احمدی نژاد نااہل، صدر حسن روحانی کا ’مقابلہ قدامت پسند ابراہیم رئیسی سے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آئندہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر حسن روحانی اور قدامت پسند رہنما ابراہیم رئیسی کو حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔

تاہم امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنے والی شوریٰ نگہبان نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی ہے۔

احمدی نژاد کا خامنہ ای کا ’مشورہ‘ ماننے سے انکار

شوریٰ نگہبان جانچ پڑتال کے بعد صدارتی امیدواروں کی حتمی فہرست 27 اپریل کو جاری کرے گی۔

انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 16 سو امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تاہم حکومتی کنٹرول میں شوریٰ نگہباننے صرف چھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اعتدال پسند صدر حسن روحانی اور قدامت پسند رہنما ابراہیم رئیسی کو انتخابات میں اجازت دینے سے ملک میں پائی جانے والی سیاسی تقسیم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ابراہیم رئیسی کی شہرت اہم معاملات پر سخت گیر موقف رکھنا ہے جبکہ افواہیں ہیں کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اعتدال پسند حسن روحانی نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کیا اور ملک کو عالمی تنہائی سے نکالا۔

دوسری جانب آیت اللہ خامنہ ای نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو متنبہ کیا تھا کہ ان کا الیکشن میں حصہ لینا ملک کے مفاد میں نہیں ہے تاہم اس کے باوجود کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وعدے پر اب بھی قائم ہیں کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور وہ صرف اپنے قریبی رفیق سابق نائب صدر حامد بقائی کی حمایت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا تھا کہ'کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رہبر اعلیٰ نے مجھے انتخابات میں حصہ لینے سے مکمل طور پر منع کیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے مشورہ دیا تھا۔'

انھوں نے کہا 'کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رہبر اعلیٰ نے مجھے انتخابات میں حصہ لینے سے مکمل طور پر منع کیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے مشورہ دیا تھا۔'

اسی بارے میں