جموں میں گئو رکشکوں کا حملہ، کمسن بچی سمیت پانچ افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے گئؤ رکشکوں نے مختلف ریاستوں میں متعدد حملے کیے ہیں

انڈیا کے زیر انتطام ریاست جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع میں خود ساختہ گئؤ رکشکوں کے ایک حملے میں آٹھ سالہ بچی سمیت پانچ افراد بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے اس سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات ملنے تک پولیس نے بعض ملزموں کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

یہ واقعہ اس وفت رونما ہوا جب ایک خانہ بدوش بکروال فیملی اپنے مویشیوں کے ساتھ تلوارا علاقے سے گزر رہی تھی۔ بڑی تعداد میں گؤ رکشک راستے میں گھات لگائے بیٹھے تھے اور جیسے ہی بکروال ان کے نزدیک پہنچے وہ ان پر ٹوٹ پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک زخمی خاتون نے بتایا کہ 'حملہ آوروں نے اتنی بری طرح مارا کہ ہمارے بچنے کی امید نہیں تھی۔ وہ ہمیں مار کر دریا میں پھینک دینا چاہتے تھے۔ انھوں نے ہمارے بزرگوں کو بھی نہیں چھوڑا۔'

اس حملے میں ایک دس سالہ بچے کے لاپتہ ہونے کی بھی خبر ہے۔

گئؤ رکشکوں نے آٹھ برس کی سائنہ کو بھی بری طرح مارا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس کی کئی جگہ سے ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ تمام متاثرین کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

گئؤ رکشکوں نے حملے کے بعد بکروالوں کی بکریاں، بھیڑیں، گائے اور دیگر ساز و سامان بھی لوٹ لیا۔ پولیس نے ہفتے کے روز حملہ آوروں کی شناخت کی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ابھی تک چار ملزم گرفتار کیے گئے ہیں اور دیگر حملہ آوروں کی گرفتاری متوقع ہے۔

Image caption دلی کے گئؤ رکشک پون پنڈت لوگوں کو گآئے کی حفاظت کرنے کی تربیت دیتے ہیں

جموں و کشمیر میں خانہ بدوش بکروال قبائل کی بڑی تعداد ہے۔ یہ ہر برس اپنے ہزاروں مویشیوں، گھوڑوں، بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ جموں کے ہمالیائی خطے سے کشمیر کے میدانی چراگاہوں کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں۔

کشمیر کے جموں خطے میں ہندو تنظیمیں برسوں سے سرگرم ہیں لیکن گذشتہ انتخاب میں ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف یہ تنطیمیں زیادہ متحرک اور سرگرم ہو گئی ہیں بلکہ انھیں اب سرکاری سرپرستی اور پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی جماعت بی جے پی کی اتحادی ہے۔ چونکہ جموں میں اس کا کوئی اثر نہیں ہے اور بی جے پی کا اثر جموں تک محدود ہے، اس لیے دونوں جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے کے خطے میں دخل نہ دینے کی ایک غیر رسمی سیاسی مفاہمت جیسی بنی ہوئی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں میں جموں میں فرقہ وارانہ نوعیت کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں