فوجی اڈے پر حملہ: 100 سے زیادہ افغان فوجی ہلاک

فوجے اڈے کے باہر کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طالبان نے فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے

افغانسان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے بلخ میں افغان فوجی اڈے پر ایک حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 100 زیادہ ہو گئی ہے جبکہ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی اڈے میں قائم مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکلنے والے افراد کے علاوہ ایک کینٹین کو بھی نشانہ بنایا۔

ننگرہار: 'بموں کی ماں سے دولت اسلامیہ کے 90 جنگجو ہلاک‘

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئے اور پھر انھوں نے حملہ کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔

افغانستان کے وزارت دفاع نے اب تک اس حملے میں 100 سے زیادہ فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے خود کش بمباروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان جان تھامس نے اس حملے کی سفاکی کو ختم کرنے' میں افغان کمانڈوز کی بھی تعریف کی۔

ایک آرمی کمانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کی شام تک جائے وقوع سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور کم از کم ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

افغان فوج کے ایک ترجمان نصرت اللہ جمشیدی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اڈے میں واقع مسجد اور کنٹین میں فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کارپ کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ حملہ جمعے کو مزار شریف میں ایک فوجی اڈے کی مسجد کے قریب کیا گیا

اطلاعات کے مطابق وہاں جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی مقیم ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں افعانستان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ننگرہار میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم کے حملے میں کم از کم 36 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔

جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو 'بموں کی ماں' کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں