افغانستان: فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد ایک روزہ قومی سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان فوجی ذرائع کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے ہیں

افغانستان میں مزار شریف کے فوجی اڈے پر طالبان کے حملے کے بعد اتوار کو ملک میں ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حملے میں سو سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ شمالی شہر مزار شریف کے فوجی اڈے پر ہونے والا حملہ انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

افغان فوجی اڈہے پر حملہ، 130 سے زائد ہلاک

افغانستان کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی اڈے میں قائم مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکلنے والے افراد کے علاوہ ایک کینٹین کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

بعض زندہ بچ جانے والے متاثرین نے ایسے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں اندر کے لوگوں کی بھی مدد شامل ہوسکتی ہے۔

زخمی ہونے والے ایک فوجی کا کہنا تھا: 'جب ایک حملہ آور بیس کے اندر داخل ہوا تو پھر اس کا مقابلہ کیوں نہیں کیا گیا؟ سکیورٹی کے لیے کوئی ایک برییئر نہیں تھا بلکہ ایسی سات یا آٹھ رکاوٹیں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

افغانستان کی وزارت دفاع نے جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد نہیں بتائی ہے بلکہ ایک بیان میں بس اتنا کہا ہے کہ 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لیکن بعض دوسرے حکام نے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک فوجی کے والد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: 'تین ماہ قبل میں نے اپنے بیٹے کو فوج میں بھیجا تھا، تب سے میں نے اسے دیکھا تک نہیں اور آج انھوں نے ہمیں اس کی باقیات سپرد کی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنیچر کے روز افغان صدر اشرف غنی نے علاقے کا دورہ کیا تھا اور ہسپتال پہنچ کر زخمی ہونے والے متاثرین سے ملاقات کی تھی

سنیچر کے روز افغان صدر اشرف غنی نے علاقے کا دورہ کیا تھا اور ہسپتال پہنچ کر زخمی ہونے والے متاثرین سے ملاقات کی تھی۔

مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کور کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی مقیم ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئے تھے اور پھر انھوں نے حملے کی کارروائی شروع کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ ایک بیان میں طالبان نے کہا تھا کہ ان کے خود کش بمباروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

افغان فوج کے ایک ترجمان نصرت اللہ جمشیدی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے فوجی اڈے میں واقع مسجد اور کنٹین میں فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

ادھر افغانستان میں امریکی فوج کی کمانڈ نے ایک فضائی حملے میں طالبان کمانڈر قاری طیب کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

بیان کہا گیا ہے کہ 17 اپریل کو فضائی کارروائی ہوئی تھی جس میں آٹھ طلبان جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ قاری طیب بھی ہلاک ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں