’کشمیریوں اترپردیش چھوڑو ورنہ۔۔۔`

متنازع پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ Amit Jani
Image caption میرٹھ کے جس علاقے میں یہ ہورڈنگز لگائی گئی تھیں وہاں ایک بڑی یونیورسٹی ہے جس میں بہت سے کشمیری نوجوان پڑھتے ہیں

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے ملحق شمالی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے ان ہورڈنگز کو اتروا دیا ہے جن میں دھمکی بھرے انداز میں کشمیری طلبہ سے کہا گیا تھا کہ وہ ریاست کو چھوڑ دیں۔

اس سے پہلے راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی کے کچھ کشمیری طلبا کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی۔

اس پس منظر میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا 'کشمیری بھی انڈیا کے شہری ہیں اور ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کشمیری بچوں کے ساتھ کوئی کہیں بھی بدسلوکی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر عوام انڈیا سے آزادی چاہتی ہے اور اسی لکے لیے وادی میں تحریک چل رہی ہے

اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں یہ اشتہاری ہورڈ خود کو 'اتر پردیش نو نرمان سینا' کہنے والی ایک غیرمعروف تنظیم کی جانب سے لگائے گئے تھیں جس کے صدر امت جانی کے خلاف پولیس نے نفرت پھیلانے سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

میرٹھ کے ایس پی (سٹی) الوک پریا درشی نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف ایک ہورڈ لگایا گیا تھا جسے اتروا دیا گیا ہے اور امت جانی کے خلاف الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔

ادھر امت جانی کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

امت جانی اس سے پہلے بھی متنازع سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ انھوں نے جے این یو کے طالب علم کنہیا کمار اور خالد عمر کو قتل کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

امت جانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پڑھنے والے کشمیری طلبہ 30 اپریل تک واپس نہیں جاتے تو ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا کیونکہ وہ 'پاکستان نواز اور علیحدگی پسند سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا 'انڈین فوج پر کشمیر میں جس طرح حملے ہو رہے ہیں اور وہاں فوجیوں کے ساتھ جس طرح تشدد کے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں، اس کے خلاف ہم ایک تحریک چلائیں گے اور اس کے تحت ہمارے کارکنوں نے یہ ہورڈنگ لگائے تھے۔'

میرٹھ کے جس علاقے میں یہ ہورڈنگز لگائی گئی تھیں وہاں ایک بڑی یونیورسٹی ہے جس میں بہت سے کشمیری نوجوان پڑھتے ہیں۔

سنہ 2014 میں اس یونیورسٹی نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک کرکٹ میچ کے بعد کشمیری اور غیر کشمیری طلبہ کے درمیان جھگڑے کے بعد 67 کشمیری طلبہ کو معطل کردیا گيا تھا۔

ان نوجوانوں کے خلاف پولیس نے بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کیا تھا لیکن بعد میں یہ الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں