو سال پہلے گجرات میں یومیہ اجرات کے دوران پروان چڑھی۔

دونوں ضلع باسواڑا کے شبھوپرا گاؤں کے رہائشی ہیں لیکن ان دونوں کی برادری مختلف تھی۔

كچرو نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ اپنے ماں باپ سے شادی کی بات کرنے کی ان کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ 'وہ انھیں ماریں گے'، لیکن گھر والوں کو ان کی محبت کے بارے میں خبر ہو گئی۔

پولیس انسپکٹر رویندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی کی شادی کی بات کہیں اور چلانے پر یہ دونوں فرار ہو گئے لیکن ان کے گھر والے انہیں واپس پکڑ لائے۔

مختلف ذات کے ہونے کی وجہ سے اسے گاؤں کی بدنامی سمجھتے ہوئے اور انہیں سزا دینے کے لیے عریاں کرکے گھمایا گیا۔

اس دوران کچھ لوگوں نے ویڈیو بنائی اور اس کے وائرل ہونے پر پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی۔

پولیس انسپکٹر رویندر سنگھ نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد لڑکی کا ناترا( رقم کے عوض شادی) ایک اور نوجوان سے کر دیا گیا۔ اس میں پانچ ہزار روپے لیے گئے اور کل 80 ہزار روپے کا معاہدہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ناترا ایک قبائلی رواج ہے جس میں پیسے کے لین دین کے بعد مرد اور عورت میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔

مونیکا نے بتایا کہ ان کی بھی اپنے ماں باپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔

وہ بتاتی ہیں 'میری مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ میری شادی کون کرے گا؟ پر میں كچرو کے ساتھ رہوں گی۔ اس چھوڑنا نہیں چاہتی۔'

جمعے کو كچرو اور مونیکا کومجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں دفعہ 164 کے تحت مونیکا کا بیان لیا جائے گا اور کچرو کے حق میں تسلی بخش جواب دینے کی صورت میں انھیں اس کے ساتھ جانے کی اجازت مل جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں