فوجی اڈے پر حملے کے بعد افغانستان کے وزیرِ دفاع اور فوجی سربراہ مستعفی

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملہ آور خود بھی فوجیوں کی وردی میں ملبوس تھے اور انھوں نے نماز پڑھ کر مسجد سے نکلنے والے اور کینٹین جانے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا

افغانستان کے وزیرِ دفاع اور ملک کی برّی فوج کے سربراہ نے طالبان کے حملے میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

100 سے زیادہ افغان فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ جمعے کو مزارِ شریف میں فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔

افغان صدارتی محل کے مطابق فوج کے سربراہ قدم شاہ شہیم اور وزیرِ دفاع عبداللہ حبیبی نے پیر کو اپنے استعفے صدر اشرف غنی کو پیش کیے جنھیں صدر نے قبول کر لیا۔

* افغانستان: فوجی اڈے پر حملے کے بعد ایک روزہ قومی سوگ

* افغان فوجی اڈے پر حملہ، 130 سے زائد ہلاک

چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی نے طارق شاہ بہرامی کو وزراتِ دفاع کا نگران وزیرِ جبکہ شریف یفتلی کو نیا فوجی سربراہ تعینات کیا ہے۔

یاد رہے کہ مزار شریف کے فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد اب بھی واضح نہیں تاہم بعض عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے 165 لاشیں گنی ہیں۔

یہ سنہ 2011 میں طالبان جو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے ان کی جانب سے کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ تھا۔

حملہ آور خود بھی فوجیوں کی وردی میں ملبوس تھے اور انھوں نے نماز پڑھ کر مسجد سے نکلنے والے اور کینٹین جانے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔

حملے کے بعد اتوار کو ملک بھر میں ایک روزہ سوگ بھی منایا گیا۔

مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کور کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں صوبہ قندوز بھی شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس اڈے پر جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی بھی مقیم تھے تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ آیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں