کشمیر: کیا تشدد کی سیاست ناکام ہوئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کشمیریوں پر سیکوریٹی فورسز کے تشدد کے کئی ویڈیوز سامنے آئیں

بھارت کے زیر انتظام کشیمر میں ان دنوں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ریاستی اور وفاقی حکومت کو یہ پتہ ہے کہ یہ خاموشی کسی بھی وقت پھٹ پڑنے والی شدید بے چینی کا پیش خیمہ ہے۔

ایک وقت تھا جب کشمیر کا موسمِ گرما لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ لیکن موسمِ گرما حکومتوں اور سکیورٹی فورسز کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے ایک زبردست چیلنج بن کر آتا ہے۔

اس بار صورتحال پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل نظر آ رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے کشمیر میں ہر گرمیوں میں تشدد، خونریزی اور جبر کی نئی تاریخ لکھی گئی ہے۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کشمیریوں پر سکیورٹی فورسز کے تشدد کی کئی ویڈیوز سامنے آئیں۔ ان میں الیکشن کے دوران الیکشن کی ڈیوٹی کرنے کے بعد واپس لوٹتے ہوئے سیکیورٹی کے بعض جوانوں پر کشمیری نوجوانوں کے حملے کی بھی ایک تصویر سامنے آئی تھی۔ اس حملے میں مسلح سکیورٹی کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل اور ضبط کا ثبوت دیا تھا۔ کشمیری نوجوان انہیں واضح طور پر تشدد کے لیے مشتعل کر رہے تھے۔ لیکن ان اہلکاروں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

لیکن صورتحال ہمیشہ ایسی نہیں ہوتی۔ کشمیر پوری طرح تشدد اور جبر کی گرفت میں ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے کشمیر میں ہر مزاحمت اور مخالفت کو سختی سے کچلنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ کشمیری سنگبازوں اور احتجاجیوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ فوجی جرنیلوں سے لے کر سیاسی رہنما تک پتھراو اور مظاہرہ کرنے والوں کو گولی مارنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ بھارت کے ٹی وی چینلوں پر بحث و مباحثے میں مظاہرین اور سنگبازوں کو جہادی، مذہبی جنونی اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ ان سے سختی سے نمٹنے اور کچلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

میڈیا اوربعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات نے پورے بھارت میں ایسا ماحول تخلیق کیا ہے کہ ہر جگہ کشمیریوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر چل رہی ہے۔ اتر پردیش میں بعض جگہ کشمیریوں کو ریاست سے نکل جانے کے بڑے بڑے بورڈ لگائے گئے ہیں۔ راجستھان میں کشمیری طلبہ پر حملے کیے گئے ہیں۔ کئی دوسری ریاستوں میں بھی کشمیری اس وقت انتہائی مشکل حالات سے دو چار ہیں۔ کشمیر کے بی جے پی کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ کشمیری سنگ بازوں کا واحد علاج گولی ہے۔ بی جے پی کے ایک ایک وفاقی رہمنا نے مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وادی سے کشمیری مسلمانوں کو نکال کر انھیں پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارت کی مرکزی حکومت نے کشمیر میں ہر مزاحمت اور مخالفت کو سختی سے کچلنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے

دوسری جانب کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت برسوں کی تحریک کے بعد بھی کچھ نہ حاصل کر سکنے کے سبب نئی نسل کا اعتماد کھو چکی ہے۔ علیحدگی پسند اس وقت وادی میں اپنی اہمیت، افادیت اور معتبریت سب کھو چکے ہیں۔ وادی کی علیحدگی پسندی کی تحریک اس وقت ایک خود کار مرحلے میں ہے۔ اس کا کوئی رہنما نہیں ہے۔ 1989 میں مسلح تحریک کے بعد سے وادی کے نوجوانوں میں ریاست سے ایسی نفرت اور ببیزاری کبھی نہیں پیدا ہوئی جس شدت سے اس وقت موجود ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کے بے معنی ہونے، اظہار کی آزادی کے سبھی جمہوری راستے بند ہونے اور مزاحمت کو سختی سے کچلنے کی حکومت کی پالیسی نے کشمیر کے بہت سے نوجوانوں کو خودکشی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ حکومت اور علیدگی پسندوں نے کشمیر کو ایک ایسی منزل پر لا کھڑا کیا ہے جس کا مستقبل پوری طرح بے یقینی کی گرفت میں ہے۔

وفاقی حکومت نے کشمیر پر جو پالیسی اختیار کی ہے اس میں بات چیت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔ حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس میں اگر وہ کسی مرحلے پر بات چیت کا آغاز بھی کرنا چاہے تو بات چیت کے لیے مستند فریق بھی نہیں مل سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مبصرین حکومت کو ایک عرصے سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس کی کشمیر پالیسی ناکام ثابت ہو رہی ہے

کشمیر کبھی پرتشدد تحریکوں کے عروج کے دوران بھی اتنا کٹا اور معلق نہیں محسوس ہوا جتنا اس مرحلے پر ہے۔ سرینگر کے ضمنی انتخاب کی ری پولنگ میں محض دو فیصد ووٹ پڑنا عوام کی شدید اجتماعی بے چینی کا عکاس ہے۔ ریاستی حکومت کا کوئی رول نہیں رہا ہے اور لگتا ہے کہ کشمیر تیزی سے گورنر راج کی طرف بڑھ رہا ہے۔

کشمیر پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مبصرین حکومت کو ایک عرصے سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس کی کشمیر پالیسی ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل تشدد، جبر اور ظلم نہیں ہے۔ اسے صرف بات چیت اور جمہوری طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا اطلاق صرف حکومت پر ہی نہیں ان نوجوانوں اور عسکریت پسندوں پر بھی ہوتا ہے جو تشدد، ٹکراؤ اور عسکریت پسندی کے راستے پر چل پڑے ہیں۔

متعلقہ عنوانات